September 14, 2019 at 4:48 pm

تحریر :عامر حسینی
پنجاب بھرمیں ٹرانسفر پوسٹنگ پر عائد پابندی وقتی طور پر اٹھاکر بلدیاتی حکومت کے ڈیڑھ سو سے زائد افسران کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ اپوزیشن کے نزدیک بڑے پیمانے پر تبادلوں کے پیچھے من پسند نئی حلقہ بندیوں کا معاملہ لگتا ہے۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تبادلے اور تقرری پر لگی پابندی کو عارضی طور پر نرم کر دیا۔ اس نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوکل گورنمنٹ افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔ تبادلوں کے اعلامیہ کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے فنانس یونٹ ڈیوٹی کے منتظر چار افسران کو مختلف اضلاع میں فنانس افسر لگایا گیا۔فنانس یونٹ سے ہی 51 افسران کو مختلف میونسپل کمیٹیو‍ں میں میونسپل افسر برائے فنانس تعینات کیا گیا ہے۔ایڈمن یونٹ سے چار افسران کو چیف افسر بلدیہ و ڈپٹی چیف افسر بلدیہ تعینات کیا گیا ہے۔ پلاننگ یونٹ کے تیرہ افسران کو مختلف تحصیلوں میں تحصیل پلاننگ ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے انجینئرنگ یونٹ کے پندرہ افسران کو میونسپل کمیٹی اورمیونسپل کارپوریشن کے انفراسٹرکچر ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔ خانیوال میں تعینات چیف افسر ضلع کونسل خانیوال محمد حسین بنگش کو ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے اچانک تبادلوں پر پابندی کو عارضی طور پر اٹھاکر بڑے پیمانے پرافسران کے تبادلوں کو ممکنہ بلدیاتی انتخابات کے لیے پیشگی دھاندلی قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور ممبر قومی اسمبلی محمد خان ڈاہا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا سسرال سیاسی مداخلت کی انتہا کیے ہوئے ہے۔ پولیس اور مقامی سول ایڈمنسٹریشن میں زاتی کام نہ کرنے والے افسران کا تبادلہ معمول بن گیا ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی ایک افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ پنجاب میں تعینات چیف سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر ربڑسٹمپ ہیں۔ صوبہ مبینہ طور پر سیکریٹری انفارمیشن راجا جہانگیر چلارہے ہیں۔ ان افسران کا کہنا ہے موجودہ انفارمیشن سیکریٹری کبھی سابق سی ایم شہباز شریف کی ناک کا بال ہوا کرتے تھے پھر نیب میں اُن کی طلبی اور گرفتاری ہوئی اور رہائی کے بعد وہ کسی اور کے منظور نظر بن چکے ہیں۔ آج پنجاب اُن کے ہی زریعے چلایا ۔ جارہا ہے۔ پنجاب حکومت کے حلقے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیوروکریسی کے تبادلے اور تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کا وزیر اعظم عمران خان کا دعوٰی محض دعوی ہی رہ گیا ہے؟

Facebook Comments