تھرپارکر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

شیئر کریں:

تحریر: مریم صدیقہ

تھرپارکر میں خودکشیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ ایک ہی روز میں چار خواتین نے خودکشی کر لی۔ خودکشی کرنے والی تین خواتین جاں بحق ہوگئی اور ایک خاتون تشویش ناک حالت میں تھرپارکر اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ۔تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ کے گاوں کہڑی میں ایک ہی خاندان کی دو شادی خواتین نے درخت کے ساتھ لٹک کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ دونوں لڑکیاں ویرو کولہی اور سوڈہی کولہی کی شادی ایک ہی گھر میں دو بھائیوں سے ہوئی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے دونوں بہنوں نےگھریلو حالات اور لڑائیوں سے تنگ آکر زندگی کا خاتمہ کیا۔
مٹھی تحصیل کے ایک اور گاوں سوری کی وانڈ میں 20 سالہ شادی شدہ خاتوں جیتو بھیل نے گھریلو پریشانیوں کے باعث کنویں میں کود کر خودکشی کرلی۔اسلام کوٹ شہر کے کولہی محلہ میں 15 سالہ لڑکی مرواں کیول کولہی نے کھیت میں درخت میں لٹک کر خودکشی کی کوشش کی جس کو والدین نے بروقت پہنچ کر لڑکی کو درخت سے اتار لیا اور اس کی زندگی بچا لی ۔ 15 سالہ مرواں کیول کولہی کو تشویش ناک حالت میں سول اسپتال مٹھی منتقل کردیا گیا جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش ہے۔
تھرپارکر میں 3 روز میں خودکشی کے مختلف واقعات میں 5 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ورثاء نے پولیس کو خودکشی کے درست اسباب نہیں بتائے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی تفتیش جاری ہے ۔
ایک اور واقعہ مٹھی کے گاوں لونہیار میں پیش آیا جہاں 30 سالہ شادی شدہ خاتوں سورٹھ نے گھر اندر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔ تھرپارکر میں خود سوزی کرنے والی زیادہ تر خواتین غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ 4 روز میں 8 انسانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرڈالا مگر پولیس خودکشی کی وجوہات معلوم کرنے میں ناکام ہے۔ خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنا ضلعی حکومت کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں


شیئر کریں: