October 11, 2019 at 12:37 pm

(اسلام آباد میں ائی ایم ملک سے) کے الیکٹرک کی کراچی میں مون سون بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کی رپورٹ خبر والے نے حاصل کر لی ہیں۔ کے ای نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہلاکتوں سے متعلق جواب جمع کرا دیا ہے۔ کے ای نے کرنٹ لگنے سے 35 ہلاکتوں میں سے 16 کو اندرونی واقعات قرار دے دیا ہے۔

کے ای کا موقف ہے کہ نیپرا نے بھی اعتراف کیا تھاکہ 35 میں سے 16 اموات اندرونی واقعات کے سبب ہوئیں۔ ہلاکتوں کا الزام کیبل آپریٹرز، بجلی چوروں اور ناقص ٹاون پلاننگ پر عائد کیا گیا ہے۔

کے ای نے عوام کی جانب سے حفاظتی تدابیر اختیار نا کرنے کو بھی ہلاکتوں کا سبب قرار دیا۔
کے ای کی دستاویزات کے مطابق بارشوں کے دونوں اسپیلز کے دوران حادثات بیرونی عوامل یا گھروں کے اندر پیش آئے۔ بجلی چور کنڈے، کھمبوں پر غیر قانونی ٹی وی کیبل اور انٹرنیٹ کیبلیں حادثات کا سبب بنیں۔

کے ای کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ لائٹس کنڈے اور ارتھنگ کا سامان چوری ہونے سے بھی حادثات ہوئے۔ کھمبوں کی تجاوزات، بغیر منصوبہ بندی کی آبادکاریاں اور جنریٹرز بھی حادثات کی بڑی وجوحات ہیں۔

کے الیکٹرک نے غیر قانونی ٹی وی انٹرنیٹ کیبلز اور اسٹریٹ لائٹس کے خاتمے کی تجاویز بھی دی ہیں۔ کے ای نے متعلقہ زمہ داراوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ معاملے پر عملدرآمد کے لیے سندھ ہائی کورٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام سے معاونت مانگ لی گئی۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران 2 لاکھ کلو کنڈے ہٹائے لیکن پھر لگائے جارہے ہیں۔

شہری انتظامیہ کی عدم دیکھ بھال بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فقدان بھی حادثات کا بڑا سبب ہے۔ انتیس سے 31 جولائی اور 10 سے 12 اگست کے دوران شدید بارشوں سے صورت حال قابو سے باہر ہوئی۔ متاثرہ علاقوں تک رسائی کرنا کے ای کے لیے انتہائی مشکل تھا۔

چالیس سال کے عرصے میں اتنی تباہ کن بارش کبھی ریکارڈ نہیں ہوئیں۔ سال 1979 میں اس سطح کی بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ شہری انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے الیکٹرک کو ان علاقوں کی بجلی منقتہ بھی کرنا پڑی۔

خطرات کا سبب بننے والے اداروں کو نوٹس اور حکام کو بھی شکایات بھیج دی گئیں۔ پیمرا، پی ٹی اے، وفاق اور صوبائی حکام کو کھمبہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے۔

دستاویز کے مطابق کے ای بھی اندرونی طور پر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Facebook Comments