پاکستان میں کرکٹ اکیڈمی بیکار ہیں، وسیم

شیئر کریں:

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں پاکستان کی بدترین کارکردگی نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور سرپرستوں پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ برسبین کے بعد ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھی انتہائی ناقص کارکردگی اور بدترین منصوبہ کی وجہ سے مسلسل دوسری اننگز کی شکست کے بادل گہرے ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے دوران کمینٹری کرتے ہوئے سابق آل راونڈر اور کپتان وسیم اکرم بھی پریشان دیکھائی دیے۔ قومی ٹیم کی کلب جیسی ٹیموں اے بھی بدتر کارکردگی دیکھتے ہوئے ساتھی کمینٹیٹر نے جب پاکستان میں کرکٹ اکیڈمیز کی موجودگی سے متعلق سوال کیا تو وسیم اکرم کا کہنا تھا “بالکل اکیڈمی ہیں لیکن بے مصرف ان کا کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا”۔ یہ سب کچھ ماضی کے سپر اسٹار کو کہنے پر مجبور کیا پاکستان کی تیزی سے گرتی ہوئی کرکٹ نے۔ کبھی پاکستان کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں دنیائے کرکٹ کی ٹیموں سے کہیں آگے ہوا کرتا تھا لیکن اب کرکٹ کا حال بھی ہاکی کی طرح کر دیا گیا ہے۔ بڑی بڑی تنخواہوں پر سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کو تو رکھا گیا لیکن اس کا کرکٹ کے ڈھانچہ کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی پہنچ رہا ہے۔ جو کھلاڑی اچھی کارکردگی دیکھائے اسے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ جب اپنے دور میں حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے والے سربراہ ہوں گے تو ٹیم کیسے جارحانہ کھیل پیش کرسکے گی۔


شیئر کریں: