September 3, 2019 at 11:22 am

افغانستان کے دارالحکومت میں خودکش کار بم دھماکے سے 16 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ رات کابل کے رہائشی علاقے گرین ولیج کے قریب دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا،،، دھماکے کے ساتھ ہی فیول اسٹیشن میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔ پہلے دھماکے کے بعد ہی ایک اور دھماکا ہوا۔ پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق اس حملے میں 5 افراد شامل تھے جنہیں اسپیشل فورسز نے ہلاک کردیا۔ دھماکا اتنا زور دار تھا کہ علاقے میں کچھ دیر کے لیے اندھیرا چھا گیا۔ دھماکا اس وقت کیا گیا جب افغانستان کے مرکزی ٹی وی اسٹیشن ٹولو نیوز پر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا انٹرویو نشر ہو رہا تھا جس میں وہ طالبان کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کررہے تھے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور اور مسلح افراد آپس میں مسلسل رابطے میں تھے۔ یاد رہے طالبان اور امریکا کے درمیان جولائی 2018 سے دوحہ میں مذاکرات چل رہے تھے اور 22 اگست سے جاری رہنے والا مزاکرات کا نواں دور یکم ستمبر کو مکمل ہوا۔ مزاکرات مکمل ہونے سے پہلے ہی 30 اور 31 اگست کی رات سے طالبان نے افغانستان میں حملے تیز کر دیے۔ قندوز کے بعد لغمان اور پھر کابل پر بھی حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد امن معاہدہ کی توثیق بھی مشکوک ہوتی جارہی ہے۔ افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ اگلے چند روز افغانستان کے امن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

Facebook Comments