October 15, 2019 at 1:01 pm

تحریر :ندیم رضا


سعودی عرب اور ایران مشرق وسطی کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ دونوں ہی خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے میں مصروف ہیں۔ ساڑھے تین کروڑ والے ملک سعودی عرب اور 8 کروڑ 30 لاکھ آباد والے ملک ایران براہ راست دست و گریبان نہیں لیکن دونوں ملکوں کی پراکسی امت مسلمہ کے ممالک میں لڑی جارہی ہے۔
اختلافات کی وجوہات
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی پیدائش 1979 کے خمینی انقلاب کے ساتھ ہوئی۔ ایسا ہر گزنہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے اختلافات کی کہانی طویل ہے۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ خمینی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں نے اپنی بقا کے لیے مسلمان ممالک میں اپنا اثر و رسوخ زیادہ بڑھایا۔
خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں بھی تعلقات میں اتار چڑھاو کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ 2003 میں امریکا کی عراق پر چڑھائی۔
تیونس سے 2011 میں اٹھنے والی عرب بہار کی لہر نے اس خطے کی سیاست کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے ملک کو متاثر کرتی رہی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں نے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ مارچ 2011 ہی میں بشا رالسد کو ہٹانے کے لیے شام میں داعش کو متحرک کیا گیا۔ جس کے بعد شام میں خانہ جنگ جیسی صورت حال پیدا ہوئی لیکن ایران اور روس نے شام کا ساتھ دیا۔ داعش کا بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ عالمی قوتوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
مارچ 2015 میں سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پر جنگ مسلط کی گئی۔ ایران نے حوثیوں کا ساتھ دیا۔ یہاں بھی سعودی اتحاد حوثیوں کو شکست نہیں دے پایا۔
دونوں ملکوں کے درمیان جنوری 2016 میں کافی تناو پیدا جب سعودی عرب کے عالم شیخ نمر النمر سمیت درجنوں شیعوں کے سرقلم کردیے۔ ایران نے اس بربریت پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ تہران میں سعودی سفارت خانہ پر بھی حملہ ہوا جس نے صورت حال کو مزید خراب کیا۔ لیکن پس پردہ سفارت کاری نے اس کشیدگی کو بھی مزید اگے نہیں بڑھنے دیا۔
سعودی عرب کے انفراسٹرکچر باالخصوص آرامکو پر گزشتہ ماہ حوثیوں کے ڈرون حملے نے دنیا کو حیران کر دیا، اس حملے کے بعد صورت حال زیادہ خراب ہوئی۔ سعودی عرب نے ابھی اس حملے میں براہ راست ایران کو زمہ دار نہیں ٹہرایا لیکن امریکا نے بغیر وقت ضائع کیے ایران پر الزام عائد کر دیا۔ ایران اور سعودی عرب میں اختلافات ضرور ہیں اس کے باوجود جنگ جیسی صورت حال ہر گز نہیں۔ لیکن امریکا صورت حال کو سنگینی کی جانب لے جانے میں بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ امریکا نے خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد 14 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزار تک پہنچا دی ہے۔ دفاعی نظام کو خطے میں مزید بہتر بنا رہا ہے۔ ستمبر میں آرامکو حملے کے بعد سعودی عرب نے امریکا سے مدد مانگ لی تھی، میزائل سسٹم کو بھی مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔
ایک اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کا تنازعہ ہے۔ یہ بھی درست نہیں کیونکہ خلیج کے بیشتر ممالک سے ایران کے اچھے تعلقات ہیں۔ خطے میں عربوں کی زمین پر قابض ملک اسرائیل بھی ہے جو 57 مسلمان ممالک میں سب سے بڑا دشمن ایران کو گردانتا ہے۔ مسلمان ممالک سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ملک ایران کو اپنا دیرینہ دشمن کہتے ہیں۔
اختلافات سے اختلاف
عام تاثر یہ قائم کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب ایک وہابی ریاست اور ایران شیعہ ریاست ہے یہی دونوں میں اختلافات کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں! کہتے ہیں ریاستوں کا کوئی مذہب نہیں ہوا کرتا۔ ریاستیں اپنے عوام کے وسیع تر مفاد میں ملکوں سے تعلقات قائم کیا کرتی ہیں۔ دور جدید میں ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ انسانیت پر معیشت کو ترجیح دی جارہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فقہی مسئلہ نہیں کیونکہ فلسطین میں اسرائیل کے ساتھ برسرپیکار حماس کی سعودی عرب نہیں بلکہ ایران مدد کر رہا ہے۔ حماس شیعہ نہیں۔
خمینی انقلاب
خمینی انقلاب 1979 سے پہلے ایران امریکا کی آنکھ کا تارا ہوا کرتا تھا لیکن اب اس تارے کی جگہ سعودی عرب نے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل پر بھی ٹرمپ نے چب سادھ رکھی ہے۔ جمال خشوگی کو 2 اکتوبر 2018کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصلیٹ میں انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کا الزام براہ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلطان پر عائد کیا گیا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاموش ہیں۔ یمن میں انسانی المیہ پر خاموشی ہے۔ امریکی صدر کی مسلسل خاموشی محمد بن سلمان کی محبت اور ایران دشمنی میں ہر گز نہیں۔ دراصل امریکا کو سعودی عرب کی بے شمار دولت اور تیل سے محبت ہے۔ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت حال ہی سعودی عرب اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتا رہے گا۔
مذہب نہیں معیشت
مذہب کی بنیاد پر تقسیم کا نظریہ خود سعودی عرب اپنے ملک میں دفنا چکا۔ محمد بن سلمان ماضی کی رجعت پسندی کو مسترد کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کو جدید ملک کی طرف لے جارہے ہیں۔ سعودی عرب نے تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے متبادل ذرائع پر توجہ دینی شروع کر دی ہے۔ سینما اور ڈسکو کلپ تک کھول دیے گئے ہیں تاکہ مغربی ملک کے سیاح بھی سعودی عرب کا رخ کریں۔ بات مذہب کی نہیں معیشت کی ہے۔ سعودی عرب ہو یا ایران دونوں ملک ہی اپنی بقا کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ محمد بن سلمان نے صورت حال کی نزاکت کو جانتے ہوئے پاکستان کو ثالثی کے لیے تیار کیا۔ وزیرا عظم عمران خان نے امن کے سفیر کی حیثیت سے ایران کے صدر حسن روحانی سے نیویارک اور تہران میں ملاقات کر چکے۔ سفارت کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا۔ عمران خان اب جدہ میں سعودی قیادت سے منگل کو ملاقات کر کے صدر حسن روحانی کا پیغام پہنچائیں گے۔
سعودی عرب کی نوجوان قیادت 34 سالہ محمد بن سلمان نے نگاہیں صرف ایران پر نہیں بلکہ خطے سے بھی باہر لگائی ہوئی ہیں۔ بشرط زندگی ان کا قتدار صرف چند سالوں پر نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کشیدگی کو کچھ وقت کے لیے دور کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنی اور دوستوں کی طاقت کا بھی اندازہ ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد سے دوستی مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ بھی الجھنا نہیں چاہتے۔

Facebook Comments