November 9, 2019 at 3:18 pm

سیالکوٹ کی گلیوں میں واقع اقبال منزل میں 9 نومبر 1877ء کو ایک ایسی عظیم شخصیت نے اپنی آنکھ کھولی جس کے ایک خواب نے ہندوستان کی تقدیر بدل دی اور سونے کی چڑیا کہلوانے والی سرزمین برصغیر کے کئی ٹکڑے کروا دیے۔ وہ شخصیت شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال تھے۔
علامہ اقبال نے ایک مڈل کلاس گھرانے میں درزی کا کام کرنے والے شیخ نور محمد کے گھر میں جنم لیا تھا۔ ان کے خاندان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان کے آباؤ اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے اس وقت سیالکوٹ آئے تھے جب اُس سرزمین پر انگریز سرکار کا راج تھا۔
علامہ اقبال کی والدہ امام بی بی بہت نیک اور عبادت گزار عورت تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے اقبال کو چار سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنے کے لیے مسجد بھیجنا شروع کردیا۔ اس کے بعد اقبال نے گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں داخلہ لیا جہاں عربی کے ستاد سید میر حسن کی شفقت انہیں نصیب ہوئی۔ اسی کالج سے 1893ء میں اقبال نے میٹرک اور 1895ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔
1897ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے آرٹس میں ماسٹر کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آپ جرمنی چلے گئے۔ وہاں سے انہوں نے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
جرمنی میں ہی انہوں نے فارسی میں شاعری شروع کر دی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے لکھنا ایک اہم فعل ہے۔ علامہ اقبال کو اسلامی تعلیمات سے بھی بہت لگاؤ تھا جو کہ ان کی شاعری سے صاف جھلکتا ہے۔ انہوں نے کئی شعر مسلمانوں میں اسلام کا شعور اجاگر کرنے کی خاطر لکھے۔
علامہ اقبال صرف شاعر نہں بلکہ ایڈووکیٹ بھی تھے. لاہور ہائی کورٹ میں ان کے نام سے سول اور جرائم کے 100 سے زائد کیسوں کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔

گئے دن کے تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں

ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں 3 شادیاں کیں۔ ان کی پہلی شادی 18 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے سردار بیگم سے شادی کی اور تیسری شادی 1914ء میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد کی۔
علامہ اقبال کو مسلم لیگ کے رہنمائوں سے بہت اختلافات تھے لیکن انہیں قائدِاعظم کی شخصیت بہت پسند تھی۔ اقبال جانتے تھے کہ محمد علی جناح میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہی آل انڈیا مسلم لیگ کو بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔
انہوں نے جلد ہی جان لیا کہ انگریز کے علاوہ بھی اس خطے میں مسلمانوں کے کئی دشمن موجود ہیں۔ مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان بہت سے اختلافات تھے۔ ہندووں کے مذہبی رسومات ہم سے الگ تھے۔ ثقافت ہم سے مختلف تھے۔ ایک مذہب گائے کی پوجا کرتا تھا اور دوسرا گائے کا گوشت بریانی اور کباب میں استعمال کرتا تھا۔
برصغیر کی تقدیر میں امن کی خاطر ان کے ذہن میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کی سوچ آئی اور اپنے اس خیال کو انہوں نے 21 جون 1937ء کو قائد اعظم محمد علی جناح تک ایک خط کے ذریعے پہنچایا۔
اس خط میں انہوں نے اپنا موقف پیش کیا کہ کیوں نہ ہندوستان کے مسلم اکثریت والے علاقوں کو ایک الگ پہچان دے دی جائے اور وہاں ایک ایسی مسلم ریاست بنائی جائے جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین کے فرائض پورے کرسکیں۔ قائد اعظم نے ان کے اس مطالبے کو بہتر طریقے سے سمجھا اور اس سوچ کے مطابق اپنی ڈائریکشن مقرر کرلی۔ 23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کی قرار داد منظور ہوئی۔ مسلمانوں کی اس الگ ریاست کو پاکستان کا نام ملا جو چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا۔
افسوس کہ پاکستان کا تصور پیش کرنے والی یہ عظیم شخصیت نہ تو اس تاریخی اجلاس کو دیکھ پائی اور نہ ہی اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دھارے دیکھ سکی۔علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں جاوید منزل میں وفات پا گئے تھے۔ ان کا جسد خاکی بادشاہی مسجد کی بغل میں حضوری باغ میں مدفن ہے۔
مفکر پاکستان کی وفات کے 9 سال بعد 14 اگست 1947ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آگیا۔ اگر آج پاکستان کا قیام نہ ہوا ہوتا تو آج جو انڈیا میں ہندو مسلم فسادات برپا ہیں ہم بھی انہی کا شکار ہو رہے ہوتے۔
علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں 50 کے قریب کتابیں لکھیں۔ ان کے پہلی کتاب “اسرار خودی” ہے جو کہ 1915ء میں لکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی مشہور کتابوں میں بانگِ درا، بالِ جبریل اور جاوید نامہ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو فارسی اور انگلش زبان میں بھی کئی کتابیں لکھیں جوکہ پاکستان، انڈیا اور کئی بیرونی ممالک میں نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

علامہ اقبال کو پاکستان میں مفکر پاکستان، شاعر مشرق اور قومی شاعر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شعر و شاعری آج بھی پاکستان کی کئی فلموں اور سیاسی تقریروں میں گونجتی ہے۔ علامہ اقبال ایک انقلابی شاعر تھے جو خود تو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ہیں مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔

Facebook Comments