October 22, 2019 at 6:39 pm

تحریر: مظہر ملک۔۔۔
اچانک سے ملک میں افراتفری کی ایک نئی لہر اٹھتی نظر آرہی ہے، کہیں آزادی مارچ کے تذکرے ، کہیں مہنگائی کا رونا،ایک طرف تاجر اپنے احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھاتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے چکے اور دوسری طرف مسئلہ کشمیر اور ایل او سی پر بڑھتی کشیدگی بھی ہیڈلائنز کا حصہ بنی ہوئی ہے۔معاشی اصطلاحات پہ نظر ڈالیں تو ایف اے ٹی ایف ابھی تک پاکستان کی معاشی اصطلاحات سے مطمئن نہیں اور پاکستان اگلے سال تک کیلئے گرے لسٹ میں باقی رہے گا۔آئی ایم ایف پاکستان سے سبسڈی ختم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی مسلسل مطالبہ کر رہا ہے۔ اس طرح پاکستان اندرونی بیرونی مسائل سے گھرا نظر آتا ہے۔ اب ان حالات میں پاکستانیوں کا کردار کیا نظر آرہا ہے۔حکومت کرپشن کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہی اور اس تناظر میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈران سلاخوں کے پیچھے ہیں ، اپوزیشن اس کو انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کسی معاملہ پہ حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ۔ایک بات تو یہاں طے کر لیتے ہیں کہ اب تک پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات میں ہارنے والی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کو مسترد بھی کیا اور دھاندلی کا شور بھی خوب مچائے رکھا، اب کی بار بھی اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کو سیکیٹیڈ کے طعنہ سے بلاتے ہیں ، کسی بھی ملک میں ترقی کی شرح تب بڑھتی ہے جب ترقیاتی منصوبہ بندی میں اپوزیشن حکومت سے اختلاف تو ضرور کرے مگر ذاتی مفادات کے ذریعے روڑے نہ اٹکائے۔ ان حالات میں کوئی سیاسی جماعت فرنٹ فٹ پہ آ کے حکومت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ، شاید اس کی ایک وجہ لیڈرشپ پہ کیسز اور جیل میں قید ہونا ہے ، دوسری جانب پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون میں سامنے آنے والے اختلافات بھی ہیں اور شاید کہیں پہ لچک دکھا کے این آر او کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں جس کا ذکر وزیر اعظم اپنی ہر تقریر میں کرتے ہیں، پیپلز پارٹی بھی اسی کیفیت کی شکار ہے جس کی واضح مثال بلاول بھٹو کا بیان ہے کہ ٹوٹی پھوٹی جمہوریت ، آمریت سے بہتر ہے۔ اب ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا مولانا فضل الرحمان ، پاکستانی تاریخ میں مزہبی کارڈ جس کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے جب بھی کھیلا گیا ، اس کو سمیٹا نہیں جا سکا، اور اس کے سب سے برے اثرات میں پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگتا ہے جب بین الاقوامی ادارے اعتماد نہیں کرتے ، آزادی مارچ کا حکومت پہ پریشر تو ضرور ہے کیونکہ پی ٹی آئی اچھی طرح جانتی ہے مزہبی دھرنا ہو یا مارچ یہ وبال جان بن جاتا کیونکہ عمران خان اپنے ساتھ علامہ طاہر القادری کا دھرنا نہیں بھولے ہونے۔حکومت نے مزاکراتی کمیٹی بھی بنا لی ، جو مزاکرات کا سلسلہ شروع کر چکی، رابطے ہونا بھی شروع ہو گئے، ان رابطوں میں کیا ہوگا یہ تو کہنا قبل از وقت ہے مگر اس کا بلواسطہ اثر عوام پہ ضرور پڑے گا۔سیاسی نظام تو بتا دیا اب دیکھتے ہیں عوام ان تمام حالات میں کیا کردار ادا کر رہی، تاجران پورے ملک میں ٹیکس نیٹ کے خلاف ایک ہو گئے ہیں اور ایف بی آر کی نئی اصطلاحات ماننے کو تیارنہیں، ایک طرف حکومت پہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کاروبار کو رجسٹر کرنا لازمی ہے دوسری جانب تاجر برادری اس کو ماننے کیلئے قطعی تیار نہیں ، اب آتے ہیں ایک ایسے طبقے کی طرف جس کو عموما نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ہیں ذخیرہ اندوز جب بھی ملک ایسے حالات کے دہانے پر ہینچتا ہے ایسا طبقہ فورا اپنا اثر دکھاتے ہوئے ضروریات زندگی کی چیزیں ذخیرہ کر دیتا جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا، ابھی ایک بار پھر میڈیا پہ مہنگائی کی خبروں کو عام کیا جا رہا تاکہ رہی سہی کسر عوام کی نفرت اور احتجاج پوری کردے۔پاکستان میں یہ تیسری حکومت ہے جو جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایسی غیب کی طاقت ہے جو عمران خان کو حکومت پوری نہیں کرنے دے رہی، مگر حکومت بھی پراعتماد ہے کہ اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ گزشتہ وزرائے اعظم سے استعفوں کے طلبگار اس بار خود اس گونج سے بچ پائیں گے یا نہیں تھوڑا سا انتظار۔۔۔۔

Facebook Comments