October 9, 2019 at 10:03 am

تحریر:ندیم رضا

چین کے سلک بیلٹ اینڈ روڈ اور میری ٹائم سلک روڈ پروجیکٹ کے تحت چین پاکستان اکنامک کوریڈور- سی پیک کے 46 ارب ڈالر کے منصوبے سے خطے میں موجود کئی ایک علاقائی طاقتوں کو بے جا پریشانی کا سامنا ہے۔
چین نے سلک بیلٹ روڈ و سلک میری ٹائم منصوبے کا اعلان کرکے پرانے سلک روڈ اور بحری راستے سے چین کی دنیا بھر سے جڑت کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا- اس پروجیکٹ پر اب تک 60 سے زیادہ ملک دستخط کرچکے ہیں۔ چین نے باقاعدہ طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں اس منصوبے میں پاکستان کو شامل کرنے کا اعلان کیا اور 2013ء میں دونوں ممالک نے چین پاکستان اکنامک کوریڈور سی پیک کے نام سے اس منصوبے کا اعلان کردیا۔
سی پیک کے تحت 3000 کلومیٹر لمبی سڑک، ریلوے لائن اور تیل پائپ لائن کی تعمیر مغربی چین سے سدرن پاکستان تک ہونی ہے۔ جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔
چین نے جب سلک بیلٹ اینڈ روز اور سلک میری ٹائم پروجیکٹ کے بارے میں اعلان کیا تو ابتداء میں اسے ایک یوٹوپیا قرار دیا جارہا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس منصوبے نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کردی۔ اس منصوبے کے لیے چین 129 ممالک اور 29 بین الاقوامی تنظیموں سے میمورنڈم سائن کرچکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یورپ اور چین کے درمیان ریل لنک شروع ہوچکا۔ کئی ایک بندرگاہوں کی توسیع و ترقی کا کام افریقہ سمیت تین براعظموں میں تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔
سی پیک سے متعلق پاکستان کی مشرقی سرحد پر موجود ہندوستان اور مغربی سرحد پر موجود افغانستان میں برسراقتدار حکومتوں اور ان کی اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے عقابوں کو بے جا تشویش ہے اور وہ عقاب اس پروجیکٹ کو پہلے دن سے متنازعہ بنانے اور تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ہندوستان کے عقاب عناصر نے بلوچستان کے اندر خاص طور پر اس پروجیکٹ کے خلاف مبینہ تخریبی کاروائیاں کیں بلکہ پاکستان کے دوست ملک ایران کی چاہ بہار بندر گاہ پر اس نے معاشی سرگرمیوں کی آڑ میں بلوچستان میں گڑبڑ پیدا کرنے اور چینی کمپنیوں کے لوگوں پر حملوں کے لیے بیس کیمپ بنانے کی کوشش کی۔ فرقہ وارانہ اور نسلی انارکی پھیلانے کی کوشش بھی ہوئی جس کا پول بھارتی راء کے اہم ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے دستاویزات سمیت بلوچستان میں پکڑے جانے سے کھل گیا۔
پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر بھارت کی اس سازش کو ناکام بنایا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بڑھا ہے۔ پاکستان کو اس کی مغربی سرحد سے بھی سی پیک کے پروجیکٹ کو مسلسل چیلنچز کا سامنا رہا- سب سے بڑا ایشو مغربی سرحد پار کرکے آنے والے دہشت گرد تھے۔ پاکستان نے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جو کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے جسے روکنے کی کافی کوشش ہوئی لیکن پاکستان نے باڑ لگانے کا عمل نہ ختم کیا۔ اس سے مغربی باڈر کو محفوظ بنانے میں کافی مدد ملی۔
چین کے سلک روڈ اینڈ بیلٹ اور سلک میری ٹائم روڈ منصوبوں کو امریکا بھی اپنی عالمی حیثیت اور مقام کے لیے ایک چیلنج کے طور پر لے رہا ہے۔ اس نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے ممالک کو ان منصوبوں کا حصّہ بننے سے روکنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ چین سے سمندروں،فضاؤں اور شاہراہوں کے کنٹرولکی جنگ میں وہ جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔
پاکستان کی ترجیحات بھی اسے پسند نہیں۔ کیونکہ پاکستان نے چین سے تعلقات کی قربانی دے کرامریکا کی خواہشات کا احترام کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کی۔ چین ، پاکستان، ایران اور روس افغان ایشو پر بھی ایک ہم آہنگ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ ممالک افغانستان میں ایک کٹھ پتلی کے بجائے حقیقی نمائندہ عوامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ و میری ٹائم روڈ پروجیکٹ کی کامیابی کے اثار نمایاں ہوتے دیکھ کر ایک طرف تو یورپی یونین نے یورپ ایشیا لنک روڈ کا منصوبہ پیش کردیا ہے۔ اس پرآئیندہ 18 اکتوبر 2019ء کو برسلز میں یورپی یونین کی اے ایس ای ایم کانفرنس میں حتمی پروگرام پیش کیا جائے گا۔ دوسری طرف عالمی طاقت امریکا نے بھارت کو ملا کر بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابل کواڈ نامی منصوبہ کھڑا کردیا۔
امریکا،آسٹریلیا، جاپان اوربھارت نے کواڈ تشکیل دیا ہے۔ کواڈ کو انڈو پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال کیا جارہا ہے۔
چاروں ملک مشترکہ اقدار، بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی، انفراسٹرکچر، خطے کو ملانے والے منصوبوں اور اصولوں پر مبنی فریم ورک میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔
اس بھاری بھرکم منصوبے کی لاگت 26 کھرب امریکی ڈالر لگائی گئی ہے۔ منصوبہ کی تکمیل کا ہدف 2030ء کو بنایا گیا ہے۔
یورپ کو ایشیا سے ملانے والے اس منصوبہ کو یورپ ایشیا کنکٹیوٹی پلان کا نام دیا گیا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابل اس کواڈ کو یورپ ایشیا لنک منصوبہ بھی کہتے ہیں۔ یورپی یونین کے جھنڈے تلے بننے والے اس چارملکی اتحاد سے کم از کم 28 ممالک مستفید ہوں گے۔
چین کی ایشیا پر بڑھتی ہوئی معاشی گرفت اور سی پیک کے ذریعے ملکوں کو ملانے کا منصوبہ عالمی طاقتوں کو ناگوار گزر رہا تھا۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو یورپ کنکٹیوٹی پلان کے ذریعے روکنے کی کوشش شروع کی جاچکی ہیں۔ صرف ایشیا یورپ کنکٹیوٹی پلان ہی نہیں بلکہ چین سے تجارتی ٹیرف میں اضافے اور موبائل کمپنیوں پر پابندیاں بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ چینی کمپنیاں بلیک لسٹ قرار دی جارہی ہیں ان پر ویزے کی بھی پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔
آبادی کے حساب سے دنیا کے سب سے بڑے ملک اور 15.54 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دوسری بڑی معیشت چین کے گھیراو کے لیے صف بندیاں کر لی گئی ہیں۔
چین کا گھیراو کرنے والا امریکا 21.41 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی معیشت پر راج کر رہا ہے۔ کواڈ میں شامل جاپان 5.36 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ تیسری بڑی معیشت ہے۔ بھارت 3.16 ٹریلین ڈالر کے ساتھ پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ اس گروپ میں شامل چوتھا ملک آسٹریلیا 1.58 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ 14ویں نمبر ہے۔ چین کے مقابلے میں 12 کروڑ 69 لاکھ آبادی والے جاپان کو آگے لاکر یورپ ایشیا کنکٹی وٹی پلان کو عملی شکل دی جارہی ہے۔
چین اور پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت کنکٹیویٹی پلان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بھارت کے عقاب دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔
امریکا بھی جنوبی ایشیا میں دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت چین کے خلاف بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف امریکا بھارت کی ہر سطح پر مدد کر رہا ہے۔ اسی طرح مشرق وسطی کے ممالک بھی ایک ارب 37 کروڑ کی بھارتی مارکیٹ کو پاکستان پر ترجیح دے رہے ہیں۔
بھارت کا ساتھ دینے کی سب سے بڑی مثال 5اگست 2019 کا سانحہ کشمیر ہے۔ کشمیریوں کا آئینی حق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے پر چین، ترکی اور ایران کے سوا دنیا بھر نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ سب ہی نے انسانیت پر تجارت کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ میلہ دنیا کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام رہا۔ اجلاس کی سائڈ لائنز پر ممالک تجارتی صف بندیوں میں لگے رہے۔ کشمیر، فلسطین، یمن، شام، افغانستان اور دیگر ممالک میں انسانیت کی تزلیل کی جارہی ہے۔ لیکن سب خاموش رہے۔
اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی بھی ماضی ہی کی طرح رہی۔ جس میں کئی ممالک کے سربراہان شریک ہی نہیں ہوئے۔ لیکن اس دفعہ اقتصادی صف بندیوں پر بہت زیادہ توجہ دی گئی۔
محتاط اندازے کے مطابق 74ویں جنرل اسمبلی کی سائڈ لائنز پر بھارت سب سے زیادہ فیض یاب ہوا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر نریندرا مودی کا ساتھ دیا۔

کشمیر پر اقوام متحدہ بھارت سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکی۔ اور تو اور ہیوسٹن جلسہ میں جس طرح نریندرا مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ دنیا کے ریکارڈ پر موجود ہے۔
امریکی صدر نے ناراضی کے بجائے مودی کی پشت پر تھپکی دی۔ ہیوسٹن جلسہ سے مودی نے اگلے سال ہونے والے صدارتی الیکشن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا بھی آغاز کیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا میں تقریبا 45 لاکھ بھارتی شہری آباد ہیں۔ اسرائیل کے بعد دوسری بڑی لابی بھارت ہی کی ہے۔ امریکا کے تمام پبلک سیکڑ، تھینک ٹینکس، وائٹ ہاؤس اور ائیرپورٹس الغرض ہر جگہ بھارتی شہری ہیں۔
امریکا کی سیاست میں بھی بھارتی شہری بھرپور طریقے سے سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر جگہ پاکستان کا راستہ روکنے کے لیے متحرک ہیں۔
اگر پاکستانیوں کی بات کریں تو وہ صرف 4 لاکھ ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستانی امریکا کے سسٹم کا حصہ نہیں بنتے۔ بیشتر ہوبر چلاتے ہیں یا کنسٹرکشن کے کام سے وابستہ ہیں۔ وہ صرف آپس ہی میں ملتے جھلتے ہیں اور ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتے رہتے ہیں۔ سیاسی میدان میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں کر سکے۔
امریکا میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو بھی از سرنو پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔ امریکا میں پاکستانی مشن اور سفارت خانہ کو بھی متحرک ہونا پڑے گا۔ موجودہ صورت حال سے بھی اگر سبق نہ سیکھا تو پھر اسی طرح معیشت کی بہتری کے لیے بڑھائے جانے والے قدم روکے جاتے رہیں گے۔ اور دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔

ندیم رضا سئنير صحافی،تجزیہ نگار ہیں۔ آج کل وہ جی نیوز ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز اور کرنٹ افئیرز ہیں۔

Facebook Comments