October 7, 2019 at 8:11 pm

تحریر:بتول فاطمہ

عراق کی حکومت نے عاشورہ اور اربعین پر آنے والے زائرین کے لیے ویزے کے حصول میں مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس سال عراقی حکومت نے اربعین پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے اوپن ویزہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے سخت شرائط عائد کردی ہیں۔ اربعین میں شرکت کے لیے اب عراقی وزارت داخلہ اور خارجہ کی منظوری کے بغیر کوئی درخواست قبول نہیں جائے گی۔ منظوری میں دس سے بارہ روز اور پھر ویزہ کے اجرا میں چار سے پانچ روز کا وقت لگنے لگا۔ عراق کارواں لے جانے والے آپریٹرز اور انفرادی زائرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس طریقہ کار پر بھی عمل کیا تاہم اس کے باوجود عراقی سفارت خانہ اسلام آباد میں تاخیری حربے اسنعمال کیے جارہے ہیں۔ اس صورت حال نے لاکھوں زائرین کو ازیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں زائرین کے ایڈوانس میں خریدے گئے مختلف ائیرلائنز کے ٹکٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سے ہر سال اربعین پر کئی لاکھ زائرین زمینی اور فضائی راستوں سے کربلا سمیت نجف اور کاظمین کا رخ کرتے ہیں۔ پہلے عراقی ویزہ کا حصول آسان ہوا کرتا تھا لیکن پچھلے سال سے ویزے کی شرائط سخت کر دی گئی ہیں۔ ان تاخیری حربوں سے جہاں عشق آل رسول رکھنے والے ذہنی ازیت کا شکار ہیں وہیں ملک بھر سے قافلے لے جانے والوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔
قافلے لے جانے والے سالار ہر سال کروڑوں روپے صرف ٹکٹوں کی مد میں اربعین پر زائرین سے کماتے ہیں۔ ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنسیاں مہینوں پہلے مجموعی ٹکٹ کی قیمت کا 20 سے 30 فیصد ادا کرکے ہزاروں ٹکٹ کم قیمت پر خرید لیتی ہیں۔ جیسا کہ سب کے علم ہے کہ جیسے جیسے اربعین قریب آتا ہے کم قیمت پر خریدے گئے ٹکٹ کی قیمت ڈبل سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو یہ کارواں والے زائرین کو بڑھی ہوئی زیادہ سے زیادہ قیمت پر وہ ٹکٹ فروخت کرتے ہیں۔ اورتو اور کم آمدنی والے زائرین جو بہت زیادہ پیسے ایک ساتھ دینے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لیے ماہانہ بنیاد پر کمیٹیاں یعنی مخصوص رقم جمع کرانے کی اسکیمیں بھی متعارف کرا رکھیں ہیں۔
امام حسین کی محبت میں زائرین یہ بھی کر رہے ہیں۔ زائرین کے نزدیک موودت اہل بیت میں پیسوں کی کوئی قیمت نہیں لیکن مذہب کی بنیاد پر زائرین کی جیبیں کاٹنا بھی درست نہیں۔ صرف پاکستان میں اربعین اربوں روپے کی ایک باقاعدہ صںعت بن چکی ہے۔
ٹور آپریٹرز صرف پاکستان ہی میں زائرین کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈالتے بلکہ عراق میں بھی طرح طرح سے زائرین کو جذباتی کرکے نذر و نیاز کے نام پر بھی ڈالرز بٹورے جاتے ہیں۔ پاکستان سے عراق اور عراق سے پاکستان تک کے سفر اور خوراک کے پیسے پہلے ہی لینے کے باوجود زیارتوں کے دوران بھی جیبیں صاف کر لیتے ہیں۔
اس مرتبہ عراق حکومت کی پالیسی تبدیل ہونے پر تمام چھوٹے بڑے کارواں والے، ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنسیاں سکتے میں ہیں۔ زائرین پر زیادہ پیسوں کا بار ڈالنے والے آج شور مچا رہے ہیں۔ وہ صرف زائرین کو لے کر چرچا کر رہے ہیں کہ لاکھوں زائرین زیارت سے محروم رہ جائیں گے یہ نہیں بتا رہے کہ زیادہ پیسوں کے لالچ میں انویسٹ کیے گئے ان کے کروڑوں روپے ڈوب جائیں گے۔ زائرین کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت اربعین پر ویزا پالیسی نرم کرے اور حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔ اس صورت حال میں زائرین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو بھی ہوش کے ناخون لینا ہوں گے۔

Facebook Comments