November 19, 2019 at 11:05 pm

ممتازعباس شگری

اس نے میری آنکھوں کے سامنے میری بیٹی کوگولی ماری،ہم پہلے پہل گھرپردستانے بناتے تھے،لیکن خرچ پورانہیں ہوتاتھا،شوہرکے انتقال کے بعدہماری زندگی اجیرن ہوکررہ گئی تھی،ہم کھانے کے لقمے کیلئے ترسنے لگے تھے،اس دارجہاں میں ہماری فریادپرآہ کہنے والاکوئی رحم دل انسان نہیں تھا،پھرمہوش نے نوکری شروع کردی،وہ میری بیٹی نہیں بیٹاتھی،باعزت لڑکیوں کوعزت اپنی جان سے پیاری ہوتی ہے،اس نے اپنی عزت بچاتے ہوئے جان دے دی،ہمیں انصاف چاہیے ہم کچھ نہیں جانتے ہمیں کیاکرناچاہیے کیانہیں،بس ہمیں انصاف چاہیے،یہ الفاظ فیصل آبادبس اڈے پرسکیورٹی گارڈکے ہاتھوں قتل ہونے والی بس ہوسٹس مہوش کی والدہ کے ہیں،مہوش فیصل آبادکے رہائشی تھی،پانچ سال پہلے والدطویل علالت کے بعددنیاسے کوچ کرگئے،گھرمیں کام کاج کرنے اورماں کوپالنے والاکوئی اور نہیں تھا،ابھی انہوں نے آٹھاریوں برس میں قدم رکھاہی تھاگھرکی ساری ذمہ داری اس کے کندوں پرآگئی،کچھ عرصہ گھرپردستانے بنانے کاکام کرتارہالیکن اس سے گھرکے اخراجات پوری نہیں ہوئے۔حالات سے تنگ آکربس میں ہوسٹس کی نوکری کرنے کیلئے کمرکس لیے،والدہ بھی مجبورحالات کے پیش نظراپنی نورچشم کواجازت دینے پرمجبورہوگئی،وہ اپنی ڈیوٹی مکمل کرتے رہے قلیل رقم سے گھرکے اخراجات پوری کرتی رہی،وہ حسب معمول اپنے ڈیوٹی دے رہی تھی،نوجون 2018کی شب ساڑھے آٹھ بجے کے قریب سرگودھاروڈپرواقع بس اڈے پرمعمول کیمطابق مسافروں کی آمدورفت جاری تھی،ملتان کی بس سے آنے والی بس کی ہوسٹس مہوش بھی اپنی ڈیوٹی مکمل کرکے ٹرمینل پراتریں،بعدازاں وہ اپنی والدہ اورماموں سے ملاقات کے بعداپنی ہاسٹل کی جانب بڑھ رہی تھی،ابھی سڑک کے پارکھڑی سیڑھیوں پرچڑھنے والی تھی،ایک شخص نموداراہوااس نے مہوش کاہاتھ پکڑا،جس پروہ احتجاج کرتی رہی،وہ اس کی طرف دیکھنااوربات کرنانہیں چاہتی تھی،اس نے اچانک ہاتھ چھوڑدیا،جیپ سے بندوق نکالی،ایک دم فائرکرکے اسے زخمی کردیا،اوربھاگ نکلامہوش مددکے لیے چیختی رہی،حیوانوں کی بستی میں لوگ سامنے سے دیکھ کربھاگتے رہے کوئی بھی مددکے لیے نہیں آیا،خون بہہ گئی وہ انتقال کرگئی،یہ سارے مناظرسامنے لگے کیمرے میں ریکارڈہوگیا،مہوش کی والدہ رمضانہ کوثرنے ایف آئی آردرج کرالی،پولیس نے تحقیقات شروع کیے۔
مہوش کاقاتل عمردرازکوہستان اسٹاربس پرکام کرتاتھا،وہ مہوش کوپسندکرتاتھااوراس سے شادی کے خواہشمندتھے،وہ دونوں اٹھارہ ماہ سے اکھٹے کام کرتے رہے،عمردازمہوش کوشادی پرمجبورکرتاتھا،لیکن وہ اسے پسندنہیں کرتی تھی،اس کی شکایت انہوں نے اپنے گھراورٹریول ایجنسی والوں کوکی،بالآخروہ اسے تنگ آکرنوکری چھوڑدی،اورالہلال ٹریول سروس کے پاس نوکری کرنے لگی،اس دن بھی وہ ملتان سے واپس آکرسٹاپ سے ہاسٹل جارہی تھی،عمردرازواش روم جارہاتھا،انہوں نے ایک دم مہوش کودیکھ کراس کی طرف بڑھااورہاتھ پکڑلیا،مہوش نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تواس نے گولی چلادی۔واقع کی فوٹیج سوشل میڈیاپرمتعددبارشیئرکی گی،لاکھوں،کروڑوں لوگوں نے دیکھا،پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے زریعے ملزم کوگرفتارکرلیا،انہوں نے اقبال جرم کیا،اب وہ سزابھگت رہے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ہزاروں مہوش ایسے ہیں جوگھرسے کا م کی غرض سے نکلتے ہیں لیکن وہ کسی کی ہوس کانشانہ بن جاتی ہے یاکسی کی گولی کی زدمیں آجاتی ہے،ہم اپنے آپ کواسلام کے پیروکارکہتے ہوئے تھکتے نہیں، لیکن ہماراعمل ہماراکردارہمارااخلاق،ہماررہن سہن،ہمارامزاج،ہمارا انداز جانوروں سے بھی بدترہے،ہمارے معاشر ے میں مائیں،بہنیں محفوظ نہیں،آج جوعورتیں گھرسے کام کی غرض سے نکلتی ہے تویہ ان کی مجبوری ہے،ان کے سرپرایک بوجھ ہے وہ سے ہلکاکرنے کی خاطرگھرسے نکلتے ہوئے کسی کی خدمت گزاری کرتے ہیں،وہ عورتیں اپنی گھروں کی چراغ نہ بجانے کی خاطراپنے ماں کا،اپنے ضعیف باپ کا،اپنے بیٹے کا،اپنی بیٹی کاپیٹ پالنے کے خاطرگھروں سے نکل کردوسروں کی دہلیزپرجاکرکسی آفس میں،کسی گھرمیں یاکسی کے بس میں ہوسٹس بن کرکام کرتی ہے،کیاآپ کواس کااحساس ہے،کیاآپ ان کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں،بالکل نہیں کیوں؟کیونکہ ہم منہ بولے مسلمان ہے،ہمیں مسلمان ہونے کاتمغہ ہمارے والدین نے پلیٹ میں رکھ کردی ہے،لیکن یہ سیکھانابھول گیاکہ معاشرے میں کسی طرح رہناہے،عورتوں کے ساتھ کس طرح کاسلوک کرناچاہیے،ہمارے ہاں ریاست مدینہ میں عورتیں سربازارقتل کی جاتی ہے،اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے،کیاآپ کااسلام یہی درس دیتاہے،کیاآپ کااسلام عورتوں کی عزت پامال کرنے کاسبق سیکھاتاہے،کیاآپ کااسلام سربازارعورتوں کوقتل کرنے کاحکم دیتاہے،آپ المیہ دیکھیں راولپنڈی سے کراچی آنے والی بس میں مسافربس ہوسٹس سے پانی طلب کرتاہے،جب وہ پانی لے کران کی طرف بڑھتی ہے،تووہ اسکی ویڈیوبناناشروع کردیتاہے،بعدازاں اپنے فالورزبڑھانے کی خاطرسوشل میڈیاپراپلوڈکی جاتی ہے،کیااس کے جگے پرآپ کی بہن ہوتی توکیاآپ اسکی بھی ویڈیوبناتی؟افسوس ہم کہنے کومسلمان ہے ہم کہنے کواسلام کے پیروکارہے،لیکن حقیقت میں ہم اسلام کے قابل نہیں۔
آپ المیے پہ المیہ ملاحظہ فرمائیں،ایک مشہورزمانہ بس ایجنسی ایک مسافربھرابس کراچی سے اسلام آبادکیلئے روانہ کرتی ہے،بس چلتی رہتی ہے،مسافرآرام کررہے ہوتے ہیں،بس میں ہوسٹس بھی ہے لیکن انکی سیٹ پرمسافربیٹھانے کی وجہ سے وہ بس میں مسلسل کھڑی سفرکرنے پرمجبورہوتاہے،سات آٹھ گھنٹے کی سفرکے بعدایک خاتون مسافرکوان پرترس آتاہے،بس ڈرائیوراورکنڈیکٹرکوشکایت کرتی ہے،لیکن وہ کوئی دھیان نہیں دیتا،بعدازاں وہ کمپنی کے ہیڈآفس میں کال کرتی ہے،لیکن وہاں سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی،خاتون مسافران سب کی ویڈیوبنارہی ہوتی ہے،وہ ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوجاتی ہے،ہزاروں،لاکھوں افرادکی نظرپڑتی ہے،لیکن ریاست مدینہ کے اندھے حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتے،کیوں؟کیوں کہ ہمار ے اندھے حکمرانوں کوریاست مدینہ کی رٹ لگاناآتاہے،ہمارے ہاں ان بسوں میں خدمات انجام ددینے والی معصوم کلیوں کیلئے کوئی سہولیات میسرنہیں ہے،ہرکوئی ان کوحقارت کی نظرسے دیکھتاہے،چاہے وہ مسافرہویابس مالکان،ہم ان پربری نگاہ ڈالتے ہیں،ہم ایک منٹ کیلئے بھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ آج یہ یہاں پرکام کررہی ہے توشایدان کاوالدنہیں ہوگا،یاان کامجھ جیسابھائی نہیں ہوگاجوبہن کی عزت پامال ہونے سے بچائیں،آج پاکستان میں ہزاروں مہوش بسوں میں زرق حلال کی خاطرخدمات انجام دینے پرمجبورہے،وہ ان قلیل رقم سے اپنے ماں کو،اپنے باپ کو،اپنے بھائی کواوراپنی بہن کوپالتے ہیں،انکی کفالت ان کی ذمے ہوتی ہے،توخداراایک لمحے کیلئے ٹھنڈے دل سے سوچ کران ہزاروں مہوش جیسی کلیوں کی عزت کیاکریں،ناکہ عمردرازبن کران کی عزت کا قتل عام کریں،مقتدراعلیٰ کوبھی چاہیے کہ وہ ایک ایساسسٹم وضع کرے تاکہ ان کی عزت محفوظ رہ سکیں،محکمہ ایکسائزاینڈٹیکسیشن ہربس کی ویڈیوریکارڈنگ ممکن بنائیں،جسے اپنے پاس محفوظ کرلیں،سوشل میڈیاپراپلوڈکی گئی ویڈیوزکودیکھ کرسائبرکرائم ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے،بس مالکان کی بھی ذمہ داری ہے کہ و ہ ان معصوموں کی عزت کاخیال رکھیں،بس کے اندرمسافروں میں آگاہی پھیلانے کیلئے پمفلٹزلگائی جائے جن پرواضح الفاظ میں ہوسٹس کی عزت کے بارے میں چندشپ لکھا ہواہو،ہمارادین،ہماراسلام ہمیں عورتوں کی عزت کرنے کادرس دیتاہے،صرف ریاست مدینہ کی رٹ لگانے کانہیں۔

Facebook Comments