November 10, 2019 at 5:44 pm

تحریر محمد شجاع الدین

ہر فاتح اپنے مفتوح کیساتھ ایسا ہی کرتا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی واضح دلیل ہے ۔ فارسی کی ایک کہاوت کیمطابق زندہ وہی رہتا ہے جو گرگ باراں دید کہلاتا ہے ۔ سخت جاڑے کی راتوں میں زندگی بچانے کیلئے کسی اندھیرے غار میں دبکے بھیڑیئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کی نبض ٹٹولتے رہتے ہیں ۔ جسم اکڑا دینے والی خنکی ، بھوک کے مارے پیدا ہونیوالی نقاہت اور موت کی خبر لاتی غنودگی میں جب پتلیاں سکڑنے لگیں ، چمک موند پڑنے لگے ، کسی ایک کے پاوں ڈگمگا جائیں تو دوسرے پلک جھپکنے میں اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک کو مار کھانے والوں میں سے جو بچ رہتا ہے گرگ باراں دید کہلاتا ہے ۔ جنگل کی دنیا سے باہر نکلیں اور انسانوں کے مہذب معاشروں پر نظر دوڑائیں تو نہتے اور بیگناہ لوگوں کو تہہ تیغ کرنیوالا ہی ہلاکو خان ، چنگیز خان یا پھر سکندر اعظم کہلاتا ہے ۔ منطق کی رو سے اگرچہ ایسے فاتحین اور بھیڑیوں میں کوئی فرق نہیں تاہم انسان اور حیوان کے القابات کی حرمت کا خیال مانع ہے ۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندووں کے حوالے کر دی اور مودی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیدیا ۔ پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے ۔ جسٹس ایس عبدالنذیر کی اسلام سے رغبت پر انگلی اٹھانے کا حق نہیں بنتا مگر قیاس ہے کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز کس نے سنی ہو گی ۔ عدالتی فیصلے میں ایک عجیب منطق گھڑی گئی کہ بابری مسجد کی جگہ مندر نہ بنایا گیا تو مودی سرکار بھی نہیں رہے گی ۔ انصاف جب حکومتوں کے رہنے یا نہ رہنے کی ضمانت سے مشروط ہو جائے تو پھر خدا کی پناہ ۔ 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے 16ویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے یوں تو مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا بھی حکم دیا لیکن بات زمین کے ٹکڑے کی نہیں ۔ حصول انصاف کی ہے ۔ یاد رہے کہ جب کوئی فرد یا قوم کمزور ہو جائے تو پھر بالترتیب اس گھر یا ملک پر نحوست کے سائے ڈیرے ڈال لیتے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ آرائی سے پہلے ہمیں مسلم دنیا کی طاقت کا اندازہ لگا لینا چاہیئے ۔

بزرگ بتاتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی تاریخ دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ حضور اکرم کی حیات طیبہ کا احاطہ کرتا ہے ، دوسرا آج تک کے کلمہ گو مسلمانوں کے اعمال کو ضبط تحریر میں لاتا ہے ۔ اسلامی دنیا کی ابتدائی تاریخ میں انصاف اور اس کے حصول کی درخشاں مثالیں موجود ہیں ۔ حہاں جاہ و منصب کے بجائے حب دین کا دور دورہ ، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عملدرآمد اور سیرت نبی ، جامع نمونہ حیات نظر آتی ہے ۔ بعد کی معلوم تاریخ میں جہاں فتوحات کے قطار اندر قطار واقعات رقم ہیں وہیں غلام گردشوں میں جنم لینے والی محلاتی سازشوں کی بہت سی متنازعہ فیہ داستانوں کا ذکر بھی ملتا ہے تاہم ان پر بات اس لئے نہیں کی جا سکتی کہ اپنی اوقات سے بڑی بزرگ ہستیوں کے احترام میں خاموش رہنا لازم ہے ۔ افسوس آج کی تاریخ نے یہ دن دکھائے کہ رفتہ رفتہ روبہ زوال ہوتی مبنی بر انصاف اسلامی تعلیمات و اخلاقیات نے کئی برادر اسلامی ملکوں کیطرح پاکستان کو بھی مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا ہے ۔

تاریخ کے جھروکوں سے دیکھیں تو محمد عربی سپہ سالار ہیں ، لشکر میں صدیق اکبر ، عمر فاروق ، عثمان غنی ، علی ابن طالب ، خالد بن ولید ، ابو عبیدہ بن جراح ، سعد بن ابی وقاص ، عبدالرحمن بن عوف ، عمرو بن عاص ، جعفر بن ابی طالب اور سینکڑوں شاہسوار نظر آتے ہیں ۔ ایسے میں کامیابی قدم کیوں نہ چومتی ۔ یوں تو اسلامی فتوحات کا آغاز 7 ویں صدی میں حضرت محمد ﷺ کے اظہار نبوت کے بعد سے شروع ہو گیا تھا ۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی دنیا پھیلتی چلی گئی ۔

سرحدیں عرب صحرا سے نکل کر ہندوستان ،چین، وسطی ایشیا ،مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے تک پھیل گئیں ۔ مدینہ کی چھوٹی سی ریاست نے سُرعت کے ساتھ پھیل کر مراکش سے ہند اور یمن سے فرانس کی سرحدوں کو چھو لیا۔ مسلمان حکمرانوں کی طویل فہرست میں صلاح الدین ایوبی ، ٹیپو سلطان ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، غوری ، خاندان غلاماں ، خلجی ، تغلق ، سید ، لودھی ، سوری ، مغل اورپھرسلطنت عثمانیہ کا اقتدار صدیوں تک رہا ۔
یونانیوں، ایرانیوں ،رومیوں کی کامیابی کے مقابلے میں مسلمان حکمرانوں کے پاس کتاب مبین قرآن مجید اوراسوہ حسنہ کی حکمت کار فرما رہی جو اسوقت تک کارآمد رہی جب تک ان پر ان کی اصل روح کیمطابق عمل کیا جاتا رہا ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ گئے وقتوں کے مسلمانوں نے مادی ترقی تو کی لیکن اپنی رعایا کو روحانی طور پرمتاثر نہ کر سکے ۔ مسلمان فاتحین نے زمینیں فتخ کیں ، رعایا کے دل نہ جیت سکے کیونکہ ہر دور کی مسلمان حکومت میں ملا تو پیدا ہوتے رہے ، صوفی ناپید ہو گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ کرہ ارض پر پھیلی حکمرانی ٹکڑیوں میں بٹ گئی ،، رہے نام اللہ کا ۔

Facebook Comments