کرکٹ ٹیم اور سلیکٹر

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں پے در پے شکستوں پر شائقین کرکٹ
افسردہ اور پریشان ہیں۔ پریشان یوں ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان خود
دنیائے کرکٹ کے عظیم آل راونڈر رہ چکے ہیں۔ ان کی زیر سرپرستی ٹیم کا حال بدحال
ہونا ہضم نہیں ہورہا۔

شائقین کرکٹ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھا رہے کہ اس ٹیم کو سلیکٹ کن لوگوں نے کیا؟
کیا انہیں آسٹریلیا کی وکٹس اور باؤلنگ کا علم نہیں تھا؟ ہوم گراونڈ پر ان کی کرکٹ کسی
بھی ٹیم کے لیے کبھی آسان ثابت نہیں ہوتی۔ آسٹریلیا اپنی میزبان ٹیموں کو بھی نہیں بخشتی۔
آپ تو ان کے گراونڈز پر کھیلنے گئے تھے۔ کیا لے کر گئے؟ بلند بانگ دعووں کے ساتھ گئے لیکن
مجال ہے جو فائٹ کی ہو۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے لیکن لڑے بغیر ہارنے والوں کو کبھی
کوئی معاف نہیں کرتا۔

https://www.khabarwalay.com/2019/12/02/12406/

سابق فاسٹ باولر شعیب اختر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ “قصور کھیلنے والوں کا نہیں کھیلانے والوں کا ہے”۔
اس چھوٹے سے جملے نے پاکستان کرکٹ کا پورا ڈھانچہ بے نقاب کر دیا ہے۔ اصل زمہ دار اور قصور وار کھلاڑیوں
کو سلیکٹ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے ان میں کیا دیکھا۔ پوری سیریز میں محض ایک آدھ کے سوا کسی بھی
بلےباز سے بلا نہیں سنبھلا۔

بولنگ میں کاٹ نہیں، کمبنیشن کس چیز کو کہتے ہیں اس کا پتہ نہیں۔ حکمت عملی نظر نہیں آئی۔
ان ہی وجوہات کی بنا پر لوگ سوال داغ رہے ہیں کہ آخر ٹیم کی سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟
دورہ سے پہلے مہمان ملک کے گراونڈز، آب و ہوا اور ٹیم کی کارکردگی رپورٹس کو بھی تو مدنظر رکھا جاتا ہو گا؟
یا پھر منہ اٹھا کر چل پڑتے ہیں؟

یہاں تو کسی دوست کے گھر بھی خالی ہاتھ نہیں جاتے کچھ نہ کچھ ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
اس سے محبت بڑھتی ہے۔ یہاں تحفے تحائف کو تیاری کے زمرے میں لیا ہے۔ اس کا مطلب
احساس کرنا ہے کہ ایسے ہی اٹھ کے سوتے میں نہیں چل پڑتے۔ ایک الگ براعظم جا رہے ہیں
اسٹیڈیم میں بیٹھ کے میچ دیکھنے اور تالیاں بجانے نہیں بلکہ وہاں مضبوط ٹیم سے مقابلہ کرنا ہے۔

لیکن ہمارے سلیکٹرز کہیں یا صرف سلیکٹر جنہوں نے اپنے تجربہ کو بھی استعمال نہیں کیا۔
بظاہر ہمیں ٹی 20 ہو یا ٹیسٹ کرکٹ دونوں فارمیٹ میں بدترین شکستوں کے ساتھ شرمندگی کے سوا کچھ
نہیں ملا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں زبوں حالی پر کمنٹیٹرز پر حیران دیکھائی دیے۔
ان سے رہا نہ گیا اور ساتھی کمنٹیٹر وسیم اکرم سے پچھ ہی لیا کہ کیا پاکستان کرکٹ اکیڈیاں
نہیں ہیں؟ وسیم اکرم بھی اس سوال پر چونک گئے انہوں نے یکدم کہا ہاں بالکل ہیں کراچی
اور لاہور دونوں بڑے شہروں میں موجود ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یعنی ان اکیڈمیز کی
زمین بنجر بنا دی گئی جس کی زرخیزی سے اچھی فصلیں تیار ہونی تھیں وہاں بس عہدوں اور
اثر و رسوخ کی بندر بانٹ چل رہی ہیں۔

https://www.khabarwalay.com/2019/11/30/12242/

دورہ آسٹریلیا سے قبل کرکٹ کی بہتری کے لیے مصباح الحق کو الف سے ی تک کی زمہ داریاں
سونپی گئیں۔ انہیں بھرپور مین ڈیٹ دیا گیا۔ یعنی ون مین شو قرار پائے۔ آتے ہی قومی ٹیم کے
لیے کامیابیاں سمیٹنے والے وکٹ کیپر کپتان سرفراز احمد کی چھٹی کردی۔ جسے چاہا اسے ان اور
جسے نہیں چاہا اسے آؤٹ کر دیا۔ سیاہ و سفید کے مالک و خودمختار ہونے کی وجہ سے لیکن اس
کا نتیجہ زلت و رسوائی نکلا۔

ٹیم کی انوکھی سلیکشن پر بھی کچھ لوگوں نے بات کی تھی کہ سلیکشن بہتر نہیں کی گئی
لیکن سلیکشن کرنے والوں کو اپنی سلیکٹ کی ہوئی چیز پر ناز ہوتا ہے۔ وہ کیسے برائی یا تنقید
سن سکتے تھے۔پوری سیریز میں فتح تو درکنار شکست کے ساتھ شرمندگی بھی مقدر بنی۔
اب کوئی خاموش نہیں رہے گا۔ شرمندگی صرف سلیکٹر کی نہیں پوری قوم کی ہوئی ہے۔

شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز سے لے کر اب تو سیاست دان بھی مصباح کے رول پر انگلیاں
اٹھا رہے ہیں۔ سب ہی کی بس ایک ہی اپیل ہے کہ اگر اب بھی ٹیم کی سلیکشن کا طریقہ کار
شفاف نہ بنایا گیا اور درست فیصلے نہ کیے گئے تو ون مین شو کرکٹ کا حال ہاکی سے بھی بدتر کر دے گا۔


شیئر کریں: