November 15, 2019 at 11:49 am

تحریر عمید اظہر

آسمانی بجلی اونچے بادلوں میں پیدا ہوتی ہے جنہیں کیومولونمبس بادل کہا جاتا ہے۔ آسمانی بجلی (اسٹیٹک الیکٹریسٹی) کی ایک مثال ہے جس کا ہم عام مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر اونی سویٹر یا بالوں سے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا رگڑا جائے تو وہ دھاگے اور کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی جانب کشش کرتا ہے جو (اسٹیٹک الیکٹریسٹی) کی ایک مثال بھی ہے۔
بارش کے دوران بادل میں پانی کے قطرے انتہائی سرد ہو کر برفیلے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور بارش برسنے سے بادل کے اوپری حصے پر مثبت چارج آ جاتا ہے جبکہ بادل کے نچلے حصے پر منفی چارج بنتا ہے۔ جب یہ چارج ایک خاص سطح تک پہنچ جائے تو (اسٹیٹک الیکٹریسٹی) کی وجہ سے بجلی نیچے کی جانب سفر کرتی ہے۔
عموماً بجلی بادل کے اندر، ایک بادل سے دوسرے بادل اور پھر دوسرے بادل سے زمین پر سفر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی کو ظاہری طور پر دو اہم اقسام میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ جب آسمان پر کیمرے کے فلیش کی طرح روشنی دکھائی دے تو اسے (شیٹ لائٹننگ) کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں آسمان پر بجلی ٹیڑھی میڑھی لکیروں کی طرح دکھائی دے تو اسے فورک لائٹننگ کہا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ شاخوں کی طرح کی دراڑ نما آسمانی بجلی بادل سے زمین کی جانب سفر کرتے ہوئے پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتی ہے۔ جب اس طرح کی آسمانی بجلی پیدا ہوتی ہے تو اس کی توانائی سے اطراف کی ہوا بہت گرم ہو کر پھیلتی ہے جس سے ایک زوردار دھماکہ سنائی دیتا ہے جسے بادلوں کی گرج سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
ہماری زمین پر موجود اشیا پر عموماً مثبت چارج ہوتا ہے اور یوں بجلی کا کڑاکا زمین کی جانب لپکنے کی کوشش کرتا ہے جسے زمین پر بجلی گرنا کہتے ہیں۔ اس سے جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے اور لوگ اور جانور جل کر راکھ ہو جاتے ہیں

Facebook Comments