November 10, 2019 at 2:36 pm

تحریر محمد یوسف خان

خاتم المرسلین رحمۃالعالمین۔شفیع المذنبین ، سراج السالکین ،محبوب رب العالمین۔جناب صادق و امین جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والیہ وسلم12  ربیع الاول کو صبح صادق اس جہاں میں تشریف لائے ۔حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والیہ وسلم کی پیدائش عرب میں ہوئی جو سب سے زیادہ جاہلیت میں  ڈوبا ہوا تھا۔ حضور  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد عرب میں ایک انقلاب سا آگیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی رسول جو تمام نبیوں سے افضل واعلی ہیں جو دنیا میں بے سہاروں، غم کے ماروں،دکھیاروں۔دل فگاروں۔اور دَر دَرکی ٹھوکریں کھانے والوں کے سہارا بنے۔ 
ماہ ربیع الاول کیا آتا ہے جیسے موسم میں  بہار سا آجاتا ہے ہر مسلمان کےدل میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بوڑھا ہو یا جوان سب ہی کی زبان پر ایک ہی نعرا ہوتا ہے ۔

سرکار کی آمد مرحبا              رسول کی آمد مرحبا

سردار کی آمد مرحبا              مرحبا یا  مصطفی

کیابچے ،کیا بوڑھے ،کیا جوان سب فکروعُسرت کو بھول کر جشن منانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ہرلب پرمرحبا یا مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صدائیں ہوتی ہیں۔ گھروں اور مسجدوں میں لوگ کثرت سے عبادت،نوافل اور قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺکی مبارک زندگی میں عفو و درگزر ،رحم و کرم، محبت و شفقت اورپیار ہی پیارنظر آتاہے۔آپﷺنے پوری زندگی کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔کسی پر ہاتھ نہیں اٹھا یا ۔ کسی کو برابھلا نہیں کہا ۔  اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے ان تمام دشمنوں کو معاف فرمادیا جنھوں نے چند ماہ نہیں متواتر 13سال تک مکہ میں آپﷺ  پراور آپ ﷺ کے صحا بہ کرامؓ پر عرصۂ حیات تنگ کررکھا ۔طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے اور آپﷺ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا تھالیکن جب مکہ فتح ہوتا ہے تو نبی کریمﷺہزاروں جانثار صحا بہ کرام ؓ کے جلو میں حمد باریٔ تعالیٰ کی نغمہ سرائی کرتے ہوئے سرزمینِ حرم میں داخل ہوتے ہیں ۔سب سے  پہلے بیت اللہ شریف تشریف لاتے ہیں،دوگانہ نماز ادا کرتے ہیں،اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں، صحنِ حرم دشمنانِ اسلام سے بھرا ہوا ہے۔  وہ سراسیمہ اور خوفزدہ ہیں کہ آ ج ہمارے تمام اگلے پچھلے برے کرتوتوں کا حساب کتاب چکایا جائیگا کہ اچانک آواز بلند ہوتی ہے:
    ’’ اے قریش کے لوگو!تم  سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘
اسلامی سال میں یوں تو سب ہی مہینے باعث برکت ہیں لیکن اپنی اپنی جگہ ہر مہینہ اپنے دنوں کے  باعث  سے عبادات, التجائے شفاعت, اورقربانی کادرس لئے ہوئے ہے۔ لیکن ایک مہینہ ایسا بھی ہے جس میں ایسی ہستی کی آمد ہوئی جس کے صدقے  ہمیں یہ تمام مہینے ملے ۔وہ ماہ ربیع الاول کا ہے۔
اس مہینے کو ربیع الاول،ربیع النور،ماہ نوراور ماہ جشن ولادت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والیہ وسلم جیسے ناموں سے پکارا جاتاہے کیونکہ اسی مہینے کی ١٢ تاریخ کو سرکار مکہ و مدینہ، راحت و قلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ عشاق رسول اس دن کو بڑے ادب و احترام کے ساتھ مناتے ہیں اورہر طر ف جشن ولادت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والیہ وسلم کا سماء ہوتا ہے ۔

Facebook Comments