September 12, 2019 at 1:47 am

امریکا کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جون بولٹن کے جانشین کی تلاش شروع کی جاچکی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاون کے نام شارٹ لسٹ کر لیے ہیں۔ شدید نوعیت کے اختلافات کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے جون بولٹن کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے فارغ کردیا تھا لیکن بولٹن کہتے ہیں کہ انہوں نے از خود استعفیٰ دیا تھا ۔ واشنگٹن میں استعفیٰ یابرطرفی کی بازگشت تھمی نہیں کہ بولٹن کے ممکنہ جانشینوں کے نام سامنے آگئے ۔ ٹرمپ نے بولٹن کے پیش رو سابق جنرل میک ماسٹر کوفون کرکے کہا کہ انہیں وہ مس کررہے ہیں ۔ امریکی صدر نے میک ماسٹر کو برطرف کرکے جون بولٹن کو جانشین مقرر کیاتھا ۔ میک ماسٹر کو ایک بار پھر سے زمہ داریاں سونپی جاسکتی ہییں۔ جرمنی میں امریکا کے سفیر رچرڈ گرینیل بھی زیر حور ہیں ۔ یہ بولٹن کے ماتحت اقوام متحدہ میں سفارتی مشن کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ جانشیوں کی فہرست میں سابق لیفٹنٹ جنرل کیتھ کیلاگ ، سابق ڈپٹی ایڈوائزر میجر جنرل رکی وڈیل، وزیر خارجہ مائیکل پومپیو کے مشیر برائن ہک اور نمائندہ خصوصی برائے شمالی کوریا اسٹیفن بائیگن بھی ہیں۔ دیگر ناموں میں قائم مقام نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر چارلس کوپرمین ، رابرٹ بلیئر، نیدرلینڈ میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسٹرابھی شامل ہیں۔ سابق آرمی کرنل ڈوگلس میک گریگرکا نام بھی لیا جارہا ہے۔ ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل جیک کیئن اور فریڈ فلیٹز کے نام بھی گردش میں ہیں ۔ اگلے چند روز میں ٹرمپ خود ہی اس راز سے نقاب الٹ دیں گے کہ بولٹن کے ممکنہ جانشینوں میں یہی ایک درجن افراد ہی کی فہرست تھی یا میڈیا بھی لاعلم رہا۔ خیال رہے جون بولٹن جنگ پسند ایڈوائزر تھے۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تجویز دی جو مسترد کردی گئی۔ امریکی مسلح افواج کے سربراہ نے ان کی مخالفت کی تھی ۔ بولٹن کا عہدے سے فارغ کیا جانا تاحال معمہ ہے کیونکہ مغربی ذرایع ابلاغ میں سے بعض کی رائے ہے کہ اصل مسئلہ بولٹن نہیں بلکہ ان کے باس صدر ٹرمپ خود ہی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اب تک قومی سلامتی کے تین مشیر فارغ کرچکے ہیں۔

Facebook Comments