November 9, 2019 at 8:59 pm

تحریر:مظہر ملک

حقیقت پہ مبننی کہانی مگر کرداروں کے نام اخلاقی طور پہ مخفی رکھے جارہے کیونکہ تحریر کا مقصد اصلاح ہے ناکہ کسی کی کردارکشی۔۔۔
پڑھائی کا ذکر نہ کریں تو اس کے دو ہی شوق تھے ، ایک طرف تو ڈراموں کی دیوانی تھی اور دوسرا سوشل میڈیا پہ مکمل طور پر ایک ماڈل اور اداکارہ لگتی تھی۔ وہ ناروال کے رہنے والے تھے مگر والد 14سکیل کے سرکاری ملازم تھے تو اسلام آباد میں سرکاری مکان میں رہتے تھے۔ والدہ بھی سکول ٹیچر تھیں ۔ 2 بھائی تھے جو چھوٹے تھے۔
والدین زیادہ تر مصروف رہتے ، وہ ایک نجی یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ تھی۔ پڑھائی میں بس پاس ہوجانے کو ہی نعمت جانتی تھی۔ گھر ۤآتی تو بھائی ٹیوشن چلے جاتے پھر کھیلنے اس طرح بھائیوں سے دوستی کم اور لڑائی زیادہ رہتی ، والدہ بھی اسے کچن میں یاد کرتی ، جب کھانا بنانا اور اور برتن دھونے کا وقت آتا۔ اور والد دفتر سے آنے کے بعد زیادہ تر دوستوں کی طرف نکل جاتے اور پھر رات کو آکے تھوڑی دیر ٹی وی اور پھر نیند۔۔ان کو اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ بیٹی جوان ہونے کے ساتھ ساتھ کئی خواب آنکھوں میں سجانے لگ گئی ہے۔
ادھر یونیورسٹی میں اس کا دل پڑھائی سے زیادہ اپنی کلاس کے ایک لڑکا میں زیادہ لگتا تھا، دونوں کی جان پہچان دوسرے سمسٹر میں ہوئی تھی، کافی ٹائم ایک گروپ میں رہنے سے بات دوستی تک جا پہنچی تھی اور پھر دوستی سے معاملہ بہت آگے نکل چکا تھا، لڑکا ایک لوکل سیاسی جماعت کے ونگ سے تعلق رکھتا تھا، لڑکا نے ایک سال میں لڑکی پہ اعتبار بنا لیا تھا۔ دونوں باہر گھومنے بھی جاتے کھانا پینا گھومنا سب چل رہا تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ لڑکا آئس نشہ کا عادی تھا اور صرف وہ ہی نہیں ان کا پورا گروپ اس نشہ میں غرق تھا ، وہ اس سے بے خبر تھی۔ اب کیونکہ وہ مکمل طور پر اس کے پیار میں کھو چکی تھی، اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کس دنیا میں جا رہی۔ اس کو اداکاری کا بھی شوق تھا ، اس لڑکا نے اسے اپنے ہی ایک دوست (ایک ڈرامہ سیریل کا پروڈیوسر بتا کے) سے ملوایا ، پہلی بار تھا کہ وہ ایک ماڈل بننے کے چکر میں اپنا فوٹو شوٹ کروا رہی تھی۔ جتنی بھی ماڈرن اور فیشن کو پسند کرنے والی تھی مگر اس نے کبھی ان سوالوں کا سامنا نہیں کیا تھا جو اس سے اس وقت پوچھے جا رہے تھے۔
پہلی بار وہ اندر سے ڈری ہوئی تھی، اس نے واپسی پہ اس لڑکا سے ذکر کیا مگر وہ باتوں میں بہت تیز تھا ، اسے خیالی مستقبل کے خواب دیکھانا شروع کر دیئے۔شونو سے جانو اور دل سے جان کے سفر نے اسے پان سے سگریٹ ، پھر شیشہ سے آئس نشہ تک پہنچا دیا تھا۔ آخری سال تھا اب وہ اس رشتہ کو شادی میں باندھنا چاہتی تھی اور وہ اپنے رنگ دکھا رہا تھا۔ اس نے اس کے ساتھ 2سال گزار لئے تھے ، کوئی پردہ باقی نہیں رہا تھا۔ اور لڑکی ظاہر ہے یہ سب نہ تو کسی سے شیئر کر سکتی تھی اور نہ ہی کسی اور کیلئے سوچ سکتی تھی۔
لڑکی نے چار ماہ تک اس لڑکے سے ضد کی کہ وہ اپنے گھر والوں کو رشتہ کیلئے بھیجیں مگر اس کی ایک ہی ضد کہ ابھی کون سی جلدی بہت عمر پڑی ، کر لیں گے جب ٹائم آئے گا، ابھی میں مالیاتی طور پر سیٹ نہیں۔ جب سے اس لڑکی نے شادی کی ضد لگائی تھی وہ زیادہ تر دوسری لڑکیوں سے بات کرتا اور اسے محسوس کرواتا کہ وہ اسے اگنور کر رہا ہے۔
اس کے چڑچڑے پن اور آئس نشہ کی عادت نے اسے برتاؤ میں بدتمیز بنا دیا تھا۔ اکھڑے مزاج کی وجہ سے اس سے کوئی لڑکی دوستی نہیں کرتی تھی۔ اور گھر والے بھی اس مزاج کی وجہ سے شدید پریشان تھے۔ اس کا حل گھر والوں نے نکالا کہ اس کی شادی کر دی جائے اور پھر والدین نے اس کے رشتے دیکھنے شروع کر دیئے۔
اس نے اس لڑکا سے بہت ضد کی کہ میرے گھر والے اب میرا رشتہ طے کرنے لگے ہیں اب تو بھیج دو مگر اب کی بار اس نے اسے سب کے بیچ یہ کہتے ہوئے ذلیل کر دیا کہ تم نے سوچ کیسے لیا تھا کہ میں تم سے شادی کرونگا۔ اور جو کچھ بولا وہ الفاظ میں اس تحریر کا حصہ نہیں بنا سکتا۔ بس اتنا تھا کہ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ گھر لوٹی تو کئی روز گم سم۔۔ماں سمجھ چکی تھیں مگر اب کیا فائدہ تھا ماں کو تو بیٹی سے دوستی پہلے دن سے ہی کرنی چاہئے تھی کہ وہ ماں سے اپنی ہر بات شیئر کرتی۔
اس کے والدین نے اس کی خالہ کے بیٹے کے ساتھ رشتہ طے کر دیا جو سعودی عرب میں پرائیویٹ نوکری کرتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ وہ اسے سب سے زیادہ ناپسند کرتی تھی۔مگر اب کی بار اس صدمے میں بس کچھ کہہ نا سکی۔ وقت گزرتا گیا۔ کلاس فیلو سب ڈگری مکمل کر گئے،مگر اس کے کچھ مضامین فیل تھے اور اس کی شادی کر دی گئی۔
شادی کے کچھ ہفتے تو دعوتوں اور گھومنے میں گزر گئے،نمبر تبدیل ،سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے تھے ،مگر یہ خوشی اسے کہاں راس آنی تھی۔ وہ نشے کی عادی تھی اور نشہ ظاہر ہے اسے صرف وہی لا کے دے سکتا تھا۔ مرتی کیا نا کرتی رابطہ کرنا پڑا ۔ اور آگے سے وہی اس گندے معاشرے کا ایک کیڑا تھا پہلی شرط ملنے اور جسمانی رشتہ پھر سے جاری رکھنے کی تھی۔ مگر اب وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ پھر سے نمبر اس کے پاس جا چکا تھا۔
اب وہ مسلسل اسے بلیک میل کر رہا تھا کہ وہ اس کی تصاویر اورسارا کچھ اس کے سسرال تک پہنچا دے گا۔ ایک دن اس نے میکے جا کے اس سے ملنے کا کہا اور اس شرط پہ راضی ہوئی کہ اس ملاقات کے بعد وہ اس کی شادی شدہ لائف میں کوئی مسئلہ نہیں کرے گا۔ خیر ایسے معاملات کہاں چھپتے، سب معاملات اس کے شوہر تک جا پہنچے۔ اور اس کی شادی کے آٹھ ماہ بعد ہی مار دھاڑ طعنے شروع ہوگئے۔ ایک وہ نشہ کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار تھی اور دوسرا اس گھر کے ماحول نے اسے پاگل کر دیا تھا۔
اس دن کے بعد وہ ایک دن بھی وہاں نہ گزار سکی، والدین کے گھر میں ایک سال گزر گیا اور وہ ابھی تک بس اس کشمکش میں رہتی کہ اس رشتے سے خلع لے یا پھر طلاق۔۔۔۔۔
یہ کہانی اس معاشرے کی بہت سی لڑکیوں سے مطابقت رکھتی۔جہاں ایک طرف والدین اپنی مصروفیات کی وجہ سے اپنے بچوں بالخصوص بچیوں سے دور رہ جاتے اور دوسری جانب میڈیا کی جانب سے دی جانے والی جھوٹی خواہشات، ترقی کامیابی کے خواب ان کو ایسے معاملات کے قریب لاتے۔اس کہانی کے بعد فیصلہ خود کریں کہ آپ کا مستقبل کیا ہے۔

تعارف:مظہر ملک گزشتہ ایک دہائی سے شعبہ صحافت اور تدریس سے منسلک ہیں۔اپنی صحافی ذمہ داریوں کے تحت سیاست اور معاشرتی مسائل پہ گہری نظر رکھتے ہیں
Twitter/Facebook: @mazharhoceyn

Facebook Comments