September 13, 2019 at 12:40 pm

تحریر :عامر حسینی
یا رب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
پابند نہ ہوں آہیں،رونے پہ نہ پہرا ہو
اب آئے ہو بابا ۔۔۔۔
وہ کربلا، وہ شام غریباں ہائے وہ تیرگی
وہ زینب حزیں،وہ حفاظت خیام کی
آیا وہ اک سوار قریب خیام شاہ
بیٹی علی کی غیض میں سوئے فرس بڑھی
الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار سے
پیش نگاہے زینب مظلوم تھے علی
ہرچند صابرہ تھی بہت بنت فاطمہ
بے ساختہ زباں پر فریاد آگئی
اب آئے ہو بابا
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر

آپ جب کربلا والوں کو مرکز وحدت کہیں، امام حسین کو مزاحمت برخلاف جبر کا عالمگیر استعارہ کہیں تو کئی پاکستانی سیکولرز کا تراہ نکل جاتا ہے اور ان کی چیخ و ۔کار سننے والی ہوتی ہے۔
آج پھر وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستان میں واقعہ کربلا اور امام حسین کی مزاحمت کو مسخ کرکے اسے رجعت پرستانہ قرار دینے والے لبرل،کمیونسٹ اور لیفٹ ہونے کے دعوے دار ایک بار پھر منشی پریم چند کا لکھا ڈرامہ ‘کربلا’ پڑھ لیں۔-
میں جو مشورہ پاکستان کے کئی ایک لبرل اور ترقی پسندوں کو دے رہا ہوں،وہ مشورہ پروفیسر مظہر نقوی نے اپنے ایک بلاگ میں سیکولر فورسز کے توسط سے کانگریس حکومت کو دیا تھا- انہوں نے سنا ان سنا کیا تو آج سب مودی کو بھگت رہے ہیں وہ لکھتے ہیں
وقت آگیا ہے کہ سیکولر قوتیں حکومت سے کہیں کہ وہ منشی پریم چند کا لکھا ڈرامہ ہر ہندوستانی کے لیے پڑھنا لازم قرار دے ڈالیں- ایسا اقدام ان سب لوگوں کو بہت بروقت جواب ہوگا جو ایک بار پھرہندوستان کی ہم آہنگ فضا کو منافرت بھری تقریروں سے غیرہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں- ان کمیونل عناصر کے پیش رو لوگوں نے بھی تقسیم ہند سے پہلے ایسے ہی ہندوستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ و برباد کیا تھا- ان کی شرمناک مہم نے 1857ء میں ہندوستان کے اندر مسلمان اور ہندؤ کے درمیان اتحاد کی فضا کو تباہ کردیا تھا- اس وقت یہ منشی پریم چند تھے جنھوں نے کربلا کے سانحے پر ایک (نثری) مرثیہ لکھا جو کہ دونوں برادریوں کے درمیان تناؤ ختم کرنے کا حل تھا- انھوں نے کربلا کو ایک حقیقی جہاد کے طور پر پیش کیا جو کہ عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کا نام ہے- ایسی مزاحمت جس میں جان لینے کی بجائے اسلام کے لیے جان دے دی جاتی ہے۔
کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ وہاں ہندوستان میں واقعہ کربلا کو ہندوتوا کی فسطائي قوتوں کے خلاف ایک طاقتور سیکولر استعارے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ سیکولر فورسز منشی پریم چند کا ڈرامہ ‘کربلا’ کو ہر ایک ہندوستانی کو پڑھواکر فرقہ پرستوں اور نفرت پھیلانے والی قوتوں کو شکست دے سکتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایسے سیکولر،لبرل، لیفٹ پائے جاتے ہیں، جو سوشل میڈیا پر واقعہ کربلا اور عاشورا کے ایام میں عقیدت و محبت اور سوگ و ملال،عزاداری کرنے والوں کے خلاف ایک محاذ بناکر کھڑے رہے- اور اسے شیعہ- سنی فرقہ پرستی کے معانی میں لیکر پہلے سے موجود فرقہ وارانہ نا ہم آہنگ فضا کو اور غیر ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔
میں پاکستان میں سوشل میڈیا پر سرگرم سیکولر لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ خود بھی منشی پریم چند کے ڈرامے کربلا کا مطالعہ کریں اور ہر پاکستان کے رہنے والے کو اسے پڑھنے کا مشورہ دیں- اس سے پاکستان میں لوگوں کے اندر سیکولر فکر کو پھیلانے میں اور مدد ملے گی۔
میں مجبور ہوں کہ یہاں تفصیل سے پروفیسر مظہر نقوی کا منشی پریم چند کے ڈرامے پر لکھے ریویو کے کئی اور اقتباسات شئیر کروں

پریم چند کا ڈرامہ شہداء کربلا کو محض خراج عقیدت ہی نہیں ہے بلکہ ہندؤ-مسلمانوں کے زوال پذیر تعلقات کے زمانے میں مفاہمت کرانے کی کوشش ہے- ان کا ڈرامہ نہ صرف امام حسین علیہ السلام کو سیکولر ازم کی علامت بناکر پیش کرتا ہے بلکہ کربلا کو کسی بھی جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بناکر عالمگیر بنادیتا ہے- ہندوستان کے ایک عظیم لکھاری ہونے کے ناطے،پريم چند نے کربلا جیسے تاریخی ڈرامے کو رقم کرکے ہندوستان کے امام حسین کے ساتھ عقیدت کو مجسم کردیا جب اس نے اس میں ایک ایکٹ میں دکھایا کہ امام حسین کے کیمپ کے ساتھ ایک بہت بڑی ہندوستانی فوج کھڑی ہے اور وہ بار بار امام حسین سے یزیدی افواج سے لڑنے کی اجازت طلب کرتی ہے اور امام حسین اس کی پیشکش قبول نہیں کرتے،کیونکہ ان کے نزدیک اس سے اور خون بہے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پریم چند نے اس ڈرامے کے مقدمے میں کربلا ،مہا بھارت اور مہارامائن کے درمیان مماثلت تلاش کی ہے- انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ہندؤ جنھوں نے اپنی زندگی کربلا کی جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں وہ اشواتھما کی اولاد تھے( مہا بھارت کا مرکزی کردار جس نے کروکیشتر کی جنگ کا منظر ہی بدل ڈالا تھا)
منشی پریم چند نے اپنے لکھے ڈرامے کے مقدمے میں لکھا( یہ باعث ندامت بات ہے کہ اگرچہ ہم کئی صدیوں سے مسلمانوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے تاریخی ماضی سے واقف نہیں ہیں- اور یہ ہندؤ اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب ہے کہ مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے عظیم افراد کی شاندار صفات سے واقف نہیں ہیں- جب ہم مسلمان بادشاہ کا تصور کرتے ہیں تو صرف اورنگ زیب ہی ہمارے ذہن میں آتا ہے لیکن اچھے اور برے افراد تو ہر سماج میں ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ ہوتا رہے گا-) پریم چند کی پرداخت ایک حقیقی ہند-اسلامی ماحول میں ہوئی تھی- اس کے ہاں فارسی ،اردو،ہندی کا آمیزہ ہندوستانی کا گہرا کلچر تھا اور اس کا کمپوزٹ کلچر پر گہرا یقین تھا- منشی پریم چند کو اس وقت انتہائی تکلیف ہوئی جب ہندؤ مہا سبھائیوں نے اسلام کے بارے زہریلی منافرت انگیز کتابیں شائع کرنا شروع کیں۔ دوسری طرف مسلم فرقہ پرستوں نے ہندؤ مت کے خلاف منافرت انگیز کتابیں شائع کرنا شروع کردیں- پریم چند نے اس زہریلی فضا کو ختم کرنے کے لیے کربلا ڈراما اور دیگر فکشن و نان فکشن چیزیں لکھی تھیں۔
اس زمانے میں مہا سبھائی ہندوؤں لکھاریوں نے ہندؤں اور دیگر غیر مسلموں کی محرم کی رسومات میں شرکت پر تنقید کرنا شروع کی تو منشی پریم چند نے اس کا ترنت جواب دیا۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ ایک طرف تو تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان اشتراک پیدا کرنے کے لیے منشی پریم چند کو جب کسی ایسے واقعے کی تلاش ہوتی ہے جو دونوں برادریوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو کم کردے تو اسے کربلا کا سانحہ ملتا ہے اور وہ امام حسین کو ہندؤ اور مسلمانوں کے درمیان مرکز اتحاد اور نقطہ اتصال پاتا ہے- اور اسی زمانے میں مسلمانوں کے اندر سے مولانا حسین احمد مدنی کا شاگرد عبدالشکور لکھنؤی اور احراری مولوی مظہر علی اظہر محرم کو ہی متنازعہ بنا ڈالتے ہیں اور شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان فساد کی بنیاد رکھ دیتے ہیں-(مشیر الحسن نے اپنے مقالے میں تفصیل سے اس بات پہ روشنی ڈالی، جس کا اردو ترجمہ میری کتاب ‘ پاکستان میں شیعہ نسل کشی: حقیقت یا افسانہ’ میں شامل ہے) اور منشی پریم چند کو جب ہندوستان میں کمیونل منافرت کو دور کرنے کے لیے مسلم تاریخ سے کسی شخصیت کو سیکولر ازم کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ امام حسین علیہ السلام کو لیکر آتا ہے۔
لیکن پاکستان میں تکفیری ذہنیت ایک طرف تو محرم اور اس کی ثقافت کو بدعت و شرک اور یہاں تک کہ اسے کفر و ضلالت کہہ کر پیش کرتی ہے اور کربلا کے سانحہ کو ‘قصے کہانیاں’ کہہ کر رد کرتی ہے- دوسری طرف کئی ایک سیکولر میدان میں اترتے ہیں اور وہ کربلا اور محرم کی رسومات اور عزاداری کو روشن خیالی اور سیکولر ازم کی ضد بتلاتے ہیں۔
بلکہ گزشتہ سال سے سوشل میڈیا پر موجود پاکستان سے کئی ایک سیکولر ترقی پسندوں نے ان سب لکھاریوں کے خلاف تضحیک اور استہزا کا ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا۔ جن لکھاریوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ سیکولر لبرل ہیں یا سیکولر کمیونسٹ یا سیکولر لیفٹ ہیں اور ترقی پسند ہیں۔
سوشل میڈیا پر کمرشل لبرل اور الحادیت کی دو نمبر چپ والے ملحدوں کو مسلسل اپنی انگریزی پوسٹوں کے زریعے آپریشن کرنے والے ریاض ملک لکھتے ہیں۔ اس سال دوران گفتگو، کچھ لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے کئی ایک لبرل خواتین و حضرات معمول سے ہٹ کر عزاداری امام حسین کی طرف زیادہ جارح نظر آئے- بلکہ جتنے گزشتہ سالوں میں وہ کربلا سے جڑے لوگوں پرحملہ آور ہوئے تھے، اس سے کہیں زیادہ اس سال تھے۔ لیکن کیا آپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ تکفیری فسطائیوں کے خون آشام سالانہ حملوں میں اس سال کس قدر کمی آئی ہے؟ یہ ایک وقتی چھٹکارہ ہے-لیکن ہم نے پاکستان میں کئی ایک لبرل کو عزادری کے خلاف اپنے روایتی تعصب پر بنائی بائنری کو یوں تحلیل ہوتے دیکھ کر کافی مایوس پایا۔
ہر سال آپ دیکھتے ہیں کہ پاکستانی کئی ایک لبرل عزاداری کے خلاف اپنے تعصبات کو عزاداروں کے خلاف ہونے والے دہشت گردانہ حملوں سے جوڑ دیتے ہیں- یہ حملے تکفیری جیسے سپاہ صحابہ والے ہیں گروہ اور دوسرے گروپ کرتے ہیں جن کے کئی ایک لبرل ہمدرد بھی موجود ہیں۔ صوفی سنّی اور شیعہ کی تو زیادہ توجہ پاکستان کی گلیوں اور بازاروں سے اپنے جدا ہوجانے والے پیاروں کے لاشے اٹھانے پر رہتی ہے۔
وہ اپنے ذاتی غموں سے اتنے نڈھال ہوتے ہیں کہ ان کو سپاہ صحابہ جیسے تکفیریوں کی محبت کے مریض سول سوسائٹی کے کئی ایک لبرل کے گھناؤنے حملوں پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملتا۔ اس سال وہابی تکفیری دہشت گردوں کے دہشت گرد حملوں میں کمی ہونے کے سبب عزاداروں کو عزادرای پر توجہ دینے اور روایتی عزاداری امام حسین پر زیادہ توجہ دینے کا موقع مل گیا۔
اگر حقیقی بم حملوں کا متبادل فیس بک کی پوسٹیں اور ضمیر اختر کا مذاق پرمبنی پھکڑ بازی ہیں تو تب ان کو اپنا شوق پورا کرنے دیں ہم ان کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ آج پاکستان میں محرم،عزاداری اور کربلا کے واقعات پر استوار ثقافت کو برصغیر کے کمپوزٹ کلچر کا حصّہ بتانا خود کو صرف بنیاد پرستوں،مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے لعن طعن کا ہدف بنانا نہیں ہے بلکہ کئی ایک سیکولر، لبرل اور کمیونسٹوں سے بھی تضحیک و ملامت اور تنقیص کے تیر کھانے کے لیے تیار رکھنے کے مترادف ہے۔
یہاں ہندؤ مائتھالوجی کے بارے میں شاندار تحریریں لکھنے والے، روز سیکولر ازم کا راگ الاپنے والے اور بھارت کے سیکولر لبرل حلقوں کے اندر اپنا پروفائل بڑھانے کے لیے روز کچھ نہ کچھ کرنے والے کربلا سے جڑی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے اندر ثقافتی اظہار پر لعن طعن کرنے والوں کی کمی نہیں ہے- 1920ء میں جب منشی پریم چند نے ڈراما کربلا لکھا تو اسے چھپوانے میں کیا مشکلات پیش آئی تھیں، اس کا احوال ہمیں مظہر نقوی سناتے ہیں۔
Premchand scripted Karbala at a time when he was busy writing Rangbhumi. He wanted Daya Narayan Nigam, Kanpur-based Editor of Zamana, to publish it in series but the latter refused on the plea that Imamis may not like the dramatic version. He twice wrote to Nigam but failed to convince him. One of his letters reveals that he was fully convinced that name of Imam Hussain would surely reduce the tension and pacify the situation. Despite refusal by Nigam, he did not lose heart. Premchand was so obsessed with Karbala’s utility as a solution to the problem of communal divide that he wanted to publish it on his own despite his economic constraints.
پریم چند نے کربلا کا اسکرپٹ ایک ایسے وقت میں لکھا تھا جب وہ ‘رنگ بھومی’ لکھنے میں مصروف تھے- وہ چاہتے تھے کہ دیا نارائن نگم ایڈیٹر رسالہ زمانہ کانپور اسے سلسلہ وار شائع کریں- لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے معذرت کی اور عذر یہ پیش کیا کہ ہوسکتا ہے کہ امامیہ شیعہ اس طرح کی ڈرامائی تشکیل کربلا کی پسند نہ کریں-( ہمارے پاس آج خود شیعہ اور بریلویوں میں ایسے تکفیری انتہا پسند ہیں جو محرم اور میلاد سے جڑے رسوم و رواج کو خود سے مٹانے کے درپے ہیں) انھوں نے نگم کو دو بار لکھا لیکن ان کو قائل کرنے میں ناکام رہے- ان کے ایک حط سے پتا چلتا ہے کہ ان کو پورا یقین تھا کہ امام حسین کا نام یقینی طور پر (ہندؤ-مسلم) تناؤ کو کردے گا اور حالات کو ٹھیک کردے گا- نگم کے انکار کے باوجود ،انہوں نے دل چھوٹا نہ کیا- پریم چند کربلا کے کمیونل تقسیم کے حل کے طور پر دیکھنے کے اتنے زیادہ قائل تھے کہ وہ اپنی معاشی مشکلات کے باوجود اسے اپنے خرچے پر چھپوانا چاہتے تھے۔
اور آخر کار ان کا یہ ڈراما لالہ لاجپت رائے نے اپنے مکتبہ واقع لاہور سے شائع کردیا- لالہ لاجپت رائے جو آریہ سماج کے بہت راسخ العقیدہ رکن تھے اور لاہور کی اس وقت کی فرقہ وارانہ فضا سے اس قدر مکدر ہوئے تھے کہ انھوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ اگر مسلمان ہندؤں سے اتنے ہی نفرین ہیں تو شوق سے الگ ریاست بنالیں اپنے اکثریتی علاقوں میں- یہی وہی لالہ لاجپت رائے تھے جن کی انگریز پولیس کی لاٹھیوں سے پڑی مار نے جان لے لی تھی جب کانگریس ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک چلارہی تھی اور ان کے قتل کا بدلہ لینے کو بھگت سنگھ شہید اور ان کے ساتھی کھڑے ہوئے تھے۔

Facebook Comments