November 17, 2019 at 10:20 pm

تحریر:ندیم رضا

مولانا مولانا اور بس مولانا جی ہاں مولانا کے آزادی مارچ اور دھرنے کا ذکر عام ہے۔ مارچ اور دھرنے کا پارٹ ون یعنی پہلا حصہ پرامن طریقے سے اور کچھ یقین دہائیوں کے ساتھ مکمل ہوا۔
جمعیت علما اسلام کا 27 اکتوبر سے آزادی مارچ شروع ہوا۔ کراچی کے سہراب گوٹھ سے شروع ہونے والا آزادی مارچ سندھ اور پھر پنجاب سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوا۔ اسلام آباد انتظامیہ سے معاہدہ کے تحت آزادی مارچ کے شرکا نے کشمیر ہائی وے کے ساتھ ایچ نائن میں دو ہفتہ تک دھرنا دیے رکھا۔
پارٹ ون میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پیش پیش رہیں لیکن پارٹ ٹو میں ان کا کردار کہیں دیکھائی نہیں دے رہا۔ مسلم لیگ ن نے تو زومعنی خاموشی اختیار رکھی ہوئی ہے۔ ان کے مسائل تو حل ہوتے جارہے ہیں۔ دھرنا پارٹ ون کے وسیلے سے میاں محمد نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک شرائط کے ساتھ روانگی کے معاملے پر تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اسی لیے ن لیگ کی خاموشی بنتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مولانا کے دھرنا “پارٹ ٹو” پر اعتماد میں نہ لیے جانے پر ناخوش دیکھائی دیتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری آزادی مارچ دھرنے کے “پارٹ ٹو پر مولانا کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ گو کہ دھرنا پارٹ ون” سے پیپلز پارٹی بھی فیضیاب ہو چکی لیکن “پارٹ ٹو” پر راہیں بظاہر الگ ہیں۔
“پارٹ ٹو” کے نئے کردار
دھرنا “پارٹ ون” کے کردار “ پارٹ ٹو”میں بدل چکے ہیں۔ جو پہلے کبھی آگے آگے اور کبھی پیچھے ہوا کرتے تھے اب بالکل غائب ہو چکے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جگہ پاکستان مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم پاکستان نے لی ہے۔ چوہدری برادران مسلسل مولانا فضل الرحمن سے رابطوں میں رہے۔ انہی کے مذاکرات کی بدولت دھرنا سیاست کا “پارٹ ون” ختم ہوا۔ چوہدری برادران تحریک انصاف کی حکومت کے دیرینہ اتحادی ہونے کے باوجود مولانا کا خوب ساتھ نبہا رہے ہیں۔ شریف برادران سے شدید اختلافات کے باوجود نواز شریف کی بیماری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے۔ جنرل پاشا کی طرف سے 2010 میں مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کو تحریک انصاف میں شمولیت کرانے کا راز بھی پرویز الہی افشاں کر چکے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چوہدری برادران تحریک انصاف کے ساتھ کس دل کے ساتھ چل رہے ہیں۔
“پارٹ ٹو” میں شامل ہونے والا دوسرا کردار ایم کیو ایم پاکستان ہے۔ ایم کیو ایم حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن کا کردار نبہانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ موقع کی مناسبت اور موسم کی تبدیلی محسوس کرتے ہوئے ایم کیو ایم نے بھی آنکھیں دیکھانی شروع کردی ہیں۔ نواز شریف کی بیماری کے معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما اپنے اتحادی وزرا کے طرز عمل کی تنقید کرتے رہے ہیں۔
آگے چل کر اختر مینگل کی جانب سے بھی مولانا سے ہمدردی کا اظہار متوقع ہے۔ اختر مینگل تحریک انصاف کی حکومت سے وعدوں کی عدم تکمیل پر نالاں دیکھائی دے رہے ہیں۔
دوڑ کے میدان “ریلے ریس” میں جس طرح ایک ایتھلیٹ مخصوص مقام پر پہنچ کر لکڑی دوسرے ایتھلیٹ کے حوالے کرتا ہے وہاں سے اس کا کام ختم اور دوسرے کا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بس اسی طرح کا کھیل پاکستان کی سیاست میں کھیلا جارہا ہے۔ مشن امپوسیبل کی تکمیل کے لیے دھرنا “پارٹ ون” کامیابی سے مکمل ہوچکا اور “پارٹ ٹو” میں نئی کھلاڑی جان ڈال چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے مزید کھلاڑی اس مشن امپوسیبل کی تکمیل کا ایندھن بنیں گے اور آیا یہ مشن موجودہ نظام کی بہتری یا صدارتی نظام کی راہ ہموار کرتا ہے۔

Facebook Comments