کالج لیکچرارسڑکوں پر آگئے، پی آئی ڈی پر دھرنا

شیئر کریں:

سندھ میں کالج لیکچرار بھی پے اسکیل اور واجبات کی ادائیگی کے لئےسڑکوں پر آگئے۔ پریس کلب پر دھرنا دینے والے اساتذہ نے وزیراعلی ہاوس جانے کی کوشش کی تو پولیس ایکشن میں آگئی۔ اساتذہ پھر بھی پی آئی ڈی سی تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور وہیں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔۔ پے اسکیل اور واجبات فوری ادا کیے جائیں ۔ اسکول اساتذہ کے بعد کالج لیکچرار بھی سڑکوں پر آگئے۔سندھ بھر کے مختلف شہروں سے سرکاری کالجز کے اساتذہ نے کراچی پریس کلب پر دھرنا دے دیا ۔اساتذہ نے وزیراعلی ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا تو پولیس نے انہیں وائی ایم سی گراؤنڈ پر روک لیا۔احتجاجی اساتذہ پولیس کا گھیرا توڑ تے ہوئے شاہین کمپلیکس کے راستے پی آئی ڈی سی تک پہنچ گئے۔وزیراعلی ہاوس جانے والے راستے پر تعینات پولیس کی نفری نے اساتذہ کو وہاں تک پہنچنے سے روک دیا۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے احتجاجی لیکچرار پی آئی ڈی سی پر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔مشتعل اساتذہ نے وزیرزراعت محمداسماعیل راہوکی گاڑی کو بھی روک لیا۔ اس مرحلے پر معاملے کو سلجھانے اور اساتذہ سے مذاکرات کے لئے ایس ایس پی اور ڈی سی ساوتھ پہنچ گئے۔ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم کومطالبات سےآگاہ کردیا گیا۔ وہی مظاہرین سے بات چیت کریں گی۔ڈی سی ساؤتھ نے صورتحال پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کوبریفنگ دی۔ سندھ پروفیسرایسوسی ایشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ انہیں پے اسکیل اور واجبات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔حکومت کافی عرصے سے یقین دہانیاں کرارہی ہیں ۔ لیکن مطالبات کی منظوری کے لئے قدم نہیں اٹھایا جارہا۔


شیئر کریں: