October 15, 2019 at 10:43 am

مرتبہ امتیاز رضوی
محسن پاکستان محمد امیر احمد خان معروف راجہ صاحب محمود آباد کی شخصیت سےتعلق چند حقائق
۱- آپ کے دادا امیر حسن خان نے 1906 میں ہونے والے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا تمام خرچہ اٹھایا تھا جس اجلاس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
۲- آپ کے دادا امیر حسن خان تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے
۳- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم کو اپنی اسٹیٹ محمود آباد کا قانونی وکیل بنایا تھا اس وقت قائد اعظم کے والد کا کاروبار ختم ہو چکا تھا وہ مفلس ہو گئے تھے اور اس قسم کی اشد ضرورت محسوس کر رہے تھے۔
۴- آپ کے دادا امیر حسن خان نے قائد اعظم اور رتی جناح کا نکاح پڑھا تھا اور اپنی ملکیت میں موجود نینی تال کے میٹروپول ہوٹل میں نوبیاہتا جوڑے کے ہنی مون کا اہتمام کیا تھا۔
۵- آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں 1917, 1918 اور 1928 کی صدارت آپ کے دادا امیر حسن خان نے کی۔
۶- محسن پاکستان محمد امیر احمد خان راجہ صاحب محمود آباد آل انڈیا مسلم لیگ کی کور کمیٹی کے سب سے کم عمر ممبر تھے۔
۷- آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے کم عمر خازن تھے اور تنظیم کے اکثر خرچے اپنی جیب سے کیا کرتے تھے۔
۸- آپ کی اسٹیٹ کی آمدنی اس زمانے میں چالیس لاکھ روپے ماہانہ تھی جو اکثر مسلم لیگ کے تنظیمی امور پر ہی خرچ ہو جاتی تھی۔
۹- 1937ء میں لکھنؤ میں ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس کا سارا خرچہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے اٹھایا۔ یہ اجلاس تحریک پاکستان کا ایک اہم موڑ تھا۔
۱۰- 1937ء کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے بعد قائد اعظم نے محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھنے کا حکم دیا جو راجہ صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ آپ اس تنظیم کے پہلے صدر بھی منتخب ہوئے۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے علی گڑھ سے لے کر پشاور تک نوجوان مسلم طالب علموں کو متحرک کیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا۔ نوجوانوں کے اس تحرک کا سہرا محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کو جاتا ہے۔
۱۱- تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے اخبار DAWN کو قائم کرنے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک تمام سرمایہ محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے فراہم کیا۔
۱۲- قیام پاکستان کے بعد محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد نے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی اپنی جائداد حکومت پاکستان کے نام کر دی جس میں واشنگٹن امریکہ میں آپ کے ذاتی گھر میں آج بھی پاکستانی سفارت خانہ کام کر رہا ہے۔ کربلا معلی میں آپ کے ذاتی گھر کو پاکستان ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔
۱۳- 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارتی حکومت نے دشمن کی جائداد کے قانون کے تحت ہندوستان میں آپ کی اربوں روپے کی جائداد ضبط کر لی۔
۱۴- ان سب خدمات کے ہوتے ہوئے بھی آپ نے حکومت پاکستان میں کبھی نہ کوئی وزارت لی اور نہ سفارت بلکہ ایوب خان کی طرف سے کنونشن مسلم لیگ کی صدارت کے عہدے کو بھی ٹھکرا دیا۔ آپ کو ہندوستان میں اپنی جائداد کھو جانے کے بدلے میں تین فیکٹریاں کی آفر بھی کی گئی جسے بھی آپ نے ٹھکرا دیا۔
پاکستان کی تاریخ سے آشنا لوگ کہتے ہيں: پاکستان، سرسيد احمد خان کي تعليمی خدمات، قائد اعظم کي رہنمائی اورراجہ صاحب محمود آباد کي دولت کے مرہونِ منت ہے۔
14 اکتوبر کو اس عظیم انسان کی 46 ویں برسی تھی لیکن پاکستان کا پورا میڈیا اس انسان کو یاد کرنے سے قاصر رہا۔ کیا عظیم قومیں اپنے مخلص محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہیں؟

Facebook Comments