October 2, 2019 at 11:51 am

پاکستانی فلموں کے چاکلیٹی ہیرو کا خطاب پانے والے وحید مراد آگر آج زندہ ہوتے تو اپنی 81 ویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ اس یادگار دن پر منفرد ہیرو کو معروف سرج انجن گوگل کی جانب سے بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

پاکستانی فلموں کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے مداح آج ان کی 81 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ گوگل نے خوبصورت اور ورسٹائل اداکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنا ڈوڈل ان کے نام کیا۔

خوبصورت شخصیت، دلکش آواز، منفرد ہیر اسٹائل، مخمور آنکھیں اور بے پناہ صلاحتیوں کے مالک وحید مراد لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھے۔ ان کی یہ ہی مقبولیت کی وجہ سے وہ لیڈی کلئر کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔ ان کے عروج کے زمانے میں خواتین ان کی تصویر اپنے بٹوے میں چھپا کر رکھا کرتی تھیں۔ وحید مراد نے 124 فلموں میں کام کیا، جو پاکستانی فلم انڈسٹری کا اثاثہ ہیں۔

فلموں کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کایوم پیدائش 2 اکتوبر 1938 ہے، بچپن سے اداکاری کے شوقین وحید مراد نے بےشمار فلموں میں فن کے جوہر دکھائے، خوبصورت شخصیت ، دلکش آواز اور صلاحتیوں کی بدولت وحید مراد لاکھوں دلوں میں گھر کر گئے۔ وحید مراد صرف با صلاحیت اداکار ہی نہیں بلکہ ایک کی قابلیت انسان بھی تھے۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

وحید مراد نے سال 1959 میں بننے والی فلم ساتھی میں مختصر کردار ادا کیا۔ اس کے بعد 1962 میں اولاد نامی فلم میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا، جب کہ سال 1964 ہیرا پتھر، خود پروڈیوس کی اور مرکزی کردار ادا کیا۔ ان تین فلموں کے منظر عام پر آنے کے بعد وحید مراد بھی لوگوں کی نظروں میں چھانے لگے اور مردوں سے زیادہ خواتین میں مقبول ہوگئے، جب کہ مرد ان کے ہیر اسٹائل کو کاپی کرنے لگے۔

انہیں فلم ہیرا اور پتھر، ارمان، عندلیب اور مستانہ ماہی میں شاندار اداکاری پر نگار ایوارڈ، جب کہ 2002ء میں لائف ٹائم لیجنڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے فلم سمندر‘ اور ’اشارہ‘ میں اپنی آوازکا جادو بھی جگایا، 23 نومبرانیس سوتراسی کی صبح فلم انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ خالق حقیقی سے جا ملا۔بُھولی ہوئی داستان، گزرا ہوا خیال ہوں
جِس کو نہ تو سمجھ سکے، میں ایسا اک سوال ہوں

اُن پر فلمائے گئے اس گانے کا پہلا مصرعہ تو غلط ثابت ہو چکا ہے کیونکہ وہ نہ بھولی ہوئی داستان ہیں نہ گزرا ہوا خیال، لیکن یہ درست ہے کہ ان کو سمجھا نہیں جا سکا، ان کی زندگی خصوصاً آخری ایام ایک سوال کی مانند ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لیجنڈ اداکار وحید مراد کو مرنے کے 27 سال بعد تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

Facebook Comments