October 12, 2019 at 1:13 pm

تحریر:ایم آئی ملک
جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور راول پنڈی میں مدارس کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔ 27 اکتوبر کے احتجاج اور ریلیوں کے لیے کہیں مدارس میں کچھ ہو تو نہیں رہا اس بات کا کھوج لگانے کے لیے سول خفیہ ادارے مسلسل ان مدارس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے ویسے تو ہر سیکٹر میں مدارس ہیں۔ حد یہ ہے کہ اسلام آباد کے حساس ترین علاقے ای سیون میں تو بڑی تعداد میں مدارس کے طلبہ دیکھائی دیتے ہیں۔ جڑواں شہروں میں وفاق المدارس العربیہ کے رجسٹرڈ مدارس 60 ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مدرسے کی پانچ سے6 شاخیں ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر ان مدارس کی تعداد 250 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ذرائع نے خبروالے کو بتایا ہے کہ جمعیت علما اسلام کے حمایت یافتہ بڑے مدارس کی تعداد 20 اور اس سے وابستہ دیگر مدارس کو جمع کریں تو 50 سے زائد ہیں۔ اسلام آباد کا اگر سروے کیا جائے تو شہر میں داخل اور باہر نکلنے سے لے کر اندرون شہر اہم شاہراہوں پر بھی مدارس بنے ہوئے ہیں۔ اندازے کے مطابق صرف اسلام آباد میں 30 ہزار سے زائد طلبہ مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ مرگلہ روڈ ہو یا سیکٹر ای، ایف، آئی، ایچ اور جی سب ہی جگہ مدارس ہیں۔ ایسی صورت حال میں اسلام آباد انتظامیہ نیندیں اڑچکی ہیں۔ انتظامیہ اور حکومت کو گمان ہے کہ مدارس اور دیوبند مکاتب فکر کی مساجد سے مولانا فضل الرحمن کو بہت زیادہ پزیرائی مل سکتی ہے۔ لال مسجد کی شہدا فاونڈیشن پہلے ہی جمعیت علما اسلام کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔ اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت اپنے جوبن پر پہنچ رہا ہے۔

Facebook Comments