September 8, 2019 at 12:50 pm

تحریر:عامر حسینی
پہلے برصغیر کی تکثیریت پسند اور مشترکہ ثقافت کے عناصر پر فرقہ پرست دائیں بازو کے پروپیگنڈا بازوں نے شرک و بدعت اور ہندؤوانہ رسوم و رواج جیسی اصطلاحوں کا سہارا لے کر حملہ کیے رکھا- اب اس میں دور حاضر کے چند نام نہاد ترقی پسند بھی شامل ہوگئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس مرتبہ سب سے زیادہ حملہ ان ” ترقی پسندوں ” پر ہوا جنہوں نے ” کربلاء اور عاشوراء ” کے انسانیت پسند استعارے ہونے اور اس کے پاک و ہند کے ” صلح کل ” اور سیکولر ثقافتی ورثے کا حصہ ہونے پر اصرار کرتے ہوئے اس میں اپنا حصّہ ڈالا- حسب معمول وہ ” عاشوراء ” میں شرکت کرتے دکھائی دیے۔
ترقی پسند یہی نہیں کہ وہ صرف ” عاشوراء ” کی ثقافت سے جڑتے نظر آئے ہوں بلکہ وہ ” صوفیاء ، سادھو ، سنت ، ملامتیوں ” کے عرس ، میلے ، ہندؤں کی دیوالی ، ہولی ، مسیحیوں کے کرسمس اور ایسٹر ، سکھوں کے بیساکھ میلے میں اور پارسیوں کے ” نوروز ” سے بھی اسی طرح سے وابستہ نظر آتے رہے ہیں۔ لیکن وہاں شرکت پر ان کی ترقی پسندی پر کبھی سوال اٹھائے نہیں گئے اور ان کو شدت سے رد نہیں کیا گیا جتنا ، اس عاشوراء پر ان کی ترقی پسندی پر سوال اٹھائے گئے- ان کو یہ طعنہ بھی دیا کہ ان کی تحریریں ” اللہ اور رسول ” کے ذکر سے خالی رہتی ہیں مگر محرم آتے ہی وہ ” مذہبی ” ہوجاتے ہیں۔ جیسے کہ ترقی پسندوں کو ” مذہب کے خلاف جنگجوؤں کے طور پر پیش کرکے ان کی عاشوراء میں شرکت کو چیلنج کیا گیا۔ اس دوران ترقی پسندوں پر تنقید کرنے والوں نے ترقی پسند تحریک کی بنیادیں رکھنے والوں ” محرم اور عاشوراء ” سے لمبی وابستگی کی تاریخ کو نظر انداز کرکے حال کے ترقی پسندوں کی ” عاشوراء سے وابستگی ” کو کہیں ” ڈرامہ ” قرار دینے کی کوشش کی، کہیں خوردبین لیکر ان کی ” شیعہ گھرانوں ” میں پیدائش کا ڈھونڈورا پیٹنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب کرتے ہوئے شاید سوچ لیا گیا تھا کہ ” سوشل میڈیا ” سے وابستہ نئی نسل کے نوجوانوں کو بھلا ایسے ترقی پسندوں کے بارے میں کیا پتہ ہوگا کہ جن کا خاندان کبھی ” شیعت ” سے وابستہ ہی نہ رہا ہو بلکہ ان میں سے کئی تو ” کٹر دیوبندی اور سلفی ” گھرانوں میں پیداہوئے تھے اور ایک زمانے تک خود وہ ” انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں ” سے وابستہ رہے تھے۔ میں نے ایک صاحب کو بتایا کہ ” دادا فیروز الدین منصور ” کامریڈ احسان الہی قربان ” کا تعلق مجلس احرار اسلام سے تھا اور ان کا گھرانہ ” کٹر دیوبندی ” گھرانے ” تھے اور یہ مجلس احرار اسلام سے وابستہ تھے۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی لاہور ميں ایک مسجد میں تقریر سن کر انھوں نے ” افغانستان ” ہجرت کی تھی اور جب تک یہ سوویت یونین پہنچ نہ گئے تو ان کے خیالات وہی تھے جو ” شاہ اسماعیل دہلوی ” کی تحریک جہاد سے وابستہ لوگوں کے تھے اور جب یہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ہوئے اور لاہور واپس آئے تو تقسیم سے پہلے اور تقسیم ہند کے بعد یہ فیض احمد فیض ، صفدر میر کے ساتھ ہر محرم میں ” حویلی نثار ” موچی دروازے کی مجالس میں شریک ہوتے تھے اور یہ حویلی نثار موچی دروازے سے برآمد ہونے والے تاریخی جلوس عاشوراء میں بھی شریک ہوتے تھے۔ فیض احمد فیض ‘ سنّی گھرانے ” میں پیدا ہوئے۔ ان کے ہاں یہ سب ایک تو عاشوراء کے ہندوستان کی تہذیبی و ثقافتی عظیم روایت ہونے کے یقین کے سبب تھا تو دوسرا یہ ” امام حسین اور کربلاء ” کو ایک عالمگیر استعارہ ماننے کی وجہ سے تھا۔
سجاد ظہیر ، کیفی اعظمی ، علی سردار جعفری ، مخدوم محی الدین ” شیعہ گھرانوں ” میں پیدا تو ہوئے مگر انہوں نے ” شیعہ ذاکروں ، مولویوں ” کی جاگیرداری ، رجعت پسندی ، قدامت پرستی اور ترقی پسند مخالف روش پر اتنی سخت تنقید کی تھی کہ یہ اپنے گھروں میں باغی کہلائے تھے۔ یہی معاملہ سبط حسن کے ساتھ بھی تھا۔ کیفی اعظمی کی طرح انہوں نے بھی اپنے والدین کی جانب سے ان کو ” شیعہ مجتہد‘ بنانے کی کوششوں کے خلاف بغاوت کرڈالی تھی۔ وہ شیعہ مولوی بڑی ” نفرت ” سے دیکھا کرتے تھے لیکن ” عاشوراء اور کربلاء ” سے ان کی وابستگی قائم و دائم رہی۔ سبط حسن کو ایک انٹرویو کرنے والے نے پوچھا تھا کہ کہا جاتا ہے ایک شیعہ کچھ بھی ہوجائے مگر ” اہل بیت ” کو نہیں چھوڑتا۔اس کے ہاں سے شیعت نہیں جاتی تو سبط حسن نے جواب دیا کہ ” شیعت ” سے مراد اگر اپنی ” آزادی ” پر اصرار اور ظلم وستم کے خلاف جدوجہد کرتے رہنا اور حسین کو ظلم کے خلاف ایک روشن استعارہ ماننا ہے تو اس اعتبار سے شیعت ان کے ہاں موجود ہے۔ اور اس سے مراد اگر ” کربلاء ” کے تہذیبی و ثقافتی استعاروں کی ” عالمگیریت ” کو تسلیم کرنا ہے تو یہ ” شیعت ” بھی ان کے ہاں موجود ہے لیکن اگر اس سے مراد وہ ” رجعت پرستی ، تاریک خیالی ، جاگیردار اشرافیت کی پوجا اور مذہبی جذبات کا استحصال ہے جو شیعی مذہبی پیشوائیت کے ہاں ” سنّی مذہبی پیشوائيت ” کی طرح پائی جاتی ہے تو ان کے ہاں ایسی کسی ” تھیوکریسی ” کی گنجائش نہیں۔ اور اسے وہ ترقی پسندی کے منافی خیال کرتے ہیں۔ سبط حسن نے ” شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور شاہ عنایت ٹھٹھوی پر جو کام کیا اور پھر انہوں نے زیڈ اے سلہری کی جانب سے ” سیکولر ازم ” کو لادینیت قرار دینے اور اس کے مغربی تصور ہونے کے حق میں شائع ہونے والے مضامین کا جواب تحریر کرتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کی تاريخ میں صوفیاء کے ہاں سے ” سیکولر روایت ” کو اپنے مضامین ميں جیسے واضح کیا وہ بھی ترقی پسندوں کی مبینہ ” مذہبیت ” کے تصور کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ علی سردار جعفری نے ” کبیر بانی ” کو مرتب کرتے ہوئے اس کے آغاز میں جو مقدمہ لکھا وہ بھی ترقی پسندوں کے سیکولر ازم اور ان کے ہاں پائی جانے والی اس ” مذہـبیت ” کو بہت کھل کر بیان کرتا ہے جس کے بعض ٹکڑوں کو لے کر ” محرم ” پر ترقی پسندوں کی روش کا مذاق اڑانے والوں اور مجالس عزا و جلوس میں ان کی شرکت پر طعن کرنے والوں اس مرتبہ تاریخ اور ترقی پسندی کو مسخ کرنے کا خوب موقع ملا ہے۔
اہل بیت اور آل محمد کے ساتھ ترقی پسندوں کی وابستگی اور ملامتی صوفیاء و وحدت الوجودی صوفیآء سے ان کی شیفتگی ان کے ترقی پسندی اور روشن خیالی کا جزو لاینفک ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ان کی ترقی پسندی کہیں آسمان سے نہیں ٹپکی بلکہ اس کی جڑیں ان کے اپنے کلچر اور تہذیب میں پیوست ہیں اور سجاد ظہیر نے جیل میں بیٹھ کر ” تذکرہ حافظ ” جو تحریر کی۔ اس کا ایک ضمنی مقصد ان ترقی پسندوں کو بھی جواب دینا تھا جو ‘ ہر پرانی شئے ” کو رجعت پرستی اور متروک کہہ کر مسترد کررہے تھے اور ” ظ انصاری ” کو بھی اس کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ ترقی پسند کربلاء کے ترقی پسند عالمی استعارے کو کن معنوں میں لیتے تھے۔ مجھے یہاں پر علی سردار جعفری کی ایک نظم یاد آرہی ہے اور اسے آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا بھی چاہوں گا۔
پھر العطش کی ہے صدا
جیسے رجز کا زمزمہ
پھر ریگِ صحرا پر رواں
ہے اہلِ دل کا کارواں
نہرِ فرات آتش بجاں
راوی و گنگا خوں چکاں
کوئی یزیدِ وقت ہو
یا شمر ہو یا حرملہ
اس کو خبر ہو یا نہ ہو
روزِ حساب آنے کو ہے
نزدیک ہے روزِ جزا
اے کربلا! اے کربلا!
گونگی نہیں ہے یہ زمیں
گونگا نہیں یہ آسماں
گونگے نہیں حرف و بیاں
گونگی اگر ہے مصلحت
زخموں کو ملتی ہے زباں
وہ خوں جو رزقِ خاک تھا
تابندہ ہے پائندہ ہے
صدیوں کی سفاکی سہی
انسان اب بھی زندہ ہے
ہر ذرۂ پامال میں
دل کے دھڑکنے کی صدا
اے کربلا! اے کربلا!
عرشِ رعونت کے خدا
ارضِ ستم کے دیوتا
یہ ٹین اور لوہے کے بت
یہ سیم و زر کے کبریا
بارود ہے جن کی قبا
راکٹ کی لے جن کی صدا
طوفانِ غم سے بے خبر
یہ کم سواد و بے ہنر
نکلے ہیں لے کے اسلحہ
لیکن جل اٹھی زیرِ پا
ریگِ نواحِ نینویٰ
آندھی ہے مشرق کی ہوا
شعلہ فلسطیں کی فضا
اے کربلا! اے کربلا!
یہ مدرسے، دانش کدے
علم و ہنر کے میکدے
ان میں کہاں سے آ گئے
یہ کرگسوں کے گھونسلے
یہ جہل کی پرچھائیاں
لیتی ہوئی انگڑائیاں
دانشورانِ بے یقیں
غیروں کے دفتر کے امیں
الفاظ کے خواجہ سرا
ان کے تصرف میں نہیں
خونِ بہارِ زندگی
برہم ہے ان سے رنگِ گل
آزردہ ہے بادِ صبا
اے کربلا! اے کربلا!
لیکن یہی دانش کدے
ہیں عشق کے آتش کدے
ہیں حسن کے تابش کدے
پلتے ہیں جن کی گود میں
لے کر انوکھا بانکپن
عصرِ رواں کے کوہکن
میرے جوانانِ چمن
بلبل نوا، شاہیں ادا
اے کربلا! اے کربلا!
اے غم کے فرزندو اٹھو
اے آرزومندو اٹھو
زلفوں کی گلیوں میں رواں
دل کی نسیمِ جاں فزا
ہونٹوں کی کلیوں میں جواں
بوئے گل و بوئے وفا
آنکھوں میں تاروں کی چمک
ماتھوں میں سورج کی دمک
دل میں جمالِ شامِ غم
رخ پر جلالِ بے نوا
گونجی ہوئی زیرِ قدم
تاریخ کی آوازِ پا
شمشیر ہیں دستِ دعا
اے کربلا! اے کربلا!
پیاسوں کے آگے جائیں گے
آئیں گے، لائیں جائیں گے
آسودگانِ جامِ جم
سب صاحبانِ بے کرم
کھل جائے گا سارا بھرم
جھک جائیں گے تیغ و الم
پیشِ سفیرانِ قلم
رخشندہ ہے روحِ حرم
تابندہ ہے روئے صنم
سردار کے شعروں میں ہے
خونِ شہیداں کی ضیا
اے کربلا! اے کربلا!
(علی سردار جعفری)
تو زرا دیکھ لیں کہ علی سردار جعفری کے ہاں ” کربلاء ، کربلاء ” کی صدا کے معانی کیا ہیں۔
کوئی یزیدِ وقت ہو
یا شمر ہو یا حرملہ
اس کو خبر ہو یا نہ ہو
روزِ حساب آنے کو ہے
نزدیک ہے روزِ جزا
اے کربلا! اے کربلا
اور کربلاء حزن اور گریہ کا استعارہ بھی ہے۔ فیض صاحب کہتے ہیں ترقی پسندوں کی محرم اور عاشوراء سے وابستگی پر تنقید کی آڑ میں اصل میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر عاشوراء اور مجالس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کی ایک تحلیل نفسی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کے موقف او تکفیری فاشسٹوں کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور یہ سب کام یہ ٹولہ کہیں ” فرقہ واریت ” کے خاتمے کے نام پر کررہا ہے تو کہیں یہ ” ترقی پسندی ” کے جھنڈے تلے آکر اور کہیں یہ ” اشتراکیت ” کا جھنڈا اٹھاکر اور کہیں یہ ” سچا اور دورمند ” مذہبی بن کر کررہا ہے۔

Facebook Comments