October 23, 2019 at 12:25 pm

گوجرانوالہ (ذیشان کھوکھر سے ) شہر بھر میں آوارہ کتوں کی بھرمار سے گوجرانوالہ کہ شہری خوف زدہ ہوچکے ہیں رواں سال 15 ہزار سے زائد شہری آوارہ کتوں کا نشانہ بن چکے ہیں مگر انتظامیہ آوارہ کتوں کو تلف کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے آوارہ کتوں کے دھن دھناتے غول نہ صرف گلی محلوں میں لوگوں کے لئے خوف کی علامت بنے ہیں بلکہ بازاروں میں شاپنگ کرنیوالے اور سرکاری دفاتروں میں آنے والے سائلین کے لئے بھی یہ آوارہ کتوں کے گروہ شدید اذیت کا باعث بن چکے ہیں صورتحال اتنی گھمبیر ہوچکی ہے شہری گھروں سے نکل کر جس طرف بھی جائیں آوارہ کتوں کے غول اپنا نشانے بنانے کے لئے ان کا استقبال کر رہے ہوتے ہیں رواں سال تو شہریوں کو آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات انتہائی حد تک بڑھتے جا رہے ہیں گوجرانوالہ کے واحد ڈی ایچ کیو اسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر پچاس سے ساٹھ لوگ آوارہ کتوں کے کاٹنے سے زخمی ہوکر اسپتال آرہے ہیں اور دس مہینوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے یہاں تک کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث اسپتالوں میں علاج کی ویکسین کی انتہائی قلت ہوچکی ہے لوگ زندگی بچانے کے لئے مہنگے داموں پرائیویٹ علاج کروانے پر مجبور ہیں مگر دوسری طرف کسی ذمہ داران سےسوال کریں بھئی وہ تو سب اچھا ہے کا راگ آلاپ رہے ہوتے ہیں ہے لیکن ذمہ داران کچھ بھی کہیں جتنا بھی پردہ ڈال لیں اپنی مجرمانہ نااہلی پر حقیقت یہ ہے کہ گوجرانوالہ شہر یہاں کے لوگوں کے لئے خوف کی وادی بن چکی ہے ڈر میں زندگی گزارنے والے شہری تو ارباب اختیار سے بس یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان آوارہ کتوں سے نجات دلانے کے لئے کوئی سدباب کیا جائے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ریاست اپنی ذمہ داری بھول چکی ہے شہریوں کا تحفظ کرنا بنیادی سہولیات فراہم کرنا ،، گوجرانوالہ شہر میں آوارہ کتوں کا مسلہ شہریوں کے لئے درد سر بن چکا ہے تو دیگر شہروں میں اسی طرح کے بہت سے مسائل ہیں مگر ارباب اختیار انہیں حل کرنے کی بجائے آنکھیں موڑ کر شہریوں کا سکون سے جینے کا حق کیوں چھین رہے ہیں ؟؟؟

Facebook Comments