October 13, 2019 at 7:50 pm

تحریر :عبداللہ چیمہ
پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنے یا نکلنے کا حتمی فیصلہ 18 اکتوبر تک ہو گا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے سمیت کئی اہم نکات شامل ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان کو 37 ممالک میں سے کم از کم 15 ممالک کی حمایت درکار ہے جس کیلئے پاکستان نے گزشتہ دو ماہ سے پورے زور و شور سے سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے ۔ چین ، ملائشیا اور ترکی کی حمایت پاکستان کو دستیاب ہے جس وجہ سے پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کے امکانات بہت کم ہیں ۔
گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو کڑے جائزے سے گزرنا ہوگا
پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان باضابطہ مذاکرات 14 اکتوبر سے شروع ہوں گے، 18 اکتوبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔اجلاس میں پاکستان کے وفد کی سربراہی وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہوئی تو پاکستان کو ’گرے لسٹ‘سے خارج کرنے کی کارروائی کا آغاز ہوسکتا ہے ، تاہم اگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستانی اقدامات کو ناکافی قرار دیا تو پھر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق اقدامات پر غور کیاجائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ اسٹڈی مکمل کرکے 150 صفحات کی رپورٹ بھجوائی تھی، جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 سے زائد صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں اور استغاثہ سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا جواب ملنے پرنیشنل رسک اسیسمنٹ عملدرآمد پلان مرتب کرکے عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔
لشکر طیبہ، جیش محمد، داعش، جماعت الدعوۃ، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے دہشت گرد نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے نمایاں عملی اقدام نہ کیے جانے کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے پاکستان کو ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کے خطرات ابھی باقی ہیں۔
ایف اے ٹی ایف کا ایشیا پیسفک گروپ اپنی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی کمیشن پاکستان سمیت دیگر فنانشل ریگولیٹرز کی کارکردگی اور قابلیت کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی پیش کردہ سفارشات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا، پاکستان نے عالمی تنظیم کی طرف سے پیش کی گئی40 سفارشات میں سے ابھی تک صرف ایک پر مکمل عمل درآمد کیا ہے26 پر جزوی 9 سفارشات پرکافی حد تک عملدرآمد کیا گیا ہےجبکہ 4 سفارشات کو سرے سے ہی نظر انداز کردیا گیا ہے۔
پاکستان کو گزشتہ برس جون میں اُس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جب پاکستان دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے والے عالمی ادارے کو دہشت گردی سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات سے مطمئن نہ کر سکا تھا۔ ۔
اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے گذشتہ سال پیرس میں منعقدہ اجلاس میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔

Facebook Comments