October 23, 2019 at 7:25 pm

تحریر: محمد امنان

دور جدید ہے اور اس جدت نے ہر چیز کو خود میں سمونے کی تمام تر حشر سامانیاں پیدا کر رکھی ہیں پہلے اخبار، ریڈیو پھر ٹی وی یعنی میڈیا اور اب سوشل میڈیا نے زمانے کی رفتار وقت سے پہلے تیز کر دی ہے حالات جغرافیائی ، سیاسی ، موسمیاتی اور ہر اعتبار سے بدل رہے ہیں اور تیزی سے بدل رہے ہیں وقت کے قدموں سے قدم ملانے کی دوڑ میں ہر ذی روح اور خاص طور پہ ہر ادارہ کوشاں ہے

گھما پھرا کے پڑھنے والوں کو میرے ہی ملک میں لے آتا ہوں کہ مملکت خدا داد بھی وجود کے ساتھ ہی اتار چڑھاو کی سڑک پہ رواں دواں رہا کبھی جرنیلوں نے آ لیا تو کبھی سیاسی مفادات نے اس ملک میں ایک باقاعدہ نظام پنپنے نہ دیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہاں میرے ملک میں ریاست کے ستونوں نے اپنے اپنے تئیں خوب ہڑبونگ مچا رکھی ہے سیاستدانوں نے خوب پیسہ کمایا اور اتنا کمایا کہ چھپانے کو جگہ کم پڑ گئی کیونکہ اکثر جگہیں ڈی ایچ ایز میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں عدالتی نظام اور دیگر نظام بھی بیماری میں مبتلا ہیں اور اکثر کبھی کبھار کھانس کر اپنے ہونے کا احساس دلا دیتے ہیں

خیر اصل مدعے کی طرف آنا چاہوں گا تو بھائیوں اور مستورات سے عرض یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں یعنی اس روئے زمین پر پائے جانے وہ ممالک جن کی تقلید میں ہم نے اپنے اپنے کچھ اصول بنا لئے اور دنیا کے ساتھ چلنے یا کم از کم اس کے برابر ہونے کی کوشش میں آنکھیں میچ کر اندھا دھند بھاگنا شروع کر دیا موجودہ دور میں بلکہ ایک دو روز پہلے کا ایک واقع جو سوشل میڈیا سے اٹھایا ہے اس پہ ذرہ اندھیرا ڈالنے کی کوشش کروں گا لیکن اس سے پہلے عرض کروں گا کہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز عطا کیا گیا اور اب نیلم منیر خان نے ان حالات میں جب کشمیر بارڈرز پر بھارت کی جانب سے نہتے شہریوں پر گولیاں برسائیں ہمارے جوانوں کو شہید کیا تو محترمہ نے اپنی نئی آنے والی فلم کاف کنگنا سے ایک رقص و سرور ملا ویڈیو کلپ شئیر کر کے اسے ملک کی نہ صرف خدمت قرار دیا بلکہ باقاعدہ جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ بھی کر ڈالا
اور تو اور

ٹھمکوں بھری ویڈیو کو انسٹا گرام پہ ڈالتے ہوئے فلم کو آئی ایس پی آر کا پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے اپنے لئے ایک ستارہ مانگنے کا اشارہ بھی کر ڈالا اب سوال یہ ہے کہ اگر نغموں اور ٹھمکوں سے ملک کی خدمت ہو سکتی ہے تو بھئی ہم جو لکھنے اور بولنے والے ہیں انہیں غدار ڈکلئیر کیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور اگر صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے تو وہ بھی بریک ڈانس یا اس ٹائپ کی کچھ آئیٹمیں سیکھ کر ملک کی خدمت کریں عالمی فورمز پہ بہت ضرورت ہے کہ میڈیا کنٹرولڈ ہو تاکہ مدعا کھل کے بیان ہو سکے

میرا اصل دکھ یہ ہے کہ بھائی یہ ناچ گانے اور حفاظتی ٹھمکوں کی اجازت اگر دی جا رہی ہے تو خدارا صحافیوں کو بھی حفاظتی جامے دلا دو یا اس چوتھے ستون سے جڑے مجھ جیسے چھوٹے سے صحافیوں جن کی نوکریاں چھینی جا رہی ہیں انکے لئے کوئی چھوٹا سا خطہ یا قلعہ الاٹ کر دو جسکی فصیلوں پہ اچھوت طبقہ لکھ کر ہمیں اسمیں پھینک دو ہمیں جلا دو ایسے بنا سامنے آئے گلے مت گھونٹو

اب ستر سال سے اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے جمہوریت کو اٹھتے دیکھا نہ ہی قومی کرکٹ ٹیم کے حالات سدھرتے دیکھے اب اس حکومت کے عالم پناہ شہنشاہ وقت جناب عمران خان صاحب ایک وقت میں کہا کرتے تھے کہ جو حکومت کرپٹ ہو گی وہ سب سے پہلے میڈیا پہ پابندی لگاتی ہے انکی اپنی حکومت آتے ہی پابندیوں کے ڈھیر دیکھنے کو ملے مریم نواز کی ریلیاں دکھانے پہ پابندی ، آزاد کشمیر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی تقریر اور مختلف میڈیا چینلز پر خبریں غائب کروانے کی صورت منظر عام پر آ چکی ہیں

حکومت اور میڈیا مالکان کی آپس میں گٹھ جوڑ یا یوں کہئیے کہ حکومت کی جانب سے میڈیا کے پیسے روک لئے گئے یا حکومتی وزرا کی جانب سے گاہے بگاہے میڈیا مخالف بیانات سے تو لگتا ہے میڈیا کو کھڈے لائن کرنے کی تیاریاں ہیں کیونکہ سٹیزن پورٹل جو بنایا تو نام نہاد انصاف دینے کے لئے تھا اس پہ جبری برطرفیوں اور ورکر صحافیوں کے معاشی قتل پر دی جانے والی ایک درخواست کو قریب ایک ماہ کے عرصے میں مختلف مجاز اتھارٹیز کے پاس گھمانے کے بعد پورٹل نے معذرت کر لی کہ یہ لوگ اس ملک کے باسی نہیں لگتے اسلئیے انکی بات نہیں سنی جا سکتی

اس سب سے زیادہ گلہ بڑے اینکرز اور صحافیوں سے ہے جو اپنے کولیگز کے لئے آواز اٹھانے کی بجائے سرکار کا بڑا باجا بغل میں دبا کر مختلف دھنیں نکال رہے ہیں تاکہ عوام کو موجودہ حکومت کی ناکامیاں سنائی نہ دیں اور رہی بات صحافتی تنظیموں کی تو یہ سب تنظیمیں ہومیو پیتھک ہیں اب مولانا کا آزادی مارچ دیکھ لیں جو حکومت خود دھرنے کی گود میں بیٹھ کر آئی وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور فضل الرحمٰن کی تقریر بھی ایک آدھ بار سے زیادہ میڈیا پہ نشر کرنے سے رکوا دی اس صورتحال میں آسٹریلوی میڈیا کا ایک اقدام بڑا ہی کھرا لگا کہ میڈیا ہاوسز پہ کریک ڈاون کے خلاف تمام میڈیا ہاوسز ایک ہو گئے اور اخبارات کی بلینک کاپیاں بطور احتجاج چھاپ دیں ، مولانا کے آزادی مارچ سے قبل تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ حاکم وقت نے مخالفین کے خلاف دھرنا دے دیا مطلب موٹرویز بند ، حکمت عملی تیار ، دارلحکومت کے گرد باڑ لگانے کے اقدامات وغیرہ وغیرہ اب سمجھ نئیں آرہا ملک میں جمہوریت ہے یا جموریت

اظہار آزادی رائے ، سچ کی آواز ، فیلڈ کی صعوبتیں ، ویج بورڈ ایوارڈ پہ عملدرآمد وغیرہ وغیرہ تو سب ورکر صحافیوں کے دکھ ہیں لیکن پرانی اور نئی حکومتوں کو میڈیا بارے قوانین بنانے یا صحافیوں کو حقوق اور تحفظ فراہم کرنے سے کس نے روک رکھا ہے اس کھیل کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ناجانتے ہوئے بھی سب ہی جانتے ہیں

ڈاکٹرز ، وکلا ، جج، بیوروکریٹس ، وزرا وغیرہ وغیرہ یا ملک کے تینوں ستونوں کے لئے کافی سہولتیں اور قوانین موجود ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس ملک میں صحافت اور اس فیلڈ میں نئے آنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں تعلیمی ادارے بھی دھڑا دھڑ لاکھوں روپے بٹور کے ڈگریاں بانٹ رہے ہیں ایک بڑے چینل کی اپنی یونیورسٹی ہے اور اسی چینل سے بندے بے روزگار کر دئیے گئے کیا طرفہ تماشہ ہے کہ ملک میں نوکریاں ہیں نہیں اور ڈگریاں بتاشوں کی طرح بانٹی جا رہی ہیں

ذہن میں بگولے اڑتے ہیں بہت کچھ کہنے اور لکھنے کی چاہ ہوتی ہے مگر فضا سازگار نہیں ہے اور یہ ایک ایسا جادوئی تماشہ ہے جس میں نقصان ہو بھی رہا ہے اور نظر نہیں آ رہا موجودہ حکومت کو کامیاب دکھانے کے لئے مل ملا کے آئینے کو گھسیٹا جا رہا ہے کہ سب اچھا دکھاو لیکن ملک میں بے روزگاری ہے، ہر طبقہ احتجاج پہ مجبور ہے مگر ان سب کا احتجاج دکھانے والے جب ایک دن اچانک نوکری سے فارغ کر دئیے جائیں تو وہ اپنے لئے احتجاج نہیں کر پاتے

کہانی میں نئے کردار شامل ہو رہے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشہ ختم ہو گا

خیر حفاظتی ٹھمکوں سے شروع ہر کر کہاں نکل آیا بہر حال ایسا لگ رہا ہے برطرف کئے جانے والے صحافی بھی عنقریب پیٹ کی خاطر کوئی ایسا ہی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے ورنہ ایسا تو ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ کام کرنے والے صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے رہے ہیں اور سرکار وقت کی شان میں لکھنے والوں کو نوازا گیا ہے لیکن اب حالات ایسے ہیں کہ صحافت میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جن کی سوچ میں مزاحمت ہے اس سوچ کو کیسے دبایا جائے اس سلسلے کی شاید یہ ایک کڑی ہے کہ میڈیا میں نہ دکھنے والا بحران جاری ہے اور سب پہ چپ طاری ہے
اسی بات پہ موجودہ حکومت اور متعلقہ فورمز کی نذر خاکسار کا ایک حفاظتی ٹھمکا
قبول کیا جائے

Facebook Comments