September 3, 2019 at 8:01 pm

تحریر امبرین زمان خان

امی یہ سب کچھ روزی روٹی کمانے کا طریقہ ہے۔ کوئی بات نہیں اگر محرم میں تمام برینڈز نے کالے کپڑوں کی پروموشن شروع کر دی ہے۔ امی بولیں نہیں بیٹی محرم میں سیاہ لباس سوگ و غم کے لئے پہنا جاتا ہے۔ اور ہم تو محرم میں نئے کپڑے خریدنے تو دور پہنتے بھی نہیں تھے۔ میری اور امی کی سیاہ کپڑوں پر باتیں کافی دیر ہوتی رہیں ۔ اور لمبی چوڑی بحث کے بعد باالاخر امی سے اتفاق کیا کہ اگر لوگ دکھ میں شامل نہیں ہو سکتے تو اس طرح غم کی پروموشن بھی نہ کریں۔ اگر سوچیں تو سچ میں عجیب سا لگتا ہے یہ طریقہ آزمانا کہ لوگ اگر رنگ برنگے کپڑے محرم میں نہیں خریدتے تو چلو سیاہ رنگ سے للچایا جائے۔
ویسے اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔ سوگ اور غم کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ سیاہ رنگ دنیا بھر میں آج بھی انسان دوست لوگوں کا طریقہ یکجہتی اور غم کے اظہار کا طریقہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوگ ،غم اور دکھ میں سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور حقیقت بھی صاف ہے کہ آج کل ستر فیصد لڑکیوں کو پوچھیں کون سا رنگ پسند ہے تو کہتی ہیں بلیک، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ محرم میں سیاہ لباس آوٹ لیٹس پر لائیں کہ جی خرید لیں جس کو سیاہ رنگ پسند ہے۔ بیچیں ضرور لیکن اس دکھ کے مہینے میں تو اس طرح نہ کیا جائے۔
ابونعیم اصفہانی نقل کرتے ہیں کربلا کے دشت نینوا میں جیسے ہی نواسہ رسول حضرت امام حسین کی شہادت کی خبر حضرت ام سلمہ کو ملی تو انہوں نےمسجدالنبی کے گنبد پر سیاہ پارچہ لپیٹ دیا اور خود بھی سیاہ لباس زیب تن کرلیا۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلماںوں میں صرف ایک طبقہ کے علاوہ کوئی اور طبقہ کربلا کے شہیدوں کا غم نہیں مناتا، یہ دکھ سب کا سانجھا ہے۔
میں نے کچھ سے پوچھا کہ آپ کیوں محرم میں کالے کپڑوں سے خواتین کو للچا رہے ہیں۔ آپ کو بھی دکھ کرنا چاہیے۔ تو وہ کہتے ہیں بی بی ہمارا تو یہ کام ہے ہم کسی بھی طریقے سے بیچیں گے اور جب خواتین سے بات ہوئی تو کہتی ہیں بعد میں سلوا لیں گے یہ لوگ کالے کپڑے لاتے ہی محرم میں اچھے ہیں۔

Facebook Comments