October 8, 2019 at 6:15 pm

تحریر عامر حسینی

عراقی نوجوانوں نے عراقی حکومت کی جانب سے مظاہروں میں اضافے کو روکنے اور بدترین کریک ڈاؤن کے بارے میں خبروں کو چھپانے کے لیے ملک کے 70 فیصد حصّے میں انٹرنیٹ سروس منقطع کردی ہے- فیس بک، وٹس ایپ اور انسٹا گرام کو بند کردیا گیا ہے۔ بغداد سمیت کئی شہروں سے شائع ہونے والا عراقی اخبار ‘ الزمان’ کی سرورق پر ہیڈ لائن کہتی ہے۔

‘نوجوانان عراق انٹرنیٹ سروس بلاک ہونے کے بعد ‘احتجاج کرنے والوں’ کی آواز کو دوسروں تک پہنچانے کے متبادل طریقوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔
شبان عراقيون يلتفون على قطع الإنترنت لإيصال صوت المحتجين
تفصیل میں لکھا ہے۔
عبر اللجوء الى وسائل إرسال سرية وأساليب غير مستخدمة على نطاق واسع ورسائل خارجية باهظة الثمن، يحاول شبان عراقيون الالتفاف على عملية حجب الإنترنت التي أقدمت عليها السلطات العراقية لتضييق الخناق على الاحتجاجات الدامية.
عراق حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بلاک کرکے احتجاج کرنے والوں کے خلاف ہلاکت انگیز کریک ڈاؤن کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے عراقی نوجوان خفیہ طریقوں، غیر استعمال شدہ نئے طریقوں اور مہنگے زرایع کے زریعے سے پیغامات بھیجنے کی کوشش کررہے ہیں۔
منگل کو عراقی حکومت کے خلاف بغداد میں منصورہ سے مظاہرے شروع ہوئے تھے اور بدھ کو ان مظاہروں پرعراقی سیکیورٹی فورسز نے گولی چلادی جس سے اب تک 110 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ عراقی حکومت نے پہلے فیس بک، وٹس ایپ پر پابندی لگائی اور پھر یہ پابندی انٹرنیٹ پر لگادی تھی- جس کے سبب مظاہرین رابطے کے روایتی طریقوں کو ہی استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ الزمان اخبار لکھتا ہے کہ سارے عراقی ایسے نہیں ہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی پابندی کا توڑ نہ نکال سکے ہوں۔
بغداد میں ایک انٹرنیٹ سروس پروائڈر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے اپنے صارفین کو سروس کی فراہمی حکومت کے حکم پر بند کردی ہے لیکن وہ اور اس کے ملازمین اس سروس کو استعمال کررہے ہیں۔ عراق میں جب منگل کو فیس بک بلاک ہوئی تو بہت سارے عراقی وی پی این ایپ استعمال کرنے لگے اور بہت سارے عراقیوں نے ‘سینمانا ‘ ایپلیکشن جو پاپولر پروگرام آن ائر کرتی ہے کے کمنٹس سیکشن میں جاکر مظاہروں کا پروگرام شئیر کرنا شروع کردیا تھا۔ الزمان میں ہی کریم عبد زائر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے۔
أكدت‭ ‬المرجعية‭ ‬الدينية‭ ‬الشيعية‭ ‬العليا‭ ‬في‭ ‬العراق‭ ‬في‭ ‬مدينة‭ ‬كربلاء‭ ‬الجمعة‭ ‬دعمها‭ ‬لمطالب‭ ‬المتظاهرين،‭ ‬داعية‭ ‬الحكومة‭ ‬العراقية‭ ‬إلى‭ ‬‮«‬تدارك‭ ‬الأمور‭ ‬قبل‭ ‬فوات‭ ‬الأوان‮»‬‭. ‬وتشكيل‭ ‬لجنة‭ ‬من‭ ‬خارج‭ ‬احزاب‭ ‬السلطة‭ ‬تتميز‭ ‬بالنزاهة‭ ‬لحل‭ ‬الازمات‭ .‬
وفي‭ ‬خطبة‭ ‬الجمعة،‭ ‬قال‭ ‬أحمد‭ ‬الصافي‭ ‬ممثل‭ ‬آية‭ ‬الله‭ ‬العظمى‭ ‬علي‭ ‬السيستاني‭ ‬أعلى‭ ‬مرجعية‭ ‬شيعية‭ ‬في‭ ‬العراق،‭ ‬إن‭ ‬‮«‬هناك‭ ‬اعتداءات‭ ‬مرفوضة‭ ‬ومدانة‭ ‬على‭ ‬المتظاهرين‭ ‬السلميين‭ ‬وعلى‭ ‬القوات‭ ‬الأمنية‮»‬،‭ ‬مؤكدا‭ ‬أنه‭ ‬‮«‬على‭ ‬الحكومة‭ ‬أن‭ ‬تغير‭ ‬نهجها‭ ‬في‭ ‬التعامل‭ ‬مع‭ ‬مشاكل‭ ‬البلد‮»‬‭ ‬و‮»‬تدارك‭ ‬الأمور‭ ‬قبل‭ ‬فوات‭ ‬الأوان‮»‬‭.‬
شہر کربلا عراق میں شیعہ کے سب سے بڑے مراجع کے نائب نے جمعہ کے خطبہ میں مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کی اور حکومت عراق کو کہا کہ وہ وقت کزر جانے سے پہلے ہی ان امور کا تدارک کرے جن کی وجہ سے مظاہرے ہورہے ہیں۔ حکومتی پارٹیوں سے ہٹ کر لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس بحران کا حل تلاش کرے۔ خطبہ جمعہ میں آیت اللہ العظمی علی السیستانی عراق میں سب سے بڑے مراجع اہل تشیع کے نمائندے احمد الصافی نے کہا،’ پرامن مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں- انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو مسائل سے نمٹنے کی اپنی موجودہ روش بدلنا ہوگی۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
آیت اللہ سیستانی کے نمائندے نے اپنے نماز جمعہ کے خطبے میں یہ بات تسلیم کی کہ
بے روزگاری،مہنگائی ، غربت سمیت وہ سارے مسائل موجود ہیں جن کو لےکر احتجاج کیا جارہا ہے۔ پبلک فنڈز میں کرپشن بھی ہوئی ہے۔ حکومت بے روزگاری کا حل نکالے۔ پبلک سروسز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور عوام کے فنڈز پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو انصاف کے کہٹرے میں لاکر کھڑا کرے۔ ان کا بیان ایک بات تو صاف ظاہر کرتا ہے کہ مظاہروں کے بارے میں عراق کی سب سے طاقتور مذہبی اسٹبلشمنٹ کا مرکزبھی کم از کم اس احتجاج کو ‘مغرب کی سازش’ یا ‘اربعین'(چہلم امام حسین علیہ السلام) کو روکنے کی سازش خیال نہیں کرتا۔
پاکستان میں کچھ رجعت پسند شیعہ مذہبی جماعتوں کے کارکن اور ان کے حامی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عراق میں عوامی ابھار کو ‘چہلم امام حسین ‘ کے اجتماع کو روکنے کی سازش قرار دے کر اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا اظہار کررہے ہیں۔ عراق میں حقیقی مسائل زندگی کے گرد احتجاجی مزاحمتی تحریک عراقی عوام کے درمیان مذہبی اور نسلی شناختوں سے اوپر اٹھ کر ایک بے مثال یک جہتی اور ایکتا کا سبب بنی ہے اور یہ عراقی عوام کے لیے اچھا شگون ہے۔ اس تحریک میں شمولیت سے عراق کے ترقی پسند اور بائیں بازو کی قوتوں کے عوام میں اپنی جڑوں کو اور مضبوط بنانے کا موقع میسر آیا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف عراق جس کے دو اراکین عراقی پارلیمنٹ میں ہیں نجف اشرف عراق اس کے مضبوط ترین گڑھ میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے وہ بھی اس تحریک میں شامل ہے۔

Facebook Comments