November 10, 2019 at 5:51 pm

اسلام آباد میں جمعیت علما اسلام کے دھرنے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات پر میٹرو بس سروس 31 اکتوبر سے بند ہے۔ غیر ضروری بندش کے وجہ سے جہاں راوالپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرنے والے لوگ متاثر ہو رہے ہیں وہیں میٹرو سروس کو روزانہ کی بنیاد پر 35 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
گیارہ دن کی بندش کی وجہ سے میٹرو بس کو اب تک تقریباً چار کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ آزادی مارچ سے ایک دن قبل اکتیس اکتوبر کو میٹرو بس سروس بند کر دی گئی تھی۔ میٹرو انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام میں روزانہ ایک لاکھ سے زائد افراد میٹرو سے سفر کرتے تھے۔ میٹرو کا کرایہ دونوں شہروں کے درمیان چلنے والی ویگنوں سے نسبتا کم ہے۔ سروس کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو اضافی کرایہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پریشانی کا سامنا ہے۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی طرف سے میٹرو کی بندش کے بعد مری روڈ پر مریر چوک سے فیض آباد تک چلنے والی ٹیکسیوں نے بھی کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ دھرنے کے شرکا انتہائی پرامن طریقے سے بیٹھے پیں۔ انہوں نے ایک پتھر تک کسی کو نہیں مارا۔ درخت بھی اپنی جگہ لگے ہیں تو ایسے میں دھرنے کو جواز بنا کر میٹرو بند کرنا شہریوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ کے یو آئی کے رہنما عبدالغفور حیدری بھی میٹرو بس سروس کھولنے کی اپیل کر چکے ہیں۔

Facebook Comments