November 15, 2019 at 8:19 pm

تحریر ضمیر کاظمی

پنجاب کا ایک اور نوجوان یورپ یاترا کی نظر ہو گیا۔ نوجوان پوری کے چکر میں آدھی کیا زندگی سے بھی گیا۔

معیار تعلیم مساوی اور نہ ہی قانون ایک جیسا،، دیار غیر میں بوڑھی ماں کے حسین خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے پردیس جانے والا ایک اور بیٹا اپنوں کی سنگدلی کے ہاتھوں دم توڑ گیا۔

وزیرآباد کے نواحی گاﺅں عزیز چک کا 22سالہ بلاول انسانی اسمگلر کے جنگل میں جا پھنسا۔ یورپ کے خواہش لے کر سفر پر نکلا۔ جیسے تیسے ترکی پہنچا اور وہاں بیمار پڑ گیا۔ بلاول کی اگلی منزل یونان اور پھر اسپین تھی لیکن بیماری نے اسے ترکی میں ہی جکڑ لیا۔ بلاول کو غیر قانونی ہونے کے باوجود ترکی کی حکومت نے نہ صرف علاج معالجہ کیا بلکہ اس کا وظیفہ بھی جاری رکھا۔ پانچ ماہ موت و حیات کی کشمکش کے بعد ڈاکٹرز نے استنبول میں موجود بلاول کے بھائی بابر کو مشورہ دیا کہ اسے واپس پاکستان لے جائیں۔ شناختی کارڈ نہ ہونے پر گھر والوں نے وزیر آباد سے بلاول کا اندارج پیدائش سرٹیفکیٹ ترکی بھیجا اور بلاول کو ملک کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ اسی بیماری کی حالت میں بلاول پاکستان پہنچ گیا لیکن یہاں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بلاول کو بیمار ہونے کے باوجود تین دن تک عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگوائے اور حراست میں رکھے رکھا۔ بلاول تھانے میں مزید بیمار اور انتہائی لاغر ہو گیا ضمانت کے بعد جب بلاول کو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو دیر ہو چکی تھی اور بوڑھی ماں کے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دینے اور ماں سے زندگی میں ملنے کی حسرت بلاول کے ساتھ ہی پرواز کر گئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ترک حکومت پر کوئی گلہ نہیں انہوں نے غیر قانونی حیثیت کے باوجود بلاول کو انسانی بنیادوں پر قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مفت علاج کیا۔ شکوہ تو اپنوں سے ہے جنہوں نے حالت غیر دیکھ کر بھی قانون قانون کی رٹ لگائے رکھی ۔نوجوان بلاول تو چلا گیا لیکن حکام کے لیے سوال چھوڑ گیا کہ آیا یہاں کا قانون کیا سب کے لیے برابر ہے؟ کون جواب دے گا؟

Facebook Comments