November 9, 2019 at 12:13 pm

بھارتی سپریم کورٹ نےبابری مسجد کیس کا فیصلہ سنادیا۔بھارتی سپریم کورٹ کا مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کاحکم دے دیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین کا صحن ہندووَں کو دینے کا حکم دےدیا۔متنازع زمین کے مالکانہ حقوق رام بھومی نیاس کو دے دیاگیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کوبابری مسجد کی زمین پرٹرسٹ اسکیم بنانےکاحکم دیا۔فیصلے کے مطابق ایودھیا زمین 3ماہ کےلیےٹرسٹ کےحوالے کردی۔ ایودھیازمین ٹرسٹ کو دینے کےلیےحکومت کو 3ماہ کی مہلت دی گئی۔عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ بابری مسجد کےمتنازع علاقے میں رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔بابری مسجد کی 2.77ایکڑ زمین ہندو ٹرسٹ کو دے دی گئی۔
سپریم کورٹ کے ججز نے بتایا کہ ہم نےتسلیم کیاکہ بابری مسجد،بابر کےسپہ سالارمیرباقی نےبنائی۔بابری مسجدمیں 1949میں مورتیاں رکھی گئیں۔بھارتی سپریم کورٹ نےنرموئی اکھاڑہ کا دعویٰ بھی خارج کردیا۔نرموئی اکھاڑہ کا دعویٰ غیرقانونی ہے۔آثار قدیمہ کی رپورٹ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کرائی گئی تھی۔اے ایس آئی رپورٹ کے مطابق زمین کے نیچے مندر تھا ۔اےایس آئی نےمندرکےثبوت بھی فراہم کیے ۔اےایس آئی نے یہ نہیں بتایا کہ مندر گرا کے مسجد بنائی گئی۔اے ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق مسجد خالی جگہ پر نہیں بنائی گئی۔زمین کا فیصلہ قانونی ہوگا۔زیر زمین تعمیرات اسلامی نہیں ۔ثبوت پیش کیے گئے ہیں کہ ہندو بابری علاقے میں پوجا کرتے تھے ، بھارتی چیف جسٹس
عقیدےکی بنیاد پر حق ملکیت طے نہیں ہوگی۔سنی وقف بورڈ کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے،سنی وقف بورڈ نے مالکانہ حقوق مانگے تھے۔متنازع زمین پر ہمیشہ مسلمانوں کا قبضہ رہا۔اس زمین پرمسلم اورہندودونوں عبادتیں کرتےتھے۔1856سےپہلے ہندووَں پر عبادت کی کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ہندورام چبوترےپرعبادت کرتے رہے ہیں۔مسلمان زبردستی زمین پر حق کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔مسلمانوں کو بابری احاطے کا حق نہیں ہے ۔سنی وقف بورڈثبوت فراہم نہیں کرسکاکہ مسلمانوں کابابری علاقے پر حق ہے۔مسجد کے اندرونی حصے میں مسلمان نماز ادا کرتے تھے۔ہندو اور مسلمان فریقین کا دعویٰ ایک جیسا ہے۔

Facebook Comments