October 6, 2019 at 10:45 am

تحریر: وقار زیدی

بدقسمتی سے پاکستان کے حکمراں ہمیشہ سےہی مشکل حالات میں اوروں یاغیروں کی طرف دیکھنےکےعادی دکھائی دیتےہیں۔ ملکی حالات بےشک کسی مہم جوئی کےمتحمل نہیں ہوسکتےمگررواں سال کےآغازسےپاک بھارت کشیدگی نےجہاں موجودہ حکومت کےلیےوہ مشکلات پیداکیں جوحل اسی صورت میں ہوسکتی ہیں کہ جب عوام،حکومت اورسیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پریکجا ہوں۔ رواں ہفتے شروع ہونے والے وزیراعظم کےدورہ چین کےاثرات بعدمیں سامنےآئیں گےمگرہم آپ کوزرااس پہلوپرروشنی ڈال کردکھاتےہیں کہ وزیراعظم نےگزشتہ تین چارماہ سےامریکاسمیت دنیابھرکےمختلف ملکوں کےدورےکیےان کی وجہ کیاتھی۔۔ کیاپاکستان کسی ایسےبھنورمیں پھنس گیاہےجسےدوسرےکسی ملک کی مددسےحل کیاجاسکتاہے؟۔ شایدنہیں۔۔ تجزیہ کاروں کامانناہےکہ پاکستان ستائیس فروری کےبعدایک ایسےگرداب میں پھنساہےجس سےنکلنےکےلیےاس گرداب سےبچتےہوئےدورنکل کرحل تلاش کرناہوگا۔۔ یہی نہیں ملکی خراب معیشت اورگرتےہوئےزرمبادلہ کےذخائرہمیں مسلسل اس بات سےمنع کررہےہیں کہ کسی قسم کی مہم جوئی سےبازرہاجائے۔۔ شایداس لیےوزیراعظم نےامریکاکےدورےکیےاقوام متحدہ میں بیٹھک لگائی۔ جینوامیں ہم خیال دوست کومقبوضہ کشمیرکی صورت حال پراپناہم آوازبنایا۔۔ مگرسپہ سالارنےبھارت کوناپاک کوشش کےنتیجےسےبھی پیشگی مطلع کردیاہے۔۔ دودن قبل بھی وزیراعظم نےکہاہےکہ ایل اوسی پارکرنےوالےبھارتی بیانیےکےہاتھوں میں کھیلیں گےلائن آف کنٹرول پارکی توبھارت کومقبوضہ کشمیرکےعوام پرظلم کانیااجازت نامہ مل جائےگا۔
مگرکیایہ صرف کشمیریاملکی معیشت کی بہتری کےلیےکیاجارہاہے؟۔ شایدایسانہیں۔ یہ بات سمجھنےکےلیےہمیں زرا اونچائی پرجاکردنیاکودیکھناہوگا۔ ہمیں 1945 والا دنیا کا نقشہ یادکرناہوگاابھی دوسری عالمی جنگ جاری ہے۔۔ روس کی برف سےسفیدوولگاندی ہٹلرکی فوج کےخون سےسرخ ہوگئی ہے۔ امریکاروس کےٹکڑےتونہیں کرپایامگرسرحدسےمتصل کئی چھوٹےچھوٹےملک ایسٹونیااورلٹاویاجیسےملک پیداکرنےمیں کامیاب ہوگیامگرروس یعنی ٹکرکاملک ٹوٹ نہیں سکا۔۔ امریکاکویہ کامیابی ملےگی مگرکافی عرصےبعداوروہ بھی ایک دہشت گردی کےخلاف جنگ کےاتحادی یعنی پاکستان کےہاتھوں۔
زرااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کاحالیہ اجلاس یادکریں۔۔ چین امریکاتجارتی تنازع،تارکین وطن کےیورپ امریکامیں داخلےپرجھگڑے،آبنائےہرمزمیں تیل سپلائی کولاحق خطرات،ماحولیاتی تبدیلیوں پربڑھتےہوئےدباؤ،مقبوضہ کشمیرپرپاک بھارت کشیدگی اورغربت کےخاتمےکےملینیم ڈویلپمنٹ اہداف یہ سب عالمی مسائل ہیں جواقوام متحدہ میں زیربحث آئے۔۔
آپ پاکستان اوربھارت کےتنازعےکوبےشک معمولی کہہ لیں مگراس سےبڑاتنازع امریکااورچین کےدرمیان جاری ہے۔اس تجارتی تنازع کےاہم فریق چین کےصدرشی جن پنگ حسب اقوام متحدہ میں غائب رہے۔ صدرولادیمیرپیوٹن کوبھی جنرل اسمبلی کےاجلاس میں زیادہ دلچسپی کبھی نہیں رہی۔ داخلی سیاسی بحران میں گھرے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو،کینیڈاکےوزیرِاعظم جسٹن ٹروڈیواورامریکی عتاب کےشکاروینزویلاکےصدرنکولس ماردوونےبھی شرکت نہیں کی۔
اقوام متحدہ کے 193 رکنی جنرل اسمبلی کےاجلاس میں شریک امریکی صدرکےعلاوہ ایرانی صدرحسن روحانی،پاکستان کےوزیراعظم عمران خان،بھارت کےنریندرمودی،سعودی وزیرِخارجہ،تُرک صدرسمیت کئی ملکوں کےرہنماؤں پران کےملکوں کےعوام کی نظریں لگی تھیں۔ ہرکسی نےاپنےایجنڈےکےمطابق سال کےسب سےبڑےسفارتی ایونٹ میں خیالات کااظہارکیاکسی نےسفارتی اطوارکےمطابق ڈھکاچھپالب ولہجہ اپنایاتوکوئی اپنی سیاسی ضروریات کےتحت شعلہ بیانی میں مصروف نظرآیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاجلاس سےباہربھی بہت کچھ ہوتا رہا۔ جہاں فارن سروس کےعہدےداراپنےملکوں کےسربراہوں کی سائیڈلائن ملاقاتوں کےلیےگراؤنڈورک کرتےاوررکاوٹیں دورکرتےہیں۔۔
سائیڈ لائن ملاقاتوں کےحوالےسےاس خطےکےلیےسب سےاہم اجلاس امریکا،جاپان،آسٹریلیااوربھارت کےچارفریقی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کےوزرائےخارجہ کااجلاس تھا۔۔ یہ چارفریقی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کواڈکہلاتاہے۔۔ کواڈکوانڈوپیسفک خطےمیں چین کےبڑھتےہوئےاثرورسوخ کےمقابلےکےلیےنئےسرےسےفعال کیاگیاہےاوریہی سےوزیراعظم کےدورہ چین کی وجہ معلوم چلنی شروع ہوتی ہے۔۔
اس سےپہلےبھارت چین کی ناراضی کےڈرسےاس ڈائیلاگ کووزارتی سطح پرلانےکی مخالفت کرتارہاہےلیکن اس سال جموں وکشمیر اورلداخ کےمعاملےکےبعددونوں ملکوں کےتعلقات میں ایسارخنہ پڑاکہ بھارت کی پالیسی میں تبدیلی آگئی۔۔ یوں بھی کہہ سکتےہیں کہ سی پیک منصوبےسےبھارت کوباہررکھاگیایہ بات بھارتی حکمرانوں کوہضم نہیں ہوئی۔
چارفریقی ڈائیلاگ کےبعدباضابطہ بیان جاری نہیں کیاگیاتاہم چاروں وزرائےخارجہ نےاجلاس کی خبرایک ٹوئٹ کےذریعےدی۔۔ آسڑیلوی وزیرخارجہ نےبھارتی اخبارات کےرابطےپرای میل پیغام میں کہاکہ چاروں ملکوں نےاس اجلاس میں اپنی مشترکہ اقدار،بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی،انفرااسٹرکچر،خطےکوباہم ملانےوالےمنصوبوں اوراصولوں پرمبنی فریم ورک میں تعاون کےعزم کااعادہ کیا۔۔
امکانی طورپرسی پیک کےمقابلےمیں نیامنصوبےلانےوالےاس ڈائیلاگ کےرکن جاپان کےوزیراعظم نےاس اجلاس کےایک دن بعدبرسلزمیں یورپی کمیشن کےصدرجون کلاڈجنکرکےساتھ ملاقات میں ایک منصوبےپردستخط کیےجسے‘یورپ ایشیاکنکٹیوٹی پلان’ کانام دیاگیاہےاس منصوبےکویورپ ایشیالنک منصوبہ بھی کہاجاسکتاہے۔۔ یہ منصوبہ چین کےبیلٹ اینڈروڈمنصوبےکےمقابلےمیں لایاگیاہے۔ چارفریقی ڈائیلاگ میں انفرااسٹرکچراورکنکٹیوٹی کی جوبات کی گئی یہ اسی طرف اشارہ تھا۔۔
یعنی اب بلی تھیلےسےباہرآگئی۔۔ یہ چارممالک کااتحادکس بڑےملک کی سرپرستی میں ہوایہ توآپ جان ہی گئےہوں گےچین کےخطہ ایشیاپربڑھتی ہوئی معاشی گرفت اورسی پیک منصوبےسےکچھ ملکوں کوساتھ ملانےکےخلاف یورپ کنکٹیوٹی پلان بنایاگیاہے۔۔ امریکانےچین سےتجارتی ٹیرف چھوٹی موبائل کمپنیوں پرپابندی عائدکریہ بھی ثابت کردیاہےکہ اسے چین کی کامیابی کس قدرناگوارگزرہی ہےاس لیےچین کےمقابلےمیں ایک بہت چھوٹےمگرباصلاحیت عوام کےملک چین کےذریعےپیچھےسےکان پکڑنےکی کوشش کی گئی ہے۔۔ زراگلوب پرنظرڈال کردیکھیں توجاپان کےآگےپیسفک سمندرہےجوسیدھاامریکاسےجاکرملتاہے۔۔ اگرچہ منصوبہ فول پروف ہےکسی ملک کی مداخلت کاسوال پیدانہیں ہوتامگرچین کیایہ منصوبہ مکمل ہونےدےگایہ سوال قبل ازوقت ہوگا۔۔
یورپ ایشیالنک منصوبےپردستخط کی تقریب میں جاپان کےوزیراعظم شنزوایبےاوریورپی کمیشن کےسربراہ جون کلاڈجنکرنےبیلٹ اینڈروڈاورچین کانام لیےبغیراسےشدیدتنقیدکانشانہ بنایا۔ پاکستان میں سی پیک بھی بیلٹ اینڈروڈکاایک حصہ ہےجسےچین بیلٹ اینڈروڈکےایک ماڈل منصوبےکےطورپرپیش کرتاآیاہے۔۔ جاپان کےوزیراعظم شنزوایبےنےچین پرڈھکی چھپی تنقیدمیں کہاکہ خواہ ایک سڑک ہویاایک بندرگاہ، جب یورپی یونین اورجاپان کسی منصوبےکی تعمیرکی ذمےداری لیتےہیں توہم انڈوپیسفک سےمغربی بلقان اورافریقاتک پائیدار،اصولوں پرمبنی کنکٹیوٹی کی صلاحیت رکھتےہیں۔ یورپی کمیشن کےسربراہ نےبھی چین پربین السطورتنقیدمیں کہاکہ یورپی یونین ‘قرض کےپہاڑوں’کےبغیرانفراسٹرکچرکی تعمیرمیں مدددےگی۔۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی سائیڈلائن پرچارفریقی اسٹریٹجک ڈائیلاگ،برسلزمیں یورپ ایشیالنک منصوبےپردستخط،جاپان کےڈیفنس وائٹ پیپرکااجراایک مربوط سفارتی کوشش کانتیجہ ہے۔ یہ مربوط سفارت کاری اقوام متحدہ اسمبلی اجلاس کےدوران انجام کوپہنچی۔
امریکااب دہشت گردی کےخلاف جنگ کی پالیسیوں سےنکل کرچین اورروس سےمقابلےاورممکنہ تصادم پرتوجہ دےرہاہےایسےمیں پاکستانی وزیراعظم اب جوچین کےدورےپرگئےہیں وہ دراصل اقوام متحدہ میں کی گئی تقریرسےبھی زیادہ اہم ہوگاکیوں کہ سی پیک منصوبےسےملک کوخوش حالی کےباغ دکھائےتھےکم ازکم وہی نظرآجائیں مگرمہنگائی،بےروزگاری،اسٹریٹ کرائم اورڈینگی سےکوئی شخص بچارہ سکاتواس کاضروریہ حق بنتاہےکہ وہ حکومت سےان تمام حالات میں پاکستان کی حکمت عملی کاسوال ضرورپوچھے۔

Facebook Comments