November 9, 2019 at 11:04 am

اہم تہوار کی بڑی تیاریاں جاری ہیں۔ کرتارپور راہداری کھلنے کا وقت قریب آن پہنچا۔ بھارت کی بڑی سیاسی وسماجی شخصیات کرتار پور آنے کو بے تاب ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کرتارپور رہداری کی افتتاحی تقریب میں بھارتی پنجاب کے ویراعلی حصوصی طور پر شرکت کریں گے۔ تقریب میں بھارتی پنجاب اسمبلی کے اراکین بھی کرتارپور آئیں گے ۔ وزیراعلی اور ارکین اسمبلی کرتارپور کوریڈور کے ذریعے پاکستان آئیں گے ۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ارکین اسمبلی کے ہمراہ میڈیا کا تیس رکنی وفد بھی کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرے گا بھارتی میڈیا وفد کے دورے کا انتظام پاکستان ہائی کمیشن نے کیا ہے. اس سے پہلے معروف سیاسی و سماجی رہنما نوجوت سنگھ سدھو اور فلم اسٹار سنی دیول کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان ہفتہ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے جس کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔راہداری کا مقصد بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو پاکستان کے ضلع نارروال میں واقع کرتارپورہ میں گوردوارہ ڈیرہ صاحب تک رسائی فراہم کرنا ہے۔اس راہداری کو بابا گورو نانک دیو جی کی پانچ سو پچاسویں یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر کھولا جارہا ہے جو منگل سے شروع ہورہی ہے۔
اٹھارہ اگست 2018 کو عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی اور 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ 14 مارچ 2019 کو اٹاری کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے وفود کی سطح پر پہلے مذاکرات ہوئے اور چودہ جولائی 2019 کو کرتار پور راہداری کے حوا لے سے واہگہ کے مقام پر اجلاس ہوا۔ دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیموں میں تین ملاقاتیں ہوئیں اور انفراسٹرکچر پر اتفاق کیا گیا۔۔

تیس ستمبر 2019 کو پاکستان نے سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی لیکن فی یاتری 20 ڈالرز فیس کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔ اکیس اکتوبر کو بھارت نے پاکستان کی شرط مان لی اور چوبیس اکتوبر کو معاہدے طے پاگیا۔۔

پاکستان اور بھارت کے مابین کرتارپور راہداری کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا ۔ پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے معاہدے پر دستخط تھے جس کے تحت دونوں ممالک نے سکھ یاتریوں کی آمدورفت اور دوسرے طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے۔معاہدے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار سکھ کرتارپور راہداری استعمال کریں گے۔
معاہدے پر دستخط کے بعد ڈاکٹر فیصل نے اپنی گفتگو کا آغاز اس شعر سے کیا کہ
اک شجر ایسا بھی محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کرتارپور کوریڈور کا افتتاح نومبر کو کریں گے جس کے لیے ایک بڑا پروگرام ترتیب دیاگیاہے۔
انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری پر مذاکرات بہت مشکل رہے، جس ٹیم نے میرے ساتھ کام کیا اس کا بہت شکر گزار ہوں، وزیراعظم نے خود اس میں بہت دلچسپی لی اور بہت فعال رہے۔
ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری داخلہ مسٹر داس نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت صبح سے شام تک روزانہ زائرین کو سہولیات فراہم کریں گے، مزید جگہ میسر ہوئی تو 5 ہزار سے زائد یاتریوں کو سہولیات فراہم کریں گے، یاتری اکیلے اور گروپ کی صورت میں بھی آسکتے ہیں، اگر کوئی پیدل آنا چاہے تو اس کو بھی اجازت ہوگی جب کہ بسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت 10 روز پہلے فہرست فراہم کرے گا جس سے یہ معلوم ہوگا کہ کہ کس تاریخ کو کتنے یاتری پہنچیں گے، کرتارپور راہداری پر 20 ڈالر سروس چارجز لیے جائیں گے، یہاں کے خرچ کے حساب سے یہ ایک تہائی سے بھی کم ہے، ہمیں اس پراجیکٹ کو بہت آگے لے کر جانا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ویزا فری ٹریول ہے جس میں صرف شناخت کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوگا، یہ عمل بھی دو سے تین منٹ کا ہوگا اور پاسپورٹ پر اسٹیمپ بھی نہیں لگائی جائے گی، یاتری اسی طرح شام کو واپس روانہ ہوجائیں گے۔

Facebook Comments