November 15, 2019 at 8:08 pm

تحریر: محمد امنان

دنیا ابتدا سے اب تک اپنے اندر بے شمار تہذیبوں کو سموئے ہوئے ہے روئے زمین پر بسنے والے چرند پرند اور انسان اپنی اپنی تہذیب اور اقدار کے ساتھ ہمہ وقت زندگی کے معاملات اور اس زندگی کی ریل کو کھینچتے آ رہے ہیں اور قیامت تک کھینچتے رہیں گے ان تمام تہذیبوں میں سے سب سے بہترین فی زمانہ جنگل کی تہذیب ہے جس سے شاید پڑھنے والے متفق نہ ہوں مگر موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو جنگل کی تہذیب محفوظ اور خبصورت ترین تہذیب ہے

جنگل کی تہذیب اور ہم انسانوں کی تہذیب اور عادات و اقدار کا موازنہ کریں تو جنگل کا نظام اور جانوروں کی عادات سے جنگل کو نقصان نہیں ہوتا کیونکہ جانور کبھی ہتھیار نہیں بناتے اور انہیں ہمیشہ کی طاقت کے حصول کا نشہ بھی نہیں رہتا جبکہ ہمارے ہاں رواج الٹا ہے ہم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی طاقت کو حاصل کرنے کے ہر جائز و ناجائز عمل کو سرانجام دیتے ہیں اور دوسرے انسانوں کا جینا حرام کرتے آئے ہیں

اب اصل مدعے کی طرف آنا چاہوں گا مملکت خداداد میں ان دنوں بڑی ہی بے چینی اور ایک عجیب سی فضا پائی جا رہی ہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری ہو خواہ وہ امیر ہو یا امیر ہو سب کہ سب ہی پریشان حال ہیں کیونکہ غریب تو کبھی بھی اس ملک میں شمار نہیں کیا گیا سوائے ووٹ کے حصول کے دوران اور پھر سب سے زیادہ کھیل بھی اس غریب کی غریبی کو ڈھال بنا کر کھیلے جاتے ہیں

ٹماٹر مٹر اور سبزی کی دیگر اقسام کی قیمتیں غربت ک لکیر اور اس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی پہنچ سے باہر ہیں اور نااہل اور حقیقت سے نا آشنا وزرا کی فوج ظفر موج ناجانے کس سیارے کی قیمتیں اپنی پریس کانفرنسز میں بتا کر خود کو تسلیاں دے رہے ہیں ہر بندہ پریشان اسلئیے بھی ہے کہ شاید ملک ڈیجیٹل مارشل لا کی ضد میں ہے میں نوے کی دہائی کی پیدائش ہوں میرے ہم عمروں نے مارشل لاز کے حوالہ سے بزرگوں سے سن رکھا ہے یا کتابوں میں کہیں سے پڑھ رکھا ہے یقین سے کہہ سکتا ہوں ان ادوار میں اس قسم کے حالات شاید نہیں تھے

ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس دور جدید میں انفارمیشن کا حصول ہر شہری کا حق بھی ہے اور کوشش بھی لیکن موجودہ نظام حکومت منافقت کے جانے کونسے درجے کو استعمال کر رہا ہے کہ میڈیا اور صحافیوں کی زبان بندی اور انفارمیشن کے پھیلاو کو بڑے ہی طریقے سے مالکان کے ساتھ مک مکا کر کے نہ صرف روکا جا رہا ہے بلکہ سینکڑوں کام کرنے والے صحافیوں کی نوکریاں کھا چکے ہیں اور کھا رہے ہیں لیکن اس صورتحال کے اصل کردار سامنے آتے بھی نہیں اور اپنے مفادات سے پیچھے ہٹنے کو تیار بھی نہیں

ملک کے حالات تو پریشان کن ہیں ہی لیکن یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پریشان کن حالات میں مزاحمتی سوچ اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی شاید اصل کرداروں کے چہروں سے پردے ہٹانے کو بے چین ہیں ڈگریاں ہاتھوں میں لئے فاقہ کشی پر مجبور طبقہ صبر کرو صبر کرو کے سبق سے اب اکتا چکے ہیں موجودہ حکومت نے جتنا نقصان اس ملک کے نوجوان کا کیا ہے پچھلی حکومتوں نے بھی اتنا ہی کیا ہو گا لیکن مجھے سوال پوچھنا ہے اس حکومت اور ملک کے ٹھیکیداروں سے جو حکومت کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ٹویٹ پہ ٹویٹ اور قوما بدلے بغیر ٹکرز چلانے کے حکم صادر کرتے ہیں

ان سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا کیا قصور ہے یا مجھ جیسوں کا کیا قصور ہے آپ نے ہمیشہ سے درپردہ اپنی منتخب کردہ حکومتوں کے ساتھ اپنے مفادات کو مقدم جانا ملک کے نوجوان کو ہمیشہ اکسایا لیکن اب نوجوان اور ان میں شامل میں خود اس گندے کھیل سے اکتا چکے ہیں نوجوانوں میں بغاوت کا عنصر تیزی سے پنپ رہ اہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے

حکومت پہ حکومت کرنے والوں سے سوال کرتا ہے اس ملک کا ہر ایک طبقہ کہ بھائیوں کیوں تم لوگ اس ملک کے ہر ایک معاملے میں کود کر خود کو منظر عام پہ لا رہے ہو اب تو بچہ بچہ چوک چوراہوں مین بیٹھ کر یہ ڈسکس کر رہا ہوتا ہے کہ نظر نہ آنے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے

یہاں ذکر کرنا چاہوں گا کشمیر کا مقبوضہ کشمیر کا خان کی تقریر نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی تھی کشمیریوں کو بڑی ہی امید دلائی گئی لیکن ظلم و ستم سہتے اور دنیا سے کٹے ان مظلوموں کو آج ایک سو سے زائد دن گذر چکے ہیں حکومتی وزرا جو فضل الرحمان کو کشمیر کاز پیچھے دھکیلنے کی وجہ بتا رہے تھے وہ اب بتائیں کہ فضل الرحمان کا دھرنا تو ہو گیا ختم اب مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے کیا حکمت عملی ہے؟؟؟ بھارت نے تو اس ہتھیائے ہوئے حصے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے انتظامی امور بھی سنبھال لئے اور آپ بیان بازی کے سوا چھکو بھی اکھاڑ نہ پائے

ملک کی اکانومی کی من گھڑت خبریں میڈیا کے ذریعے نشر کروائی جا رہی ہیں کہ معیشت مستحکم ہو گئی فلانا ڈھمکانا ہو گیا لیکن اصل صورتحال سے سب نے ایسے آنکھیں موند لیں جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں موند لیتا ہے حالات کس ڈگر پر ہیں ایک عام آدمی سوال پوچھتا ہے اور بڑی ہی شدت سے وہ اس ملک کو لوٹنے اور خراب کرنے والوں کو بے نقاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہے مگر کیسے ہو گا یہ سب یہاں تو کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ستر سال سے اس ملک کی عوام پہ جاری جبر کو مزید ہوا ان سب کی سوچوں پر پابندی لگا کر دی جائے

نوجوان بند گلی میں آ چکے ہیں اور یہاں جنگل کی تہذیب بھی نہیں ہے مزاحمتی موومنٹس کو ہمیشہ طاقت سے روکا گیا سوال پوچھنے والوں کو غائب کر دیا گیا قانون امیروں کے گھر کی لونڈی بن گیا غریب کا بچہ اچھوتوں کی طرح غریب ہی رہا یہاں سہانے خواب دکھا کر اڑنے کو کہا جاتا ہے اور پر نوچ دئیے جاتے ہیں

بہت کچھ کہنا اور پوچھنا چاہتا ہے آج کا نوجوان کہ مجھے اور میری آئیندہ نسلوں کو کیا دیا جا رہا ہے ؟؟؟ قائد کے پاکستان میں یہ کیا ہڑبونگ مچائی جا رہی ہے کہ جس کا جو دل چاہ رہا ہے کر رہا ہے الزام تراشی زبان بندی اور دھمکیوں کے ذریعے مزاحمت کو کیس روکو گے بند گلی میں پہنچنے والے اصل کرداروں کو پہچاننے لگے ہیں

خالی جیب اور سوچوں کے بھنور میں پھنسا نوجوان بغاوت پہ آمادہ ہے طاقت والے ہوش میں آئیں ورنہ یہ نوجوان ایوب کی طرح طاقتوروں کو بند گلی میں گھسیٹیں گے اور نوچیں گے تب شاید جنگل کی تہذیب سے بھی سیکھنے کا موقع نہ ملے یا تو بتایا جائے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے یا کھل کے سامنے آیا جائے نوجوانوں کو اٹھانا ہے تو اٹھا لو مارنا ہے تو مار دو لیکن ذہنی اذیتوں سے دوچار مت کرو نوجوان کا نعرہ لگا کر ووٹ حاصل کرنے والی کٹھ پتلیاں شاید کروڑوں نوکریاں دینے کے وعدے سے مکر گئی ہیں تبھی ان حلقوں سے کوئی آواز نہیں آ رہی

نوجوان ایسا سوچنے لگے ہیں لکھنے والا صرف ترجمان ہے

Facebook Comments