October 22, 2019 at 11:57 am

عثمان بشیر :

ظلم تو پھر ظلم ہے جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے جب قانون کی رٹ کمزور پڑنے لگتی ہے تو جرم کا نان سٹاپ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے پھر جرائم پیشہ افراد بلاخوف و خطر جرائم کرتے ہیں جنہیں بعد میں روکنا مشکل ہوجاتا ہے اس طرح جرائم سے وابستہ افراد ایسے ایسے گھناونے جرم کردیتے ہیں جس سے کئی گھرانے برباد ہوجاتے ہیں کچھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھانہ مخدوم رشید کی حدود میں واقع گاوں 9ایم آر میں جہاں پر ڈکیتی کی لرزہ خیز واردات سے علاقہ بھر میں خوف کا عالم طاری ہوگیا نامعلوم ڈاکو دیواریں پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں اسی دوران گھر میں موجود ماں اور بیٹی کو دیکھ کر درندے حوس کی نظر سے ماں اور بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں گینگ ریپ اور ڈکیتی کی لرزہ خیز واردات کے دوران ماں موقع پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جبکہ اس کی بیٹی کی حالت غیر ہونے پر ملزمان وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں پولیس کے لیے یہ واردات کسی چیلنج سے کم نہ تھی اب ہم اس بات کا ذکر یہاں کرتے ہیں کہ پولیس محکمہ میں جہاں نااہل لوگ موجود ہوتے ہیں تو وہاں اچھے محنتی اور نیک نیتی سے کام کرنے والے افسران کی بھی کمی نہیں ہے اس طرح کا ایک نام کلیم احمد چوہان ہے جو کہ اسی تھانے میں بطور ایس ایچ او تعینات ہوئے ان کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹاسک دیا گیا کلیم احمد چوہان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دن رات اس واردات کو ٹریس کرنے کے لیے مشن جاری رکھا 16 اکتوبر کی رات کو 15 پر کال موصول ہوتی ہے کہ 16 پل کے قریب 8 سے 10 ڈاکو ناکہ لگا کر لوٹ مار کررہے ہیں ایس ایچ او کلیم احمد چوہان اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچے تو پولیس کی گاڑی دیکھ کر ملزمان پولیس پر فائرنگ کردیتے ہیں پولیس اور ڈاکووں کے درمیان کافی دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اسی دوران ڈاکووں کی فائرنگ سے ان کے اپنے ہی چار ساتھی ہلاک ہوجاتے ہیں فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہتا ہے باقی ملزمان وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں پولیس ہلاک ملزمان کی لاشیں قبضہ میں لے کر شناخت کا عمل شروع کرتے ہیں تو چاورں ملزمان گینگ ریپ قتل اور ڈکیتی کی واردات کے مرکزی کردار تھے اس طرح ظالم اپنے انجام کو پہنچ گئے بے شک اللہ تعالی کی لاٹھی بے آواز ہے ظلم کی پکڑ بہت بھیانک ہے ظلم کرنے والے بہت جلد اللہ کی پکڑ میں آجاتا ہے قدرت کا قانون ہے کہ ظلم جب ظلم کرتا ہے وہ اپنے ہی ظلم کی دلدل میں دھنس جاتا ہے مظلوم خاندان کو انصاف تو مل گیا مگر ضرورت اس امر کی ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

Facebook Comments