October 10, 2019 at 11:49 am

تحریر :عامر حسینی
آج روس میں سوشلسٹ انقلاب کی قیادت کرنے والے عظیم انقلابی لیڈرولادیمیر الائچ جسے لینن کے نام سے جانا جاتا ہے کی سالگرہ ہے۔
لینن 22اپریل 1878ء کو پیدا ہوا تھا۔اور آج اس کا 140واں جنم دن منایا جارہا ہے۔
لینن محبت میں ‘توحید ‘ کا قائل تھا بالکل ویسے جیسے اس کا سب سے پسندیدہ لکھاری کارل مارکس تھا۔ بلکہ لینن تو زھد و پرہیزگاری میں ہمیں کارل مارکس سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دیتا کیونکہ اس کے ہاں تو ویسا قصّہ بھی موجود نہیں ہے جو کارل مارکس اور اس کی گھریلو ملازمہ کے حوالے سے تاریخ میں ملتا ہے۔
کروپسکایا لینن کی محبت میں گرفتار ہوئی اور اس کا سلسلہ پیترس برگ میں لینن کی آمد سے بعد شروع ہوا۔
کے این کروپسکایا نے ‘تذکرہ لینن’ کے عنوان سے لینن کے ساتھ اپنے بیتے دنوں کی روداد مرتب کی۔
اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں اس نے ‘سینٹ پیترس برگ/1893 تا 1898’ کے عنوان سے لکھے گئے پہلے باب میں تفصیل سے بتایا ہے۔
یہ بڑی دلچسپ روداد ہے۔ اور حیرت انگیز طور پہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ولادیمیر لینن اوائل عمری سے روسی سماج میں درمیانے طبقے کے اندر پائے جانے والے ‘لبرل رجحان’ کے نمائںدوں کے کھوکھلے پن اور شیخی خوری کا سب سے بڑا ناقد تھا اور اس کی تنقید کی وجوہات میں سے ایک وجہ اس کے پائی اولیانوف کی گرفتاری سے پھانسی تک روسی درمیانے طبقے کے لبرل کہلانے والوں کا بزدلانہ ردعمل تھا۔
لینن کا اپنے بھائی کے دکھ کے حوالے سے سنایا قصّہ ہی کروپسکایا کے دل کو موم کرگیا تھا۔
“لینن 1893ء میں ولگا شہر سے سینٹ پیترس برگ آیا تھا اور میں فوری اس سے نہیں مل پائی تھی۔ مجھے ساتھیوں نے بتایا تھا کہ وولگا سے ایک بہت پڑھا لکھا کامریڈ سینٹ پیترس برگ آن پہنچا ہے۔”
کروپسکایا کہتی ہیں کہ لینن ایک ایسے دور میں سینٹ پیترس برگ آیا تھا جب وہاں
“مارکس وادیوں کے اسٹڈی سرکلز میں سب سے غالب نظریاتی رجحان ایک ایسے مارکس ازم کا تھا جو سماجی ترقی کے عمل کو میکانیکی اور کسی سکیم کی طرح روبہ عمل ہوتے دیکھتا تھا۔ سماجی ترقی کی ایسی تعبیر سماجی ترقی کے عمل میں عوام اور محنت کشوں کے کردار کی بالکل نفی کردیتی تھی۔ گویا مارکس ازم میں سے اس کی انقلابی جدلیات کو الگ کردیا گیا تھا۔ اور میکانکی سماجی ترقی کے مراحل باقی رہ گئے تھے۔ ہم اس وقت تک نظریاتی اعتبار سے کافی کمزور تھے اور ہم مارک س کی بس سرمایہ کی پہلی جلد اور کمیونسٹ مینی فیسٹو کو ہی جانتے تھے۔ لیکن ہم نے ان کو کبھی اچھے سے پڑھا نہیں تھا۔بس ہم جبلی طور پہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ میکانکیت ‘اصل مارکس وادی فلسفے ‘ کے متضاد اور الٹ ہے۔”
کروپسکایا اور دوسرے کامریڈز کے ساتھ لینن کی ملاقات پیترس برگ میں ایک منجھے ہوئے مارکس واد انجینئر کے فلیٹ پہ ہوئی تھی۔ یہ وولگا سے آئے کامریڈز کی پیترس برگ کے مقامی کامریڈز کے ساتھ باقاعدہ پہلی کانفرنس تھی۔اس کانفرنس میں کامریڈز نے پیترس برگ میں کام کرنے کے طریقہ پہ تبادلہ خیال کیا۔کروپسکایا کہتی ہے کہ کامریڈز کے درمیان کسی بات پہ اتفاق نہ تھا مگر کچھ ساتھیوں نے ‘ ناخواندہ کے لیے بنائی گئی کمیٹی ‘ پہ توجہ مرکوز رکھنے کی تجویز دی تھی تو اس پہ کامریڈ ترش انداز میں ہنسے (اس کے بعد دوبارہ میں نے ان کو اس انداز میں ہنستے نہیں دیکھا-کروپسکایا نے لکھا) اور کہا
اچھا، اگر کوئی ناخواندہ کمیٹی میں کام کرکے ملک بچانا چاہتا ہے تو اسے کرنے دیں۔ لیکن یہ بھی بتایا جانا چاہئیے کہ ہماری نسل اپنی نوجوانی میں نردونک (انفرادی دہشت گردی کو انقلاب لانے کے لیے استعمال کرنے والے) اور زار شاہی (روسی ظالمانہ بادشاہت ) کے درمیان لڑائی دیکھ چکی ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا تھا کہ کیسے ‘لبرل’ پہلے پہل ہر ایک چیز (جو اس لڑائی میں ہورہی تھی) کے بارے میں ہمدرانہ انداز رکھتے تھے اور پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے لبرل خوفزدہ ہوگئے تھے جب نردویا ولایا پارٹی ( رائے عوام پارٹی) نے جبر شروع کیا اور کیسے انہوں نے ‘کمتر سطح کی چیزوں’ کو سرانجام دینے کی تبلیغ شروع کردی تھی۔
کروپسکایا کہتی ہے کہ لینن تو وولگا سے لڑنے آیا تھا ناکہ ٹھنڈے انداز میں خود کو پمفلٹ کی تقسیم اور ناخواندہ کمیٹی میں کام کرنے تک محدود رکھنے آیا تھا۔آگے کروپسکایا لکھتی ہے
” بعد میں جب ہم ایک دوسرے کو اچھے سے جان گئے تو ولادیمیر الیائچ نے مجھے ایک دن بتایا کہ کیسے اس لبرل سماج نے اس کے بڑے بھائی الیگزینڈر اولیانوف کی گرفتاری پہ ردعمل دیا تھا۔ تمام شناساؤں نے ایک دم سے اولیانوف خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔اور یہاں تک کہ ایک پرانے استاد ، جو اس واقعے سے پہلے ہر شام چیس کھیلنے آتے تھے انہوں نے آنا بند کردیا۔ سمبرسک میں اس وقت تک ریلوے اسٹیشن نہیں تھا۔ لینن کی ماں چھکڑے میں سیزران تک جانا پڑتا تاکہ وہ پترس برگ جانے والی ٹرین پکڑسکے جہاں اس کا بیٹا قید تھا۔لینن کو اس سفر میں ان کو کمپنی دینے کے لیے کسی کو لیکر آنے کو بھیجا گیا مگر کوئی بھی ایک گرفتار ہوجانے والے آدمی کی ماں کے ساتھ دیکھا جانا نہیں چاہتا تھا۔”
” لینن نے مجھے بتایا کہ اس عام بزدلی نے اسے ہلاکر رکھ دیا تھا۔
کوئی شک نہیں کہ ابتدائی نوعمری میں ہوئے اس تجربے نے نام نہاد لبرل سماج کی طرف اس کے رویے کی صورت گری کی تھی۔ اور اس نے لبرل کی تمام تر شیخی خوری کو اوائل عمری میں ہی جان لیا تھا۔”
اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کروپسکایا اور ولادیمیر لینن جو پین کیک پارٹی کی آڑ میں مارکس واد انقلابیوں کی ایک کانفرنس میں جو ایک فلیٹ میں ہوتی ہے ایک دوسرے سے پہلی بار ملتے ہیں اور کروپسکایا اس پہلی ملاقات میں ہی ہیرو پہ مر مٹتی ہے۔ اگرچہ کروپسکایا اپنے مرمٹنے کا صرف احساس دلاتی ہے۔وہ ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے اس کانفرنس میں دوسرے کامریڈز ہی زیادہ بولتے ہیں اور لینن صرف دوسروں کا نظروں سے جائزہ لینے میں زیادہ مصروف رہتا ہے اور اس دوران اس کے ساتھی جو اپنے آپ کو بڑے مارکس واد سمجھتے تھے لینن کی نظروں کا مرکز بننے پہ بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر کروپسکایا اور لینن دونوں اکٹھے اس فلیٹ سے واپس لوٹتے ہیں۔
تو راستے میں دریا کے کنارے کنارے چلتے چلتے ہیرو(لینن) اپنی روداد ہیروئین(کروپسکایا) کو سناتا ہے۔کروسپکایا کی زبانی سنیں
‘مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہم دریائے نیوا کے کناروں پہ واقع ڈسٹرکٹ اوکٹا سے واپس لوٹ رہے تھے تو میں نے پہلی بار والادیمیر الائچ کے بھائی کی کہانی سنی جو کہ نرودیا ولایا پارٹی کا رکن تھا اور اس نے 1887ء میں زار سوم بادشاہ کو مارنے کی کوشش میں حصّہ لیا تھا اور زار شاہی کے جلادوں نے اسے پھانسی پہ چڑھادیا تھا۔’
پھر کروپسکایا دونوں بھائیوں کے باہمی سلوک بارے بتاتی ہے۔ ان کے گھر کے ماحول پہ روشنی ڈالتی ہے۔ اور بتاتی ہے کہ یہ سب اسے لینن نے فلیٹ سے لوٹتے ہوئے بتایا تھا۔ گویا فلیش بیک میں ہیرو کا بچپن اور اس کے بھائی کے ساتھ گزارے دن اور اس المناک دن کے آنے سے پہلے ہوئے واقعات کو بتایا جارہا تھا۔کروپسکایا کو لینن بتاتا ہے۔

” میں نے سوچا تھا کہ اس کا بھائی انقلابی(زار شاہی کی نظر میں دہشت گرد) نہیں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ میرا بھائی تو اپنا فارغ وقت زیادہ تر خوردبین کے زریعے حشرات الارض کے معانئے میں گزارتا تھا تو وہ کیسے انقلابی ہوسکتا تھا۔مگر میں غلط تھا۔”
اور پھر جب 1894ء میں لینن نے ایک اسٹڈی سرکل میں ‘ عوام کے دوست’ نامی پمفلٹ پڑھ کر سنایا تو کروپسکایا کہتی ہے کہ ہمیں ایسے لگا کہ جیسے ہمیں واضح راہ عمل مل گئی۔ یہ انقلابی سوشل ڈیموکریسی کا منشور تھی اور 1895ء سے 1896ء کے درمیان کروپسکایا پیترس برگ کے ایک ضلع میں ایک سنڈے اسکول ٹیچر تھی جہاں ورکنگ کلاس کو پڑھائے جانے کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔یہاں لینن سے کروپسکایا کی قربت اور بڑھ گئی۔
ایک اور دلچسپ بات جس کا آج ہمارے سماج سے براہ راست تعلق بنتا ہے۔ کروپسکایا بتاتی ہے کہ اتوار کے روز مزدوروں کے لیے لگنے والے اسکول کی کلاس میں وہ ہر موضوع پہ بات کرسکتے تھے اگرچہ زار کے جاسوس وہآں ہوتے تھے لیکن کچھ الفاظ ایسے تھے جن کے بولنے سے گریز کرنا پڑتا تھا اور وہ الفاظ تھے ‘زار’۔۔۔۔ ‘ ہڑتال ‘ وغیرہ ۔۔۔۔ آج ہمارے سماج میں کچھ الفاظ ہیں جن کو پبلک میں بولنے اور پھر سوشل میڈیا پہ لکھنے سے بھی گريز کیا جاتا ہے اور ان کی جگہ ‘نامعلوم’ ۔۔۔ “موچی ” ۔۔۔۔ ‘وقار ‘ اور ‘عظمی ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں۔
“Reminiscences of Lenin”- by N.K. Krupskaya

Facebook Comments