October 5, 2019 at 2:32 pm

تحریر:آئی ایم ملک
یہ ابلاغ کی دنیا ہے یہاں سچ بھی دلیلوں کا محتاج ہے۔ اکثر اوقات سچ کے متوازی ایسی ایسی دلیلیں دی جاتی ہیں کہ جھوٹ پر بھی سچ کا گمان ہوتا ہے ۔یہ سب کچھ کبھی میڈیا کے ذریعے ہوتا تھا مگر اب سوشل میڈیا نے مین سٹریم میڈیا کی ہیئت ہی بدل کر رکھ دی ہے ۔دنیا میں اب ہر فرد جس کا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ ہے وہ دنیا کے سچ اور جھوٹ پر برابر اثر انداز ہونے کی اہلیت رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آنے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں میں اس میڈیا کاکردار سب سے نمایاں ہے ۔ امریکی انتخابات سے پاکستانی انتخابات تک ،اصل معرکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ہو رہا ہے۔بہت سے اکاؤنٹ فرضی ہیں جہاں سے خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں ۔
یہ صحیح نہیں ہے ۔یہ گھڑی ہوئی بات ہے اور اسے کسی خاص مقصد کے لئے پھیلایا گیا ہے۔
چینلوں کے نام سے ایسے جعلی اسکرین شاٹس فیس بک پر زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ٹویٹر کے مقابلے میں ہر مکتب فکر کے لوگ موجود ہیں جبکہ ٹویٹر پر زیادہ تر لوگ سیاسی عمل میں کسی نہ کسی سطح پر شریک ہیں، اسی لیے ٹویٹر پر موجود لوگ فیس بک کے مقابلے میں زیادہ باشعور ہیں ۔لیکن کسی بھی خبر کی صداقت کو پرکھنے تک وہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہوتی ہے ۔یہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ کوئی بھی جعلی خبر پلک جھپکتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ۔لیکن ان خبروں کی تصدیق کے لئے پھر الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لینا پڑا۔
نیو امریکہ، جسے پہلے نیو امریکہ فاؤنڈیشن کہا جاتا تھا امریکہ کا ایک غیر سرکاری تحقیقی ادارہ ہے اس سے منسلک ایمرسن ٹی بروکنگ اور پی ڈبلیو سنگر جنہوں نے مشترکہ طور پرLike War:The Weaponization of Social Mediaنامی کتاب بھی لکھ رکھی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ ہر رو زاندازاً پانچ کروڑ ٹویٹس ہوتی ہیں جبکہ یو ٹیوب پردنیا کی 76زبانوں میں تقریباً سات گھنٹے کی فوٹیج ہر سیکنڈ میں اپ لوڈ ہو رہی ہے ۔دنیا میں تین ارب چالیس کروڑ لوگ جو دنیا کی آدھی آبادی سے کچھ ہی کم ہیں ،وہ انٹر نیٹ استعمال کر رہے ہیں ۔
پاکستان میں بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہے ۔پی ٹی اے کے مطابق ملک میں چھ کروڑ بیس لاکھ لوگ ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں ۔اتنے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل دنیا کی تشکیل یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ یہاں کسی بھی تصویر ، وڈیو کے ساتھ کوئی بھی سلوک کیا جا سکتا ہے ۔اگرچہ تیکنیکی طور پر کافی ترقی ہو چکی ہے مگر پھر بھی اس جعل سازی کو روکنا بہت دشوار ہے ۔کسی بھی ویڈیو کو اس کی اصل رفتار سے کم یا زیادہ رفتار سے چلانا اور اس کے ساتھ ہی اس میں مرضی کا موادشامل کر دینا اب ممکن ہے ۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سیاسی نظریات پھیلانے کے چلن کو پاکستان میں روشناس کرانے کی بانی سمجھی جاتی ہے ۔پاکستان کے موجودہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے 2012ء میں، جب وہ مخالف پارٹی میں تھے ، کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ماہانہ بنیادوں پر 780لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں جو فیس بک اور ٹویٹر پر سرگرم رہتے ہیں ۔لیکن پھر وقت بدل گیا ۔اب اسی جماعت کو آن لائن پراپیگنڈے کا سامنا ہے ۔اقتدار میں آنے کے چند ہفتے بعد ہی اسی جماعت کے وزیر اطلاعات کے نام سے ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ۔اب عام لوگوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ کیسے فیصلہ کریں کہ جعلی کون سا ہے اور اصلی کون سا ہے ۔سوشل میڈیا کے اس ہتھیار کو پاکستان تحریک انصاف نے بھر پور پروپگینڈے کے طور پر استعمال کیا اور اپنی جماعت کی بھر پور ترجمانی کی جس سے عام صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہے۔انتخابات سے قبل اس دور میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جہاں سوشل میڈیا پر بجٹ رکھا گیا تھا وہی مختلف بڑے چینلز بھی ان کے حامی دیکھنے کو ملے جن کے بارے عام رائے یہی تھی کہ ان چینلز میں پی ٹی آئی کے ایڈ شامل ہیں اس لئے وہاں دھرنے کی مکمل کوریج مثبت طریقے سے کی جاتی تھی۔
اس کے مقابلے میں اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے بھی سوشل میڈیا کو فعال کیا اور اس کی سربراہی سابق سینئر صحافی و مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید کو سونپی۔مریم نواز نے خود بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی نگرانی شروع کی اور پی ٹی آئی کے پروپگینڈے کا بھر پور جواب دیا ۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت کو بھانپتے ہوئے مسلم لیگ (ن) نے ویب سائٹ اور موبائل ایپ کے اجراٗ بھی کیا جس کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر ہر بھیجے گئے ۔اربوں روپے اس ٹیم کے لئے لگائے گئے جو اب بھی مسلم لیگ ن کی حمایت میں سوشل میڈیا میں بھر پور دفاع کررہے ہیں ۔
جہاں سوشل میڈیا میں صحیح اور غلط کی تمیز کرنے والا کوئی نہیں ایسے میں اگر الیکٹرانک میڈیا کا ڈاون فال ہونا حکمرانوں اور سفید پوش افراد کے لئے مشکل کا باعث بنے گا ۔اّج بھی کسی بھی سوشل میڈیا کے شوشا کی تصدیق کے لئے لوگ الیکٹرانک میڈیا کے خبرناموں یا پروگرامز پر انحصار کررہے ہیں ۔اگر الیکٹرانک میڈیا کا یہ شعبہ بند ہوجاتا ہے تو حکمرانوں کو اور سفید پوش افراد کو اپنے دامن پر لگے داغوں سے متعلق صفائیاں دینے میں بھی دشواری کا سامنا ہوگا۔ایسے میں ایک ایسا شعبہ جو حکومت کے کنٹرول میں بھی ہے اسے کسی ایسے شعبے کا نعم البدل سمجھنا جس کا کنٹرول ہر انرائیڈ موبائیل رکھنے والے کے ہاتھ میں ہو یہ فیصلہ نہ صرف موجودہ حکمرانوں کے لئے مشکل ہوگا بلکہ آئندہ آنے والے حکمران بھی بچ نہیں پائیں گے۔

Facebook Comments