سب مل کر پاگل بنارہے ہیں

شیئر کریں:

تحریر شہریار علی

آج سے چند سال قبل کسی میڈیا والے سے حالات حاضرا پر گفتگو کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا کِلپ وائرل ہوا، جس میں وہ ابتدائی طور پر یہ فرماتی ہیں کہ یہ بِک گئی ہے گورنمنٹ، اب گورنمنٹ میں کچھ نہیں بچا، یہ سب مِل کر ہم کو پاگل بنا رہے ہیں ما*** کہ بچے۔ مختصراً یہ کہ آنٹی برسوں سے چلی آئی ڈھکوسلے بازی اور ملکی مفاد و وغیرہ وغیرہ کہ نام پر چلنے والے ٹرک اور اسکی بتی کہ منجن کو بھی اپنے بے زر انداز میں برہنہ کر گئیں۔
ہماری قوم بھی اس بات کو پَلوُ سے باندھ کر بیٹھ گئی ہے کہ مایوسی کُفر ہے، ہاں بات تو ٹھیک ہے پر یہاں امید کس سے باندھی جائے۔ کبھی ہم اس بات پر صبر کر جائیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا، کبھی ملکی مفاد کے تحت، کبھی اس خاطر کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، کبھی اسلئے کہ ابھی ملک دو لخت ہوا ہے، کبھی ایٹم بم کی خاطر، کبھی افغان جہاد کی خاطر، کبھی قرض اتارنے کی خاطر، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی خاطر، کبھی چین کی شراکت داری سے شروع ہوئے اقتصادی منصوبوں کی خاطر تو کبھی نئے پاکستان و احتساب کی خاطر۔
آج بازار چلے جائو تو ٹھیلے والا ہو یا دکان والا، خریدار کی منت سماجت کرتا دِکھائی دیتا ہے۔ صورت حال اتنی تشویش ناک ہے کہ اکثر پھل فروشوں کی بسماللہ شام کو جا کر ہوتی ہے اس میں بھی وہ صرف دس یا بیس روپے بچاتے ہیں۔ صورت حال بہت تکلیف دہ ہے، اپنی سواری اور گھر دیکھ کر اس بات پر شک ہوتا ہے کہ کہیں ہم نے حرام تو نہیں کما لیا، کسی کا حق تو نہیں مار لیا کیونکہ میں تو کم از کم اس صورت حال میں محنت کش مزدوروں سے آنکھ بھی نہیں مِلا سکتا۔ اوپر سے حکمران اتنے ڈھیٹ ہیں کہ تین سو روپے میں بکنے والے ٹماٹر کی قیمت سترہ روپے، مٹر کی قیمت پانچ روپے اور پٹرول سّتر کا بتا کر لوگوں کی تکلیف و مجبوری کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔
اس سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب ٹی وی پر بیٹھ کر پیرا شوٹ صحافی و تجزیہ نگار غریب و لاچار کو اُسکی بے بسی کا زمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ چند دن قبل ہی اے سی میں بیٹھ کر ایک زمیندار تجزیہ نگار نظام کو گالیاں نکال رہے تھی۔ حضرت جمہوریت کو تو گالی نکال ہی رہے تھے مگر ساتھ میں کوئی متبادل نظام تجویز نہیں کر پا رہے تھے۔ موصوف کو برائی بھی صرف سیاست دانوں میں نظر آئی، کوئی مجبوری ہوگی، حضرت ویسے کراچی کی زبان میں ڈیڑھ ہوشیار ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کو موجودہ قائد اعظم کی سابقہ زوجہ میں فاطمہ جناح نظر آتی تھیں۔یہ تو ٹی وی پر آنے والے نمونوں کا حال ہے جبکہ ملک
موجودہ قائد و خلیفہ کی بات کی جائے تو موصوف کہ پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے سوائے اسکے کہ شرمندگی سی بچنے کے لئے روزانہ مخالفین کے لئے گرم گالیاں و ٹھنڈی جگتیں نکالیں۔ لاہور کہ بے روز گار سافٹ وئیر انجینیر نے موجودہ حکومت کے اوائل میں بے جا تنقید کی تھی کہ چور پکڑ لیے اب ہمیں روٹی دیدو۔۔ مگر حکومت صرف چور پکڑنے کے منجن سے ہی غریب کا پیٹ بھرنے پر بضد ہیں۔
قائد محترم تو آج کل اتنے بپھر گئے ہیں کہ سستی اور ٹھنڈی جُگتیں مار کر خود کو ٹی وی پر آنے والے گیارہ بجے والے پروگرام کہ لیے کچھ حد تک اہل بنا لیا ہے۔ قائد محترم نے مخالفین پر اتنی با ادب تنقید کی کہ اُسکے بعد ان کے چاہنے والوں نے بھی تہزیب یافتہ ہونے کا ثبوت دیا۔
چلیں اجازت دیں تو مجھے کہہ لینے دیں کے حالیہ عدالتی تنازع اٹھا لیں، ایک نا ختم ہونے والا دلچسپ ڈرامہ ہے جس کے کردار اہم لیکن کہانی بے دم ہے۔ لگے پڑے ہیں extension اور reappointment کے جھم بیلوں میں تا حدِ
ِامکان خطرناک سوالوں سے بچتے ہوئے۔ ظاہر ہے گاؤں کے چودھری سے ایک حد تک ہی پوچھا جا سکتا ہے پھر قصّہ مختصر۔۔۔یہ جا اور وہ جا۔
لیکن کیا خوب ٹرک کی بتی ہے کے سب لگے پڑے ہیں۔
خیر۔۔ کاش میرے خاندان میں بھی کوئی آنٹی گورنمنٹ ہوتیں تو کم از کم واٹس ایپ کی خبروں پر یقین کرنے والے میرے پھُپا اور خالو خاندان کی محفلوں میں لمبی لمبی چھوڑنے سے گریز کرتے۔
سمجھ سے بالا ہے، آنٹی گورنمنٹ بظاہر تو ایک سادہ لَو خاتون ہیں البتہ ان کی سیاسی بصیرت و شعور کو سلام ہے کیونکہ ہمارے سِسٹم پہ جو جملے انہوں نے ادا کیے وہ صرف چند الفاظ نہیں بلکہ ہمارا بھونڈا ماضی، حال اور افسوس کہ ساتھ مستقبل بھی یہی ہے۔ آج حکومت، اشرافیہ، میڈیا تمام کہ تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز مہنگائی و اقتصادی ناکامی کہ بجائے پہلے میاں صاحب کی بیماری اور اُن کو کامیابی سے لندن یاترا بھیجنے پر لگا رہا اور اُس کہ بعد آج کل ملک کہ کسی ادارے کہ سربراہ کی ملازمت میں توسیع پر لگا ہوا ہے، اپنے گھریلوُ ملازم سے اس ادارے کہ حوالے سے پوچھا تو کہنے لگا شیروُ بھائی ریلوے یا پوسٹ آفس کا افسر ہوگا، میں ہنس پڑا اور بتایا کہ نہیں بھائی بّری فوج کہ سپہ سالار کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہے، اس وقت ملک نازُک دور سے گزر رہا ہے اور زہین لوگ سمجھتے ہیں ملک کو اُن کی خِدمات کی مزید ضرورت ہے۔۔ اپنے اس جُملے پر میں خود پر بڑا حیران ہوا اور پھر آنٹی گورنمنٹ کہ جُملے میرے زہن میں گونجنے لگے کہ “یہ سب مل کر ہم کو پاگل بنا رہے ہیں م* * کہ بچے”۔


شیئر کریں: