October 22, 2019 at 3:30 pm

مدثر نذیر:
ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کے مسیحاوں کی کرسیاں خالی ،، مریض علاج کے لئیےایڑیاں رگڑنے لگے،،
اور ڈاکٹروں کی مسیحائی کا عالم ،، کہ کبھی ہڑتال کا بخار تو کبھی مریضوں سے ہاتھا پائی ،، کبھی سڑکوں پہ نکل کر راہگیروں کے گلے پڑنا

بھئی،،، جب سے ایم ٹی آئی ایکٹ کا جن بوتل سے نکلا ہے ،، ڈاکٹرز کا ہڑتالی زوق بھی مزید کمال کا ہو گیا ہے ،، کام کاج سے ان کی پہلے بھی جان جاتی تھی ،، اب صرف اسپتالوں کی اوپی ڈی میں تالیاں بجاتے ،ٹھٹھے اڑاتے نظر آتے ہیں ،، زیادہ دل بہلانا ہو تو مطالبات کا ٹوکرا لئیے ،،سڑکوں پہ نکل آتے ہیں ،، اور کہتے ہیں مریضوں کی بہتری کی خاطر نکلے ہیں جبکہ غریب مریض لواحقین علاج کے لئیے پریشان ہیں ۔۔ اسپتال درد کی دوا لینے آئیں تو احتجاج کا ٹیکاملتا ہے
لیکن مسیحائی کا حلف اٹھانے والے والے اپنے قصائی ہونے کا ادنی سا ثبوت ایسے دیتے ہیں کہ سرکاری اسپتال میں مریضوں کو آپریشن کا کاسٹیوم پہنا کر آہریشن تھیٹر سے نکال دیتے ہیں ، کہ جاؤ ہم ہڑتال پہ ہیں
لیکن سارا دن اسپتال میں آتش فشاں بنےیہی ڈاکٹرز پرائیویٹ کلینک پہ باچھیں پھیلا کرچپکے سے مریض کی جیب پہ قصائیوں والی چھری پھیر جاتے ہیں
اور آہ تک نہیں کرنے دیتے
دوسری طرف حکومت اپنی بین بجا بجا کر تھک گئی،، تو مریضوں کی معائینہ پرچی پہ وضاحتیں چھاپ دیں ،، کہ کوئی ڈاکٹر نہیں نکالا جا رہا ،، سب “سرکار” کے ہی ملازم رہیں گے،،

آئے روز کی حکومتی چخ چخ اور مریضوں کے لواحقین کی کھٹ پٹ سے بہتر ہے ،، کہ اگر تو ڈاکٹرز کے مطالبات درست ہیں تو ان پہ غور کیا جائے ورنہ ،، لیگی دور کی طرح حکومت آرمی کے ڈاکٹر بلا لے ، ،اور ڈاکٹرز حضرات اپنے پکوڑوں والے کاروبار پہ توجہ دے کر اسے ہی بہتر بنا لیں
مگر حکومت اور ڈاکٹر کی وہی ضد ،،،،
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے
ہم اپنی وضح کیوں بدلیں

Facebook Comments