November 12, 2019 at 8:59 pm

تحریر:مظہر ملک

ہم نے قرآن میں کچھ انبیا کے واقعات پڑھے اور علما سے بھی سنا کہ پہلے ادوار میں ہر امت میں ایک گناہ پایا جاتا تھا جس کے خاتمے اور ہدایت کیلئے انبیا آتے ، جو امتیں ان گناہوں سے باز نہیں آتی تھیں ان پر دنیا میں ہی اللہ کا عذاب نازل ہوتا تھا ، اور ہمیں وہ سارے واقعات پہنچائے گئے تاکہ ان سے عبرت حاصل کریں۔

میں سوچتا ہوں کہ ایک گناہ میں ڈوبی امت پہ اللہ نے اتنا بڑا عذاب نازل کئے کہ اقوام تہس نہس ہو گئیں۔ حضرت لوط ؑ کی قوم کی مثال سامنے ہے جو ہم جنس پرست تھے۔ آج بھی وہ خطہ عبرت ناک بنا ہوا ، ہم ایک خوش قسمت امت ہیں کہ جن پر انبیا نے رشک کیا، کیونکہ اللہ پاک نے ہمیں حضرت محمد ﷺکی امت میں پیدا کیا اور انکے وجود کی برکت کے صدقے میں ہمیں دنیا میں عذاب سے محفوظ رکھا۔جس کا ناجائز فائدہ ہم نے اٹھایا اور معاشرے کونئے نئے گناہوں سے آلودہ کر دیا۔

ہم مسلمانوں کے عروج زوال کی کہانیاں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ۔ وقت بدلتا گیا زمانہ ماڈرن ہو گیا، انٹرنیٹ نے اقوام کو بدل کے رکھ دیا۔ سب کچھ سرچ کے آپشن نے بڑے بڑے سورماؤں کو ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیا جس سے انسانیت بھی کانپ اٹھی۔

ان میں قابل ذکرپورن سائٹس کا مسلسل استعمال ، کمرشلز، ڈراموں اور فلموں میں مسلسل فحاشی، عریانی، عشق، بوس و کنار نے نوجوان نسل کے جزبات کو ان کے کنٹرول سے باہر کر دیا۔ نوجوان نسل میں جن کی پہنچ میں سب کچھ تھا انہوں نے اپنی حوس اور خواہشات کو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے رشتوں کے ذریعے پورا کیا۔ اور جن کی پہنچ میں یہ سب نہیں تھا انہوں نے اغوا ، زبردستی ریپ کا سہارا لیا۔

پاکستان میں سفاکیت اس وقت انتہا کو پہنچی جب معصوم بچوں اور بچیوں کے اغوا زیادتی اور پھر قتل کی وارداتیں سامنے آئیں۔ قصور کی ایک بچی(نام نہیں لونگا کیونکہ یہ والدین کیلئے تکلیف دہ ہوگا) کا قصہ سب کو یاد پورا ملک اس واقعہ پہ سوگوار رہا۔اس کے علاوہ قصور میں پہلے ہی بچوں سے زیادتی کے کئی واقعات سامنے آئے ۔

میڈیا میں کچھ حقائق بھی سامنے لائے گئے کہ یہ لوگ معصوم بچوں اور بچیوں کو انتہائی پرتشدد حال میں زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کی آن لائن ویڈیوز پورن سائٹس پہ دیکھائی اور اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔اور اس کے بدلہ میں بہت بھاری رقم کی تقسیم کا ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔

کل ایک اور واقعہ سامنے آیا جب سہیل نامی شخص کو ایک بچے سے زیادتی کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔راولپنڈی پولیس کے سامنے اس شخص نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں کم و بیش 30بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے اور وہ زیادتی کو لائیو ویڈیو پہ دیکھاتا تھا۔ مزید یہ بھی پتہ چلا کہ یہ شخص اکاؤنٹنٹ ہے جو بیرون ملک بھی بچوں سے زیادتی کے جرم میں قید رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ اس کو سزا ہو گی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی سفاکیت اور بے راہ روی کی وجوہات کیا ہیں؟ ایسی کیا وجوہات ہیں جو کسی بھی انسان کو اس اقدام تک پہنچا دیتی ہیں کہ جن کا تصور کرنے سے بھی روح کانپ اٹھے۔چائلڈ پروٹیکشن بیوروز، بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں ، علما ، ماہرین نفسیات، حکومت ان سب کے ہوتے ہوئے مسلسل ایسے جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کیوں؟

میں اپنی سوچ اور تجربہ کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں کرائم کی ایک علیحدہ دنیا ہے اور اس کرائم کی دنیا میں بہت امیر اور طاقتور لوگ حکمرانی کرتے، اور طاقت اور پیسے کا نشہ ایسا نشہ ہے جو انسان کو انسانیت سے گرا دیتا ہے۔ یہ دنیا ہماری معصوم دنیا سے اپنے کام کے مطابق کارندے خریدتی ہے ۔ جس کی مثال میں یوں دونگا کہ پاکستان میں ہیومن ٹریفیکنگ(انسانی اسمگلنگ) کا گھناؤنا کام کئی بار بے نقاب ہوا۔ جس میں بچے بچیاں، جوان لڑکیاں دنیا کے مختلف حصوں میں جنسی تسکین کیلئے سپلائی کی جاتی ہیں۔

اس پر مزید اگر کسی نے تحقیق کرنی ہے تو بہت زیادہ فلمز ڈرامے اور ڈاکومنٹریز دیکھ سکتے ہیں۔ اب یہ پہلو انتہائی خطرناک اسلئے ہے کہ اس میں کئی طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ادارے جب بھی حرکت میں آتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں تو ان کے ہاتھ چھوٹے موٹے کارندے ہی لگتے ہیں۔ اس کی مثال میں یوں دونگا

اسلامی نقطہ نظر سے اگر کسی کنویں میں کوئی حرام جانور گر جائے تو حکم ہے کہ پہلے جانور کو نکالیں پھر ہر جانور کے حساب سے علیحدہ علیحدہ حکم ہے کہ مختص ڈول پانی نکالیں تو کنویں کا پانی پاک ہو جاتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے پانی تو نکال لیتے ہیں مگر کتا(حرام جانور) کنویں میں رہ جاتا ہے۔ اس کیلئے سب سے اہم یہ ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر سنجیدگی سے آپریشن شروع کرے ، بارڈر کو محفوظ بنا کے طاقتور لوگ سامنے لائیں۔

اب دوسرا پہلو سامنے لاتے ہیں۔ ان طاقتور لوگوں کو ایسے کارندے مل کیسے جاتے۔ اس کی مثال یوں دونگا کہ کسی بھوکے کے آگے اس کی من پسند کی چیز رکھ دیں اور حکم بھی دیں کہ اس کو کھانا نہیں۔ یا پھر کسی پیاسے کے سامنے ایک بہترین شربت رکھ کے اسے پینے سے بھی روکیں تو ممکن نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان میں خواہشات قدرتی طور پر موجود ہیں اس صورت میں پورن سائٹس ، برہنہ تصاویراور ویڈیوز، ٹی وی پہ بوس و کنار کے مناظر ، محبت اور عشق کی داستانیں شر عام دیکھائیں جائیں تو کیا بعید ہے کہ پورے معاشرے پہ اس کے اثرات نہیں ہونگے۔

اسلام توسگے جوان بہن بھائی کو ایک کمرے میں اکیلے سونے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو منع کرتا ہے کہ جب بیٹی جوان ہونے لگے تو اسے گلے لگا کر کوئی بھی مرد زیادہ پیار نہ دے اور کسی جوان ہونے والے لڑکے کو کوئی خاتون ایسے پیار نہ کرے۔ اسلام فطرت کا دین ہے، کیسے انکار کریں گے کہ یہ سب دیکھا کر دوسری طرف اس انسان کو اسلامی اور معاشرتی طور پر روک دیا جائے؟ظاہر ہے ایک طرف بڑھتی خواہشات اور دوسری جانب قانون معاشرے کاڈر تو نتیجہ کیا ہوگا یہ اندازہ خود لگائیں۔

اب اس کا حل جو اسلام کہتا ہے وہ شادی کا رواج عام کرنا ہے۔ اور دوسرا فحش مواد پر پابندی سے ممکن ہے۔ نہیں تو کم از کم اس کا کم سے کم استعمال اور اس کے برے اثرات سے آگاہی تب سے ہی شروع کریں جب سے آپ اپنے بچے کو اس انٹرنیٹ کی عادت ڈالتے ہیں، ہر کلاس میں اس کے اثرات کے حوالے سےمضمون شامل کریں ۔جانتاہوں میری تحریر لبرلز کو ہضم نہیں ہونی مگر جو حقائق ہیں وہ سامنے ہیں۔اور معاشرہ بھگت رہا ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ لوگ اپنے بچوں کے حوالے سے خوفزدہ ہیں

تعارف:مظہر ملک گزشتہ ایک دہائی سے شعبہ صحافت اور تدریس سے منسلک ہیں۔اپنی صحافی ذمہ داریوں کے تحت سیاست اور معاشرتی مسائل پہ گہری نظر رکھتے ہیں
Twitter and Facebook: @mazharhoceyn

Facebook Comments