September 11, 2019 at 3:07 pm

تحریر : شمائلہ قمر ملک
یوں تو ہر انسان مختلف ہوتا ہے مگر قدرت کی طرف سے کچھ چیزیں ہر کسی میں مشترک ہوتی ہیں۔ لوگ بس مختلف انداز میں اِن تاثرات یا جذباتکا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اگر اپنی ذات سے شروع کریں اور دائرے کو وسیع کرتے جائیں تو پتا چلے گا کہ ہر کوئی نفسیاتی انحصار کا شکار ہے۔یہ نفسیاتی انحصار آخر ہے کیا اور کیوں اِس نے ہم سب کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے؟ ہر کسی کی زندگی میں کوئی نا کوئی ایسی چیز ضرور ہوتی ہے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں اور جس کے نہ ملنے پر ذہنی طور پر خود کو نا مکمل سمجھتے ہیں۔ اِس غم کے اثرات معمولی سے لے کر نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اِس بات کا تعین ہر شخص کی انفرادی شخصیت کے مطابق ہوتا ہے کہ ناکامی ہونے پر اُس کی قوتِ برداشت اور اپنے نفس پر کنٹرول کتنا ہے۔ دراصل زیادہ تر لوگ ذہن میں بنے ہوئے آئیڈیل کے پیچھے بھاگتے اور جب یہ آئیڈیل مل نہیں پاتے تو لوگ خود کو پرسکون کرنے کے لئے نفسییاتی انحصار کا سہارہ لیتے ہیں جو اُن کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اگر ہمیں یہ آئیڈیل نہ ملا تو زندگی مشکل یا ناممکن ہو جائے گی۔ یہی سوچ پختہ ہوتی ہوتی انسان کا حال اور آنے والا مستقبل خراب کرنا شروع کر دیتی ہے کیونکہ یہ خود ساختہ انحصار اِن کو مکمل ہونے کا احساس دلاتا ہےاور یہ لوگ اِس خول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ہم اکثر ایک دوسرے سے سنتے ہیں کی ہم فلاں چیز، فلاں انسان، فلاں عادت کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اِس سوچ کے آہستہ آہستہ ہم اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ہمیں نفسیاتی انحصار ، ضرورت یا محبت میں فرق سمجھ آنا بند ہو جاتا ہے اور یہ ناسمجھی ہی نفسیاتی انحصار کا روپ دھار لیتی ہے۔

اب ذرا اِن نفسیات سے جڑی باتوں کو مثال کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بات بہت لمبی اور دور تک چلی جائے گی اگر اِس موضوع سے جڑی ہر مثال کا ذکر کیا جائے اور شاید بات کو سمیٹنا مشکل ہو جائے کیونکہ نفسیاتی انحصار مختلف اشکال میں ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔ شروع کرتے ہیں آج کل کے سب سے زیادہ عام ٹرینڈ سے. میرا اشارہ آج کل کی زیادہ سمجھدار نوجوان نسل کی طرف ہے جو دماغ استعمال کرنےسے زیادہ ٹرینڈز کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ہمارے ملک کی زیادہ تر نوجوان نسل نفسیاتی انحصار کی شکار ہے۔ میرے نزدیک یہ لوگ خیالوں سے محبت کر بیٹھتے ہیں جن کی نا کوئی حقیقت ہوتی ہے نا مستقبل الٹا یہ خیال اِن کو بےیقینی اور بےچینی تحفے میں دے جاتے ہیں۔آج کل کی جنیریشن کے نفسیاتی انحصار کی سب سے بڑی مثال محبت کا ہو جانا ہے۔ یہ لوگ محبت سے زیادہ محبت کے خیال سے محبت کرتے ہیں۔ محبت تو نقصان نہیں پہنچاتی اور نہ ہی ناکامی پر خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کو فروغ دیتی ہے۔ جب اِن محبت زدہ لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ ہاں بھائی کہاں پھنس گئے ہو تو جواب دیتے ہیں کی ہم بھول نہیں سکتے، ہمارا دل نہیں مانتا، کوئی اُس جگہ نہیں آ سکتا وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اِن سے یہ پوچھے کہ یہ دل کیا ہوتا ہے؟ اللّہ نے دماغ بھی تو دیا ہے نا اُس کا استعمال کب کرنا ہے؟ یہ سب صرف ایمان کی کمزوری، نفس کو قابو نا کر پانا اور بلآخر نفسیاتی انحصار ہے۔ ایسے لوگ اپنے نفس کو قابو کرنے میں فیل ہو جاتے ہیں اور اپنی اِس نشے جیسی حالت کو کبھی کوئی نام دیتے ہیں تو کبھی کوئی۔ ایسے لوگ زندگی میں آگے تو بڑھ جاتے ہیں لیکن ماضی کا خود ساختہ احساسِ محرومی اِن کی زندگیوں کے نظام کو متاثر کرتا رہتا ہے کبھی غصّے کی شکل میں، کبھی دوسروں سے یکساں اُمیدوں کی شکل میں تو کبھی دھکے لگا کر ہوتی ہوئی ایڈجسٹمنٹ سے۔ بعض اوقات اثرات اِس سے بھی زیادہ خطرناک حد تک پہنچ جاتے ہیں جس کی مثالیں آۓ دن دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔ نتیجتاً اپنے گھر والوں، دوست احباب اور ہمسفر سے بگاڑ، غیر مطمئن ہونے کی کیفیت اور بےچینی اِن کی زندگی کا حصّہ بن جاتی ہے۔ ہر انسان مختلف ہوتا ہے اور اپنی خوبیوں، خامیوں اور نصیب کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ کسی دوسرے انسان کا عکس اپنی حقیقت میں تلاش کرنا نا صرف اپنے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اَس انسان کے ساتھ بھی زیادتی ہے جسے خدا نے آپ کے نصیب میں لکھا ہے۔ نفسیاتی انحصار ایک طویل مرض کی طرح اِن لوگوں کا پیچھا کرتا ہے جو نا خود اِن کا پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ اِس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔

غرض یہ کہ ہم اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو تو نہیں روک سکتے مگر ہم اِن واقعات کے مقابلے میں جو ردِعمل دیتے ہیں اُن پر کنٹرول ضرور کر سکتے ہیں۔ یہی وہ لحمہ ہوتا ہے جو ہماری زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کیا صیحیح ہے اور کیا غلط، جو لوگ اِس کمزور لحمے میں خود کو سنبھال لیتے ہیں وہ اپنے نفسیاتی انحصار سے نکل آتے ہیں اور جو صیحیح اور غلط، حلال و حرام کی تمیز نہیں کر پاتے وہ ساری زندگی نفسیاتی انحصار کی قید میں جکڑے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک نفسیاتی انحصار ایک خود ساختہ کیفیت ہے جس کا حل توقل اللّہ اور رضائے الہٰی میں خوش اور مطمئن ہو جانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ لاحاصل خواہشوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نصیب سے لڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ساری زندگی پھر بھاگتے ہی رہتے ہیں کیونکہ ہوتا وہی ہے جو رب کی رضا ہوتی ہے۔

Facebook Comments