September 7, 2019 at 2:11 pm

تحریر عامر حسینی

واقعات کربلاء کو دیکھنے کے تین بنیادی پہلو ہیں۔
ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے جمہور کے نزدیک مذہبی ایام ہیں جو اُن کے نزدیک انتہائی مقدس دن ہیں۔
جمہور مسلمانوں کے ہاں یہ ایام تذکرہ شہیدان کربلاء کے ایام ہیں۔
اہلسنت میں جمہور دیوبندی اوراہل حدیث ان ایام میں یوم عاشور پر اور ان ایام کے دوران جمعہ کی تقریبات میں شہادت امام حسین کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہیں اور اُن کی مظلومانہ شہادت پر دُکھ اور غم کا اظہار اپنے طریقے سے کرتے ہیں، اُن کے ہاں. نہ تو نیاز ہے، نہ ختم ہے اور نہ ہی لنگر و سبیل ہے۔
اہل حدیث کے ہاں تو ایصال ثواب الی المیت کا تصور نہیں ہے صرف دعا ہے اور بعض صورتوں میں صدقات ہیں۔
جمہور دیوبندی سنیوں کے ہاں بدنی عبادات کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے اور وہ اس طرح سے قرآن پڑھ کر ثواب پہنچانے کے قائل ہیں۔
صوفی سُنی مسلمان جو کہ عُرف عام مین بریلوی کہے جاتے ہیں(اگرچہ بہت سارے لوگ خود کو بریلوی نہیں کہتے) عاشورا کے ایام میں نہ صرف نیاز، لنگر حسینی، تذکرہ شہادت امام حسین، سبیل لگاتے ہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں وہ عاشورا کے روز باقاعدہ تعزیے، شبیہ وغیرہ بھی نکالتے ہیں اور ہندوستان، بنگلہ دیش میں کئی ایک شہروں میں وہ دسویں محرم کو جلوس بھی نکالتے ہیں۔
اگرچہ اہلسنت سب کے سب ماتم، زنجیر زنی نہیں کرتے لیکن جمہور اہلسنت کے نزدیک ( سب ہی جمہور گروہ یعنی صوفی سنی، دیوبندی اور اھل حدیث) کے ہاں عاشورا پر غم منانا، گریہ کرنا یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے

تو محرم الحرام کی ایک مذھبی جہت ہے جو اہل تشیع اور اہل سنت کے جمہور کا شعار ہے۔
اب جن لوگوں کے نزدیک مذہب، فرقے یہ سب لوگوں کے ذاتی معاملات ہیں اُن کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایام محرم الحرام چونکہ اہل سنت اور اہل تشیع کے مقدس دن ہیں تو وہ ان ایام کا احترام کریں جیسا کہ وہ دوسرے مذاھب کے ماننے والوں کے ایام ہائے حزن و مسرت پر کہتے ہیں۔-
واقعہ کربلاء کی دوسری
جہت اور بھی ہے، اور وہ جہت ہے اس واقعہ کا عالمگیر صبر، استقامت، استقلال، مزاحمت، انکار اور حریت فکر کے لازوال عالمگیر استعارے میں بدل جانا۔
دُنیا بھر کے دانشوروں، انقلابیوں، عالمی و علاقائی و قومی سطح کے سیاست دانوں، ادیبوں، شاعروں کے ہاں یہ واقعہ ایک رزمیہ، ایک ایپک کی شکل اختیار کرگیا ہے، وہ اس واقعہ کی جو مذہبی جہت ہے اُس سے سروکار تو نہیں رکھتے لیکن وہ اس جہت کو ایک مذھب کے پیروکارو‍ں کے مذھبی شعار جان کر اپنی سیکولر روایت کی روشنی میں احترام بخشتے ہیں اور جبکہ اس واقعہ کی عالمگیر جہت کے تحت اسے بطور حریت فکر کے لیتے ہیں۔
واقعات کربلا کی تیسری اہم جہت کا تعلق برصغیر کی ثقافت سے جُڑا ہوا ہے- عاشورا ایک مشترکہ تیوہار میں بدلا ہے اور یہ تیوہار یہاں کی مقامی ریت، روایتوں اور غم، سوگ، ملال کے اظہار کے پہلے سے موجود طریقوں کو باہر سے آنے والی چیزوں سے گُھل مل کر بنا ہے اور اسے برصغیر کا مشترکہ ثقافتی ورثے کا حصہ کہتے ہیں، اس میں شیعہ، سُنی، ہندؤ،سکھ، مسیحی، پارسی، کمیونسٹ، سوشلسٹ ملحد ،غیر ملحد سیکولر ( ناستک،آستک) سب کے اہل فن،ہنرمندوں ادیبوں،شاعروں، اسکالرز اور عوامی طبقات نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور تبھی یہ ہمارے کمپوزٹ کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔
دوسری اور تیسری جہت کو جب کوئی سیکولر ناستک یا سیکولر کمیونسٹ یا سیکولر لبرل فرد یا گروہ نظر انداز کرکے اپنے ہی کسی ساتھی یا ہم خیال کی محرم کے موضوع پر اس کی عالمگیر استعاراتی یا برصغیر کے کمپوزٹ کلچر کے اہم جزو ہونے کے حوالے سے موافق بات یا عمل پر پھبتی کَستا ہے یا اُسے طعنہ دیتا ہے تو وہ ایک طرف تو اپنے سیکولر ہونے کے دعوے کی نفی کرتا ہے اور دوسری جانب وہ خود بھی تکثریت پسندی (Pluralistic) ہونے کے دعوے کے الٹ یک نوعی ( monolithic) ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

کسی سیکولر ملحد، سیکولر لبرل یا سیکولر کمیونسٹ کی جانب سے ریشنلٹی یا پھر معشیت یا مخصوص طبقاتی اصطلاحوں کی زبردستی خودساختہ تخفیف پسندانہ ( reductionist) تشریحات اُس وقت زیادہ خطرناک بن جاتی ہیں جب کسی مذھبی کمیونٹی کی پراسیکوشن ہورہی ہو اور اس کی بنیاد اس کمیونٹی کے خاص شعار پر ہو جیسے اہل تشیع کا شعار محرم کے جلوس، مجالس عزا وغیرہ ہیں۔ تو ایسا تخفیف پسندانہ رجحان جس میں تضحیک اور
Mocking
بدرجہ اتم شامل ہو اکسی بھی مذہبی جبر کے شکار گروہ یا قوم کو مزید جبر کی طرف دھکیل دیتی ہے اور اس مجبور و مطلوم گروہ سے الگ لوگوں کے اندر ایک بے نیازی کو جنم دے ڈالتی ہے۔
ہندوستان، بنگلہ دیش میں کمپوزٹ کلچر پر کافی کام ہوا ہے اور وہاں سیکولر فورسز کمپوزٹ کلچر کی بقا کے لیے مسلسل جدوجہد کررہی ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا جو سیکولر ناستک، سیکولر لبرل اور سیکولر کمیونسٹ دانشور ایکٹوسٹ ہے وہ خاص طور پر کمپوزٹ کلچر میں جو مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے تیوہار ہیں خاص طور پر میلاد اور عاشورا اس بارے اُس کا رویہ اپنی ہی روایات کے برعکس ہے اور وہ ایک اور طرح سے جاکر
Religious fascists forces
Religious based exclusionary elements
Acultural or anti-pluralism based on exclusive and excommunicated tendencies
کو تقویت بخش دیتا ہے۔-
ایک سیکولر اقدار کا مالک شخص چاہے وہ ناستک ہی کیوں نا ہو وہ اگر کسی مذھبی کمیونٹی کو اُن کے اپنے شعار، رسوم رواج کے مطابق ذندگی گزارنے اور مذھب کو لوگوں کا نجی معاملہ سمجھنے کی بجائے اُس کمیونٹی کو ایسا کرنے نہ کرنے کی تبلیغ چاہے سیکولر ازم کے نام پر ہی کیوں نہ کرتا ہو وہ سیکولر اقدار کی نفی کرتا ہے۔
حسین سب کا

Facebook Comments