September 7, 2019 at 9:17 am

ادیب، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور داستان گو،، اشفاق احمد کو گزرے پندرہ برس بیت گئے،، اردو ادب میں ان جیسی کہانی لکھنے کا فن کسی کے پاس نہیں،، یہی وجہ ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی،، ان کا خلا پر نہ ہو سکا،،، اردو ادب کے شاہکار گڈریا کے خالق ،،، ذومعنی گفتگو اور طرز مزاح سے سننے والوں کو نصیحتیں کرنے والے اشفاق احمد پیدا تو انیس سو پچیس میں ہوئے تھے لیکن ان کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے،، انیس سو تریپن میں افسانہ گڈریا لکھا تو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔اشفاق احمد ایک افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، فلسفی، ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین براڈ کاسٹر بھی تھے،، فنون لطیفہ کے علاوہ انہیں اصلاحی تحریروں اور صوفیانہ ازکار سے خاص لگاو تھا۔ریڈیو پر تلقین شاہ کے نام سے مزاح مزاح میں سماج کی خرابیوں پر ضرب لگاتے تو سامعین مسحور ہو جاتے،، پی ٹی وی پر بہترین قصہ گوئی کے باعث پروگرام زاویہ ناطرین میں بے حد مقبول ہوا،، اسی کی دہائی میں اشفاق احمد وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی رہے ۔باکمال مصنف اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے، اجلے پھول، سفر در سفر، کھیل کہانی، ایک محبت سو ڈرامے اور توتا کہانی جیسے بہترین شاہکار شامل ہیں،، اشفاق احمد تو سات ستمبر دو ہزار چار کورخصت ہو گئے،، لیکن ان کی تحریریں آج بھی انہیں لافانی رکھے ہوئے ہیں،،

Facebook Comments