September 8, 2019 at 8:20 pm

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات معطلی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہوگا۔ ہفتہ تک طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات صحیح سمت میں جا رہے تھے اور فریقین افغانوں کے درمیان مذاکرات پر متفق تھے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات معطلی سے مزید امریکی ہلاک ہوں گے۔ طالبان کی شوریٰ نے اپنے مذاکراتی وفد کو بھی امریا ُجانے سے روک دیا ہے۔ وفد نے آج امریکی ریاست کیمپ ڈیوڈ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرنا تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں قیام امن کے لیے جاری مذاکراتی منسوخ کردیا تھا۔ امریکی صدر نے مذاکرات منسوخ ہونے کا سبب کابل میں ہونے والے حملوں کو قراردیا ہے۔ جا میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔ طالبان ذرائع کہتے ہیں اس حملے میں بہت زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ قطر میں ایک سال سے جاری مذاکراتی عمل کے نویں دور کے اختتام پر یہ امید تھی کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے طے پانے والے معاہدے کی توثیق کے بعد امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔معاہدے کی کامیابی کی اطلاع خود مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے افغان نژاد سفارتکار زلمے خلیل زاد نے دی تھی لیکن پھر انہوں نے گرین ولیج خود کش حملے کے بعد اپنا دورہ پاکستان منسوخ کردیا تھا۔اس سے پہلے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کا یہ بیان سامنے آیا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے وہ آمادہ نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی صدر افغانستان سے اتحادی افواج کے فوری انخلا کے حق میں ہیں لیکن امریکی پینٹاگون سمیت واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ اس کے حق میں نہیں۔

Facebook Comments