October 9, 2019 at 11:17 pm

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں سےاعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک جانیوالے سیکڑوں اساتذہ واپس نہ آسکے۔ ہر اسکالر پر قومی خزانے سے لاکھوں روپےخرچ ہوئے لیکن اس کےباوجود ان کو ملک واپس نہیں لایا جا سکاہے۔ دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کی جامعات سے 218 اسکالرز کو ایم ایس، پی ایچ ڈی اورپوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے بیرون ملک بھیجا گیا جس میں 65 اسکالرز کورس مکمل کرنے کے باوجود واپس نہیں آئے۔ ذرائع کے مطابق ایم ایس کے ایک اسکالر پر 70 لاکھ روپےاخراجات آتے ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز پر ایک کروڑ اور پوسٹ ڈاکٹوریٹ پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔سرکاری خرچ پر جانے والے ان اسکالرز سے5سال کے لئےبانڈ لکھوایا جاتا ہے جس میں انہیں اسی یونیورسٹی میں 5 سال تک خدمات انجام دینےکا پابند بنایاجا تاہےتاہم بانڈز کی پرواکئے بغیر 65 اسکالر واپس نہیں آئے۔ دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ اسکالرز عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے بیرون ممالک پڑھائی کیلئےگئے۔ جن کی تعداد110 ہے۔ان میں سے 10 نے پوسٹ ڈاکٹوریٹ کی ڈگری حاصل کی۔81 نے پی ایچ ڈی کی۔ 19 نے ایم فل کی ڈگری مکمل کی اور وطن واپس آگئے۔ 44 اسکالرز جن میں 42 پی ایچ ڈی اور 2ایم ایس کےاسکالر شامل ہیں تاحال واپس نہیں آئے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوہاٹ نے 33 اسکالرز کو بیرون ملک تعلیم کے لئےبھیجاجن میں سے 9 کئی ماہ پہلے کورس مکمل کرنےکےبعد بھی تاحال واپس نہیں آئے۔ شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی شرینگل کیمپس نےبھی12 اساتذہ کو اعلی تعلیم کےلئے چین،کوریا اور دوسرے ممالک بھیجاجن میں سے 5 روپوش ہوگئے۔یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی پشاورنے5 اسکالر ،ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور اوریونیورسٹی آف سوات کا ایک ایک اسکالربھی واپس نہیں آیا۔ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کا کورس 2017 میں مکمل ہوگیاہے لیکن تاحال وہ واپس نہیں آئے۔دوسری جانب گومل یونیورسٹی کے 13،ہزارہ یونیورسٹی کے 10، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے 10،باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کا ایک،یو نیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایبٹ آبادکے 5،وومن یونیورسٹی صوابی کے9 اور خیبر میڈیکل یو نیورسٹی کے 3 اساتذہ واپس آۓاور متعلقہ یو نیورسٹی اور شعبے میں خدمات انجام دینا شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ اعلی تعلیم کے پاس ان اسکالرز کو واپس بلانے کا کا کوئی نظام موجودنہیں۔

Facebook Comments