October 22, 2019 at 3:52 pm

تحریر: ندیم رضا

دنیا کے کئی ممالک میں عوام مہنگائی اور کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ عوام حکمرانوں کے دوہرے معیار کو اب برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کفایت شعاری کی چھتری کے نیچے مہنگائی کو فروغ دینے والے حکمرانوں کا عوام نے گھیراو کرنا شروع کر دیا ہے۔

چلی میں احتجاج

کرایوں میں چار سینٹ اضافے پر احتجاج نے چلی کو ہلادیا
لاطینی امریکا کے نسبتا مستحکم اور ترقی یافتہ ملک چلی کے عوام مہنگائی کے خلاف 14 اکتوبر سے سڑکوں پر نکل آئے۔ حکومت نے سب وے کرائے محض 1.12 ڈالر سے بڑھا کر 1.16 کیا تھا یعنی صرف چار سینٹ اسے بھی عوام نے مسترد کر دیا اور جلاو گھیراو شروع کر دیا۔ اضافہ واپس لیے جانے کے باوجود عوام کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ دارالحکومت سنتیاگو کا کئی روز سے برا حال ہے۔ ہنگامہ آرائی میں 10 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے۔ عمارتیں اور گاڑیاں بھی جلائی جارہی ہیں۔ 80 پولیس اہل کار بھی زخمی ہو چکے۔ دس ہزار اہل کار بھی حالات قابو کرنے میں ناکام ہیں۔ حکومت کو کرفیو کا سہارا بھی لینا پڑا لیکن پھر بھی صورت حال بے قابو ہے۔ صرف ٹرینوں کے کرائے میں اضافے کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں نے 1970 میں آمر آگسٹو دور کی یاد تازہ کر دی۔ اب تک کروڑوں ڈالر کی املاک، بسیں بس اسٹاپس اور گاڑیاں جلائی جاچکی ہیں۔ بدعنوان ممالک کی فہرست میں 30ویں نمبر پر ہے۔

عراق میں بھی مہنگائی اور کرپشن پر احتجاج

عراق میں مہنگائی ، بیروزگاری اور کرپشن کے خلاف یکم اکتوبر سے ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ حکمرانوں کی بدعنوانی کا بوجھ اٹھانے کی عوام میں سکت نہیں رہی۔ انہوں نے اپنا غصہ تھوڑ پھوڑ اور سڑکوں پر آکر نکالنا چاہا لیکن حکومت نے مظاہرین پر گولیاں چلوا دیں۔ چالیس سے پچاس لوگ ہنگامہ آرائی میں مارے گئے۔ عراق کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت علی السیستانی نے بھی مظاہروں کی وجہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیا۔ جنگ سے تباہ حال ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود اپنے عوام کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عوام ایک حد تک ہی دباو برداشت کرتے ہیں پھر ان کے پاس احتجاج کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بدعنوان ممالک کی فہرست میں عراق بارہویں نمبر پر ہے۔

لبنان میں واٹس ایپ کال پر ٹیکس

لبنان میں رواں کی 17 تاریخ سے حکومت مخالف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ حکومت نے جب کفایت شعاری مہم کے نام پر واٹس ایپ کال اور پیغام رسانی پر ٹیکس لگائے تو عوام بھیپر گئے۔ یہاں بھی حکومت نے ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس لے لیا لیکن عوام نے اداروں کو کرپشن اور مالی بے بے ضابطگیوں سے پاک کرنے کے لیے اصلاحات لانے کا مطالبہ کر دیا۔ لبنان بدعنوان ممالک کی فہرست میں چالیسویں نمبر ہے۔
انڈونیشیا میں کرپشن مخالف مہم

انڈونیشیا میں رواں سال ستمبر کے آخر میں حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بنے رہے۔ انڈونیشیا بدعنوان ممالک کی فہرست میں 90 نمبر پر آتا ہے۔
برازیل کے عوام بھی کرپشن پر سراپا احتجاج

برازیل میں بھی کرپشن اور نام نہاد کفایت شعاری مہم کے خلاف بھی دنیا دو سال پہلے عوامی احتجاج دیکھ چکی ہے۔ برازیل کی 26 ریاستوں میں بدعنوانی سے آلودہ حکمرانوں کو عوام کے قہر کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2018کی بدعنوان ممالک کی فہرست میں برازیل کا 69واں نمبر ہے۔
رومانیہ کے حکمرانوں کی کرپشن

اسی طرح جنوری 2017 سے 2019 تک رومانیہ میں بھی کرپشن کے خلاف عوام سڑکوں پر آتے جاتے رہے۔ رومانیہ نے بدعنوانی میں 120 واں نمبر حاصل کر رکھا ہے۔
حکمرانوں کی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر مزید ملکوں کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ چلی میں محض چار سینٹ کرایہ بڑھنے پر عوام نے دارالحکومت میں زندگی مفلوج کر دی اور حکومت کو اضافہ واپس لینا پڑا۔ کئی ملکوں میں کفایت شعاری کے نام پر مزید ٹٰیکس لگانے اور مہنگائی کرنے پر حکومتوں کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن پاکستان میں اگر ہم دیکھیں چند پیسے نہیں ایک ساتھ کئی سو روپے بڑھا دیے جاتے ہیں عوام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ دور حکومت میں اقتصادی ترقی کی رفتار آدھی رہ گئی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے مہنگائی کی شرح تین گنا بڑھ چکی اور پاکستان کی مڈل کلاس تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں، سستے گھروں، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولتوں کے وعدوں پر مڈل کلاس کی حمایت حاصل کی۔ لیکن اب وہ معاشی اور سادگی پلان کے تحت مڈل کلاس پر ہی زیادہ ٹیکس لگا ر ہے ہیں۔ پاکستان بدعنوان ممالک کی فہرست میں 62ویں نمبر پر ہے۔ کرپشن بھی تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا بڑا ہتھیار تھا۔ کرپشن کے الزامات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنما گرفتار تو کیے گئے لیکن کسی سے ایک پیسے کی بھی وصولی نہیں کرائی جاسکی۔
اب پاکستان بھی؟

ہرگزرتے وقت کے ساتھ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے لیکن عوام بدستور خاموش ہیں۔ ایسے میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے حکمراں جماعت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ مولانا کا بظاہر یہ احتجاج سیاسی بنیادوں پر عمران خان کو ہٹانے کے لیے ہے لیکن جس طرح تمام اپوزیشن جماعتیں اور بیشتر تاجر برادری حمایت کر رہی ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ مہنگائی ، بیروزگاری، نام نہاد کفایت شعاری مہم اور کرپشن سے تباہ حال عوام بھی مولانا کے ساتھ سڑکوں پر نہ آجائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر کنٹرولڈ مارچ انکنٹرولڈ بھی ہوسکتا ہے۔ عوام جب بپھر جائیں تو پھر ساری تدبیریں الٹ ہو جایا کرتی ہیں۔ سارے کا سارا نظام بھی الٹ پلٹ ہوجایا کرتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی اس کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔

Facebook Comments