September 17, 2019 at 6:27 pm

تحریر ندیم رضا
افغانستان کے حالات ایک بار پھر کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست ایک سال جاری مذاکرات سے افغان عوام کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ان کی امیدیں اور ڈھارس ٹوٹ گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ صدر اشرف غنی کی انتخابی مہم کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ڈالا۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو ہونے ہیں۔ انتخابات سے محض چند روز پہلے افغان صوبہ پروان میں انتخابی جلسہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے افغانستان کے موجودہ صدر اور اگلی مدت کے لیے بھی صدارت کے امیدوار اشرف غنی محفوظ رہے۔ اس دھماکے نے صدارتی انتخاب پر بھی دہشت کی سیاہ چادر پھیلا دی ہے۔
افغانستان میں دہشت گردی کی نئی لہر پچھلے ماہ اگست کی 30 اور 31 تاریخ کو اس وقت آئی جب طالبان نے شمالی شہر قندوز پر حملہ کیا۔ کئی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس حملے میں متعدد افغان سیکیورٹی اہل کار بھی مارے گئے۔ حملے کے بعد سے طالبان نے دیگر صوبوں میں بھی اپنی کارروائیاں بڑھائیں۔ 2015 میں بھی طالبان نے قندوز پر قبضہ کی کوشش کی تھی لیکن اتحادی فوج نے آپریشن کر کے اسے ناکام بنا دیا۔ یاد رہے قندوز کے ارد گرد علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ پہلے سے پایا جاتا ہے۔
افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا قطری دارالحکومت دوحہ مرکز رہا۔ اکتوبر 2018 سے یہاں طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے 9 دور ہوئے۔ آخری نواں دور یکم ستمبر تک کامیاب رہا۔ طالبان اور امریکا کی جانب سے مثبت باتیں سامنے آئیں کہ دونوں نے امن معاہدہ کے مسودہ پر اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدہ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضامن ملکوں سے بھی بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ افغانستان کی سرحدوں سے منسلک ممالک نے بھی امن معاہدہ کے مسودہ پر کچھ تحفظات کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے ہونے والے مذاکرات سے افغان حکومت کو بالکل علیحدہ رکھا گیا۔ طالبان نے اشرف غنی حکومت سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کٹ پتلی حکومت ہے جن کے اشاروں پر وہ کام کرتے ہے انہیں سے براہ راست بات چیت ہونی چاہیے۔ طالبان مستقبل میں بھی اشرف غنی کو کوئی کردار دینے کے حامی نہیں ہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ امریکا جلد از جلد معاہدہ کا اعلان کرے۔ معاہدہ کے اعلان کے لیے امریکی ریاست میری لینڈ کے تاریخی مقام کیمپ ڈیویڈ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں فلسطین سمیت کئی ممالک کی تقدیر کے اہم فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک اور فیصلہ ہونے جارہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات ستمبر کو ایک ٹوئیٹ کے ذریعے سب کچھ ختم کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا جواز کابل دھماکے کو بنایا جس میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔ افغانستان اور خطے کی صورت حال پر گہری نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف کابل دھماکا مذاکرات منسوخ کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔ اس دھماکے میں تو دس بارہ لوگ مارے گئے۔ اس سے پہلے شادی کی تقریب میں خودکش حملوں اور دھماکوں سے 100 سے زائد لوگ ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت کیوں مذاکرات کی منسوخی کا اعلان نہیں کیا گیا؟ بات کچھ اور ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور خطے سے متعلق کچھ اور سوچ رکھاہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے لے کر آج تک اگر ان کے بیانات اٹھا کے دیکھے جائیں تو معلوم چلے گا کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ ٹرمپ یوٹرن لینے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگاتے۔
افغانستان میں ایک بار پھر سے جو انسانی جانوں سے خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ اچانک نہیں ہوا اس کے پیچھے پوری منصوبہ بندی ہے۔ افغانستان میں امن عمل جب مکمل ہو چکا تو پھر ایک اور قوت داعش نے سراٹھا دیا۔ یہ وہی داعش ہے جس کو لے کر افغانستان کے ساتھ جڑی سرحدیں روس، چین، ایران اور پاکستان سب کو خدشات ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق شام میں بدترین شکست کے بعد داعش کا جنوبی ایشیا میں خاص حکمت عملی کے تحت لایا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں ان پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے بھی داعش کا ہی ہاتھ ہے۔ وہ بھی اپنی اہمیت جتانے کے لیے سراٹھا رہی ہے۔ عراق اور شام میں جس طرح اس نے مسلمان بھائیوں کا قتل عام کیا اسی نوعیت کے واقعات افغانستان میں بھی ہو رہے ہیں۔ پھر اسی دوران سعودی عرب کی ریفائنری پر ڈرون حملے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کسی پر الزام نہیں لگاتا لیکن امریکا کی طرف سے ایران پر براہ راست الزام لگا دیا جاتا ہے کیا یہ معمولی بات ہے؟۔ امریکا سے بات چیت معطل ہونے کے بعد طالبان کا روس جانا اور پھر ایران پہنچ جانا۔ یہی نہیں طالبان چین بھی جارہے ہیں اورخطے کے دیگر ممالک کا دورہ بھی کریں گے۔ ترکی کے شہر انقرہ میں بھی ایران اور روس کی قیادت خطے کی صورت حال پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔ پاور گیم تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ موجودہ نئی صف بندیوں سے ظاہر یہی ہورہا ہے کہ جذباتیت سے نقصان کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ جس نے زیادہ غصہ اور جنونیت کا مظاہرہ کیا وہ خسارے میں رہے گا۔ رہی سہی ساکھ ، عزت اور سلطنت سے بھی ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ جس ملک نے اس گرد آلود جنگی موسم میں بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا مستقبل اسی کا ہے۔ عراق، شام، یمن ، فلسطین، کشمیر، افغانستان کے بعد اب ایران اور سعودی عرب کا نمبر لگانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ مسلمان ممالک کی تباہی و بربادی کا براہ راست فائدہ کسے ہو رہا ہے اور نقصان کس کا ہے؟ بس بات صرف اتنی سی ہے کہ دنیا کو اب بھی ڈونلڈ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔

Facebook Comments