November 19, 2019 at 10:51 am

تحریر فاروق مرزا

ٹانگوں سے معزور پاکستان کا انٹرنیشنل قومی ہیرو جو اپنے خرچ پر مختلف ذرائع استعمال کرتا ہوا لاس ویگاس انٹرنیشنل باڈی بلڈنگ کے مقابلہ میں شامل ہوا۔ باڈی بلڈنگ مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کر کے پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کیا۔اس عظیم ہیرو کے پاس نہ تو رہائش کے لیے لاس ویگس میں کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ ہی واپسی کے ذرائع۔ میں نے قونصل جنرل نیویارک اور کمیونٹی قونصلر کو اس عظیم ہیرو کی کمیونٹی فنڈ سے مالی امداد کی درخواست کی تو ان کا کہنا تھا کہ نوید بٹ کو کہیں وہ تحریری درخواست اپنے دستخط سے بھجوائے۔
ویل چیئر پر بیٹھے نوید بٹ نے اپنے ہاتھ سے درخواست لکھ کر فوراُ بھجوائی جس پر کمیونٹی قونصلر حنیف چنا نے کال کر کے کہا ہم نوید بٹ کی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ میں چند دن میں چارج چھوڑ رہا ہوں میں اس معاملہ میں involve نہیں ہونا چاہتا۔ دوبارہ درخواست کرنے پر کمیونٹی قونصلر نے فون ہی بند کردیا۔
اس صورت حال پر پاکستانی کمیونٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ فضول کاموں کے لیے پیسہ ہے لیکن قومی ہیرو کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ
پاکستانی قونصلیٹ کے پاس اس مقصد کے لیے کمیونٹی فنڈ ہوتا ہے ۔
غیر قانونی تارکین وطن جو پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں ان کے کیسز میں بھی غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی قیدیوں کی نام نہاد داد رسی کے لیے مختلف ریاستوں کی جیلوں کے دورے کیے جاتے ہیں۔ اس پر یقینی سی بات ہے اخراجات بھی آتے ہوں گے اس کا فنڈ قونصلیٹ ہی سے لیا جاتا ہوگا۔
قونصلیٹ کے پاس قاری کو معاوضہ دینے کے ہیسے تو ہیں لیکن قومی ہیرو کے لیے ایک دہلہ بھی نہیں؟۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس عظیم ہیرو کا استقبال قونصل جنرل نیویارک اور ان کے پروٹوکول کا عملہ آفیشلی کرتا اور لاس ویگس کے باڈی بلڈنگ مقابلہ میں سفیر پاکستان خود شریک ہو کر اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرتے لیکن افسوس ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ آخر ہم کب تک اپنے قومی ہیروز کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟ پاکستان میں تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں لیکن دیار غیر میں ملک کا نام روشن کرنے والوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ افسوس صد افسوس۔۔

Facebook Comments