September 7, 2019 at 10:23 am

تحریر عمران اطہر
صحافت کا شعبہ اختیار کرنا ایساہے ہی جیسے انسان اپنی تمام خوشیوں اور خواہشوں کا قتل کرکے خود تختہ دار پر چڑھ جائے۔ یہ اس لیے نہیں کہا جاتا کہ یہ کام مشکل ہے یا کوئی مسئلہ ہے بلکہ جس چینل سے ہماری وابستگی ہوتی ہے دن رات کی تفریق کے علاوہ اس کو آگے لانے کی اس دوڑ میں سب سے زیادہ تیز بھاگنے والا شخص موسم نا مصائب حالات کی پرواہ کئے بغیر سب سے آگے دوڑ رہا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خبر میرے چینل پر نشرر ہو۔ یہ عزم لیے صحافی اپنا خون پسنہ ہمہ وقت ایک کئے ہوتاہے۔
صحافی کا کردار انتہائی اہم اور اس کے ساتھ رکھا جانےوالا رویہ انتہائی غیر مناسب اور غیر انسانی رہاہے۔یہ وہی صحافی ہیں جو اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں لیکن نتیجے میں چینل کے مالکان اور ادارے کےاہم عہدے پر فائز افراد اس کے زخمی ہونے کا ٹکربھی اس وقت چلاتے ہیں جب واٹس ایپ کے گروپس میں اس کے خون کی کمی کے لے درخواستیں دوست کرتے نظر آتے ہیں۔
یکم سمبر 2008 میں ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل سے وابستہ ہوا اس سے قبل پرائیوٹ کا تجربہ بلکل بھی نہیں تھا۔ شاید چینل نیا تھا اس لیے بھی ہر بات ہر چیز کو یوں نظر انداز کرتارہاہے سب ٹھیک ہوجائے گا سب بہتر ہوگا چینل اسٹیبلش ہوجائےتمام مسائل حل ہوجائے گے۔ ہمیں ڈی ایس این جی کے لیے دو ٹیکنیشن بچے ملے تھے جو کہ دونوں انتہائی مہذب اور اعلٰی کردار کے مالک بچے تھے ایک نے انٹر کیا ہوا تھا جبکہ دوسرا نے پرائیوٹ میٹرک کا امتحان دینے کا سوچ رہا تھا۔
مزے کی بات یہ دونوں بچے محنت کرتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم بھی مکمل کرتے رہے آج دونوں ایم اے ابلاغیات ہیں لیکن دو دن پہلےشام کے وقت ڈان نیوز کے رپورٹر غالب نہاد کا میرے پاس فون آیا کہ عمران بھائی بم دھماکے میں دنیا نیوز کے رپورٹر ابرار احمد اور سید رحمت علی شدید زخمی ہوگئے ہیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا جارہاہے ۔پھر میں بار بار غالب سے انکی صحتیابی کے لیے اپ ڈیٹ لیتا رہاہوں ۔۔۔۔مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے چینل کے اہم ذمہ داروں کو مسیج میں کہا کہ سر ایک درخواست ہے کہ یہ دونوں بچے جو زخمی ہوئے ہیں ان کا خیال کریں وہ بہت تکلیف میں ہیں اور یہ لوگ آپ کے چینل کی بیک بون ہیں میں انکے اعلی ٰ کردار اور قابل ستائش اقدام پر انہییں سراہتا ہوں انہوں نے میسج پر ساری تفصیلات مجھ سے لی اور کہا کہ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہوجائےگا۔ کوئٹہ میں خیزی چوک بم دھماکے میں دنیا نیوز کے رپورٹر ابرار احمد اور سید رحمت علی شدید زخمی ہوگئے تھے ابرار احمد کو سیول اسپتال منتقل کیا گیا۔ سید رحمت علی کو بی ایم سی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پھر انہیں سی ایم ایچ لے جایا گیا۔ اس دوران دنیا نیوز کےرپورٹر فریداللہ سے بات ہوئی تو انہوں نے دونوں کی صورت حال سے مجھے آگاہ کیا۔ کل ان دونوں کو کراچی آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ میرے سامنے ابرار احمد اور سید رحمت علی کا ماضی میں چینل کےلیے کیاگیا کام ہمیشہ قابل ستائش رہاہے۔ دونوں انتہائی محنتی پر خلوص ایماندار اور اعلیٰ تہذیب کے مالک نوجوان ہیں ۔ان سے ذاتی وابستگی کے علاوہ یہ دونوں بہترین پروفیشنل ہیں جن کی فیلڈ میں ہر کوئی تعاریف کرتادیکھائی دیتاہے۔
ابرار احمد کو میں نے کراچی سے فون کیا میں نے کہا پتا لگا ہے کافی چینل سے لوگ نکال رہے ہیں آپ لوگوں کی تو خیر ہے اس نے کہا جی ہاں یہاں بلکل خیر ہے مجھے یہ سن کربے حد خوشی ہوئی کاش اس ملک کو کوئی نوجوان بھی بے روزگار نہ ہو۔
لیکن دکھ اس بات کاہے جس چینل کے لیے ہمارے دوست جان پر کھیل جاتے ہیں وہی چینل معاشی بحران کا کہہ کر ایک سیکنڈ میں ادارے کو دیئے گئے خون پسینے کو فراموش کرتے ہوئے نکال لیتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ 25 سے تیس ہزار کی نوکری کرنے والےصحافی آخر کہاں جائے اور کس طرح سے اپنے خلوص اور وفا کا ثبوت دے کہ ہم ادارے کے ساتھ کھڑےہیں ۔ بلوچستان میں ویسے بھی صحافیوں کو انتہائی کم سیلری کے ساتھ رکھا جاتاہے اور ایسے میں بلوچستان کے امن وامان سے متعلق حالات پھر اس میں صحافت انہتائی مشکل کام ہے ۔۔۔۔ہم ابرار احمد اور سید رحمت علی کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں جلد صحت یاب کریں لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آنے والے مالی بحران میں ادارے کو خون دینے والے یہ صحافی اور ان جیسے کئی اور جو دن رات ادارے کی ترقی اور بہتری کے لیے موسم کی پرواہ کئے بغیر نا مصائب حالات میں فیملی اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر جس نشریاتی ادارے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کیا آنے والےکل میں اس کاحصہ رہے گے کہ نہیں ؟ اس بات کا ہم میں سے کسی کو ادراک نہیں۔

Facebook Comments